کہف · 45/110
ترجمہ تلفظ — کہف
وَٱضۡرِبۡ لَهُم مَّثَلَ ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا كَمَآءٍ أَنزَلۡنَٰهُ مِنَ ٱلسَّمَآءِ فَٱخۡتَلَطَ بِهِۦ نَبَاتُ ٱلۡأَرۡضِ فَأَصۡبَحَ هَشِيمًا تَذۡرُوهُ ٱلرِّيَٰحُۗ وَكَانَ ٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٍ مُّقۡتَدِرًا  ۝٤٥
Wadrib lahum masalal hayaatid dunyaa kamaaa`in anzalnaahu minas samaaa`i fakhtalata bihee nabaatul ardi fa asbaha hasheeman tazroo hur riyaah; wa kaanal laahu `alaa kulli shai`im muqtadiraa
📖 اردو ترجمہ
اور ان سے دنیا کی زندگی کی مثال بھی بیان کردو (وہ ایسی ہے) جیسے پانی جسے ہم نے آسمان سے برسایا۔ تو اس کے ساتھ زمین کی روئیدگی مل گئی۔ پھر وہ چورا چورا ہوگئی کہ ہوائیں اسے اڑاتی پھرتی ہیں۔ اور خدا تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے
📜

ترجمہ — Tafsir

آیت کا ترجمہ:

"اور آپ انہیں دنیا کی زندگی کی مثال دیں، وہ اس پانی کی مانند ہے جسے ہم نے آسمان سے اتارا، پھر اس کے ساتھ زمین کا نباتات مل گیا (یعنی خوب اُگا)، پھر وہ خشک اور ریزہ ریزہ ہو گیا جسے ہوائیں اڑاتی ہیں۔ اور اللہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والا ہے۔"


مفردات (اہم الفاظ کے معانی):

  • "فَاخْتَلَطَ بِهِ": اس (پانی) کے ساتھ مل گیا، یعنی پانی کی وجہ سے زمین کی نباتات باہم گتھم گتھا ہو کر خوب پھیلی اور گھنی ہو گئی۔
  • "هَشِيمًا": خشک، بھربھرا اور ٹوٹا پھوٹا، جو ریزہ ریزہ ہو جائے۔
  • "تَذْرُوهُ الرِّيَاحُ": ہوائیں اسے اڑا کر بکھیر دیتی ہیں، یعنی اس کے ذرات کو ادھر ادھر بٹھا دیتی ہیں۔
  • "مُقْتَدِرًا": کامل قدرت والا، جو ہر چیز پر قادر ہو، نہ کوئی چیز اس سے باہر ہو نہ وہ عاجز ہو۔

تفسیر:

اے نبی! آپ اُن لوگوں کو جو دنیا کی ظاہری رونق پر مغرور ہیں اور اس کی بے ثباتی سے غافل ہیں، دنیا کی حقیقت سمجھانے کے لیے ایک واضح مثال دیں۔ دنیا کی زندگی کی مثال بالکل اس بارش کے پانی جیسی ہے جو ہم نے آسمان سے اتارا۔ جب یہ پانی زمین پر برستا ہے تو زمین سے طرح طرح کی نباتات اگتی ہیں، وہ سبز و شاداب ہو کر آپس میں مل جاتی ہیں، کھیت اور باغات اپنی پوری رونق پر ہوتے ہیں، دیکھنے والا انہیں دیکھ کر خوش ہوتا ہے اور سمجھتا ہے کہ یہ رونق ہمیشہ رہے گی۔ لیکن تھوڑی ہی دیر بعد وہی سرسبز نباتات خشک ہو کر بھربھری ہو جاتی ہیں، پھر ہوائیں ان کے ذرات کو ادھر ادھر اڑا دیتی ہیں، اور زمین پھر ویسی ہی بنجر ہو جاتی ہے جیسی پہلے تھی۔

یہی حال دنیا کی زندگی کا ہے۔ اس کی چمک دمک، مال و دولت، جوانی اور عیش و عشرت سب عارضی ہے۔ آج انسان اپنی طاقت اور خوشحالی پر نازاں ہوتا ہے، لیکن کل ہی وہ سب کچھ بکھر جاتا ہے، موت آتی ہے اور سارا سامان یہیں رہ جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ مثال اس لیے بیان فرمائی تاکہ انسان دنیا کی محبت میں گرفتار نہ ہو اور آخرت کی تیاری کرے۔

