ترجمہ — Tafsir
آیت کا ترجمہ:
"اور آپ انہیں دنیا کی زندگی کی مثال دیں، وہ اس پانی کی مانند ہے جسے ہم نے آسمان سے اتارا، پھر اس کے ساتھ زمین کا نباتات مل گیا (یعنی خوب اُگا)، پھر وہ خشک اور ریزہ ریزہ ہو گیا جسے ہوائیں اڑاتی ہیں۔ اور اللہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والا ہے۔"
مفردات (اہم الفاظ کے معانی):
- "فَاخْتَلَطَ بِهِ": اس (پانی) کے ساتھ مل گیا، یعنی پانی کی وجہ سے زمین کی نباتات باہم گتھم گتھا ہو کر خوب پھیلی اور گھنی ہو گئی۔
- "هَشِيمًا": خشک، بھربھرا اور ٹوٹا پھوٹا، جو ریزہ ریزہ ہو جائے۔
- "تَذْرُوهُ الرِّيَاحُ": ہوائیں اسے اڑا کر بکھیر دیتی ہیں، یعنی اس کے ذرات کو ادھر ادھر بٹھا دیتی ہیں۔
- "مُقْتَدِرًا": کامل قدرت والا، جو ہر چیز پر قادر ہو، نہ کوئی چیز اس سے باہر ہو نہ وہ عاجز ہو۔
تفسیر:
اے نبی! آپ اُن لوگوں کو جو دنیا کی ظاہری رونق پر مغرور ہیں اور اس کی بے ثباتی سے غافل ہیں، دنیا کی حقیقت سمجھانے کے لیے ایک واضح مثال دیں۔ دنیا کی زندگی کی مثال بالکل اس بارش کے پانی جیسی ہے جو ہم نے آسمان سے اتارا۔ جب یہ پانی زمین پر برستا ہے تو زمین سے طرح طرح کی نباتات اگتی ہیں، وہ سبز و شاداب ہو کر آپس میں مل جاتی ہیں، کھیت اور باغات اپنی پوری رونق پر ہوتے ہیں، دیکھنے والا انہیں دیکھ کر خوش ہوتا ہے اور سمجھتا ہے کہ یہ رونق ہمیشہ رہے گی۔ لیکن تھوڑی ہی دیر بعد وہی سرسبز نباتات خشک ہو کر بھربھری ہو جاتی ہیں، پھر ہوائیں ان کے ذرات کو ادھر ادھر اڑا دیتی ہیں، اور زمین پھر ویسی ہی بنجر ہو جاتی ہے جیسی پہلے تھی۔
یہی حال دنیا کی زندگی کا ہے۔ اس کی چمک دمک، مال و دولت، جوانی اور عیش و عشرت سب عارضی ہے۔ آج انسان اپنی طاقت اور خوشحالی پر نازاں ہوتا ہے، لیکن کل ہی وہ سب کچھ بکھر جاتا ہے، موت آتی ہے اور سارا سامان یہیں رہ جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ مثال اس لیے بیان فرمائی تاکہ انسان دنیا کی محبت میں گرفتار نہ ہو اور آخرت کی تیاری کرے۔
یہاں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ ہر چیز پر مکمل قدرت رکھتا ہے۔ وہی زمین کو سرسبز کرتا ہے اور وہی اسے اجاڑ دیتا ہے، وہی زندگی دیتا ہے اور وہی موت دیتا ہے، وہی عزت دیتا ہے اور وہی ذلت دیتا ہے۔ اس کی قدرت کے آگے کوئی چیز عاجز نہیں، نہ کوئی اسے روک سکتا ہے اور نہ کوئی اس کے فیصلے کو ٹال سکتا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ دنیا کی محبت دل سے نکال کر آخرت کی فکر کریں۔ جو لوگ صرف دنیا کی خوشحالی پر اعتماد کرتے ہیں، وہ اس شخص کی مانند ہیں جو پانی کے بلبلوں پر بھروسہ کرے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں متنبہ کیا ہے کہ یہ دنیا ایک عارضی مسافر خانہ ہے، اصل زندگی آخرت کی ہے جو ہمیشہ رہنے والی ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ اپنی زندگی کو اللہ کی اطاعت، نیک اعمال اور آخرت کی تیاری میں گزاریں، تاکہ اس فانی دنیا کے بعد ہمیشہ کی کامیابی حاصل ہو سکے۔ یاد رکھیں، اللہ کی قدرت کامل ہے، وہ جب چاہتا ہے حالات بدل دیتا ہے، اس لیے ہمیں ہر حال میں اس پر بھروسہ رکھنا چاہیے اور اس کی نافرمانی سے بچنا چاہیے۔
📜 آیت 43-47 — کہف
ترجمہ — کہف 45
سورہ آیت 45/110 — کہف الكهف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: کہف سنیں, کہف ترجمہ, کہف mp3, کہف pdf. آیت 43–47. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








