ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- صَابِرًا: صبر کرنے والا، برداشت کرنے والا
- لَا أَعْصِي: میں نافرمانی نہیں کروں گا، میں مخالفت نہیں کروں گا
تفسیر:
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حضرت خضر علیہ السلام کے اس شرط پر جب انہوں نے کہا کہ "تم میرے ساتھ صبر نہیں کر سکو گے" تو جواب میں یہ عاجزانہ اور مؤدبانہ الفاظ کہے: "آپ مجھے ان شاء اللہ صبر کرنے والا پائیں گے"۔
غور کیجئے! حضرت موسیٰ علیہ السلام جیسے عظیم پیغمبر، جنہیں اللہ تعالیٰ نے طور پر اپنے کلام سے سرفراز فرمایا، وہ بھی اپنے نفس پر بھروسہ نہیں کرتے بلکہ اللہ کی مشیت کے حوالے کرتے ہیں۔ یہی تواضع اور انکساری ہے جو انبیاء کرام کا شیوہ رہی ہے۔ وہ جانتے تھے کہ صبر کرنے کی توفیق بھی اللہ ہی کی طرف سے آتی ہے، اس لیے انہوں نے "ان شاء اللہ" کہہ کر اپنے عزم کو اللہ کی مشیت کے ساتھ جوڑ دیا۔
پھر انہوں نے مزید کہا: "اور میں آپ کے کسی حکم کی نافرمانی نہیں کروں گا" یعنی جو بھی آپ مجھے حکم دیں گے، میں اسے بجا لاؤں گا، چاہے وہ میرے علم اور فہم کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ یہ ایک شاگرد کا اپنے استاد کے سامنے مکمل سپردگی اور اطاعت کا عہد ہے۔
اس آیت سے ہمیں بہت سے اسباق ملتے ہیں:
- تواضع اور انکساری: انسان کو کبھی اپنی طاقت اور صلاحیت پر مغرور نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ہر معاملے میں اللہ کی مشیت کو مقدم رکھنا چاہیے۔
- ادب اور احترام: جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے استاد کے ساتھ نہایت ادب سے بات کی، ہمیں بھی اپنے اساتذہ اور بڑوں کے ساتھ مؤدب ہونا چاہیے۔
- اطاعت کا عزم: جب ہم کسی نیک کام کے لیے عہد کریں تو اسے پورا کرنے کا پختہ ارادہ رکھیں، اور اللہ سے مدد مانگیں۔
- اللہ پر بھروسہ: ہر معاملے میں "ان شاء اللہ" کہنا سنت ہے، کیونکہ انسان نہیں جانتا کہ کل کیا ہوگا، اور یہی توحید کا تقاضا بھی ہے۔
پیارے بھائیو اور بہنو! آئیے ہم بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اس تعلیم پر عمل کریں، اپنے معاملات میں اللہ پر بھروسہ رکھیں، اپنے اساتذہ کا ادب کریں، اور نیک کاموں میں ثابت قدم رہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں صبر اور اطاعت کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
📜 آیت 67-71 — کہف
ترجمہ — کہف 69
سورہ آیت 69/110 — کہف الكهف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: کہف سنیں, کہف ترجمہ, کہف mp3, کہف pdf. آیت 67–71. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