یہاں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ ہر چیز پر مکمل قدرت رکھتا ہے۔ وہی زمین کو سرسبز کرتا ہے اور وہی اسے اجاڑ دیتا ہے، وہی زندگی دیتا ہے اور وہی موت دیتا ہے، وہی عزت دیتا ہے اور وہی ذلت دیتا ہے۔ اس کی قدرت کے آگے کوئی چیز عاجز نہیں، نہ کوئی اسے روک سکتا ہے اور نہ کوئی اس کے فیصلے کو ٹال سکتا ہے۔


دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ دنیا کی محبت دل سے نکال کر آخرت کی فکر کریں۔ جو لوگ صرف دنیا کی خوشحالی پر اعتماد کرتے ہیں، وہ اس شخص کی مانند ہیں جو پانی کے بلبلوں پر بھروسہ کرے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں متنبہ کیا ہے کہ یہ دنیا ایک عارضی مسافر خانہ ہے، اصل زندگی آخرت کی ہے جو ہمیشہ رہنے والی ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ اپنی زندگی کو اللہ کی اطاعت، نیک اعمال اور آخرت کی تیاری میں گزاریں، تاکہ اس فانی دنیا کے بعد ہمیشہ کی کامیابی حاصل ہو سکے۔ یاد رکھیں، اللہ کی قدرت کامل ہے، وہ جب چاہتا ہے حالات بدل دیتا ہے، اس لیے ہمیں ہر حال میں اس پر بھروسہ رکھنا چاہیے اور اس کی نافرمانی سے بچنا چاہیے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 43-47 — کہف

43وَلَمۡ تَكُن لَّهُۥ فِئَةٌ يَنصُرُونَهُۥ مِن دُونِ ٱللَّهِ وَمَا كَانَ مُنتَصِرًا 
(اس وقت) خدا کے سوا کوئی جماعت اس کی مددگار نہ ہوئی اور نہ وہ بدلہ لے سکا
44هُنَالِكَ ٱلۡوَلَٰيَةُ لِلَّهِ ٱلۡحَقِّۚ هُوَ خَيۡرٌ ثَوَابًا وَخَيۡرٌ عُقۡبًا 
یہاں (سے ثابت ہوا کہ) حکومت سب خدائے برحق ہی کی ہے۔ اسی کا صلہ بہتر اور (اسی کا) بدلہ اچھا ہے
45وَٱضۡرِبۡ لَهُم مَّثَلَ ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا كَمَآءٍ أَنزَلۡنَٰهُ مِنَ ٱلسَّمَآءِ فَٱخۡتَلَطَ بِهِۦ نَبَاتُ ٱلۡأَرۡضِ فَأَصۡبَحَ هَشِيمًا تَذۡرُوهُ ٱلرِّيَٰحُۗ وَكَانَ ٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٍ مُّقۡتَدِرًا 
اور ان سے دنیا کی زندگی کی مثال بھی بیان کردو (وہ ایسی ہے) جیسے پانی جسے ہم نے آسمان سے برسایا۔ تو اس کے ساتھ زمین کی روئیدگی مل گئی۔ پھر وہ چورا چورا ہوگئی کہ ہوائیں اسے اڑاتی پھرتی ہیں۔ اور خدا تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے
46ٱلۡمَالُ وَٱلۡبَنُونَ زِينَةُ ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَاۖ وَٱلۡبَٰقِيَٰتُ ٱلصَّٰلِحَٰتُ خَيۡرٌ عِندَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَخَيۡرٌ أَمَلًا 
مال اور بیٹے تو دنیا کی زندگی کی (رونق و) زینت ہیں۔ اور نیکیاں جو باقی رہنے والی ہیں وہ ثواب کے لحاظ سے تمہارے پروردگار کے ہاں بہت اچھی اور امید کے لحاظ سے بہت بہتر ہیں
47وَيَوۡمَ نُسَيِّرُ ٱلۡجِبَالَ وَتَرَى ٱلۡأَرۡضَ بَارِزَةً وَحَشَرۡنَٰهُمۡ فَلَمۡ نُغَادِرۡ مِنۡهُمۡ أَحَدًا 
اور جس دن ہم پہاڑوں کو چلائیں گے اور تم زمین کو صاف میدان دیکھو گے اور ان (لوگوں کو) ہم جمع کرلیں گے تو ان میں سے کسی کو بھی نہیں چھوڑیں گے
کہفقرآن فہرست
110آیت
مکیRevelation
45آیت

ترجمہ — کہف 45

سورہ آیت 45/110 — کہف الكهف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: کہف سنیں, کہف ترجمہ, کہف mp3, کہف pdf. آیت 43–47. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں