کہف · 68/110
ترجمہ تلفظ — کہف
وَكَيْفَ تَصْبِرُ عَلَىٰ مَا لَمْ تُحِطْ بِهِ خُبْرًا ۝٦٨
Wa kaifa tasbiru `alaa maa lam tuhit bihee khubraa
📖 اردو ترجمہ
اور جس بات کی تمہیں خبر ہی نہیں اس پر صبر کر بھی کیوں کرسکتے ہو
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • تَصْبِرُ: صبر کرنا، برداشت کرنا
  • تُحِطْ: احاطہ کرنا، مکمل طور پر جان لینا
  • خُبْرًا: علم، خبر، حقیقت سے آگاہی

تفسیر:

حضرت خضر علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام سے فرما رہے ہیں کہ اے موسیٰ! تم میرے ساتھ صبر کیسے کر سکتے ہو جبکہ میں جو کچھ کروں گا، اس کی حقیقت اور اس کے پس پردہ حکمت تمہیں معلوم نہیں ہوگی؟ تم اپنے علم کے مطابق فیصلہ کرو گے، اور جب تم دیکھو گے کہ میں ایسے کام کر رہا ہوں جو ظاہری طور پر غلط یا نقصان دہ لگتے ہیں، تو تم صبر نہیں کر سکو گے۔

یہ وہ مقام ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک بندے کو ایسا علم عطا کیا تھا جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کو نہیں دیا گیا تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو شریعت کا علم تھا، جبکہ حضرت خضر علیہ السلام کو بعض امورِ غیبیہ اور باطنی حکمتوں کا علم تھا۔ اس لیے حضرت خضر نے پہلے ہی شرط رکھ دی کہ آپ صبر کریں گے اور کسی بات پر سوال نہیں کریں گے، ورنہ علیحدگی ہو جائے گی۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں ایک بہت اہم سبق ملتا ہے کہ انسان کے علم کی انتہا بہت محدود ہے۔ اللہ تعالیٰ کا علم لامحدود ہے، اور وہ اپنے بندوں کے معاملات میں جو کچھ بھی کرتا ہے، اس میں حکمتیں ہوتی ہیں۔ بعض اوقات ہم کسی مصیبت یا پریشانی کو دیکھ کر گھبرا جاتے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ اس میں ہمارے لیے بھلائی چھپا دیتا ہے۔ جیسے حضرت خضر علیہ السلام کے اعمال ظاہری طور پر برے لگ رہے تھے، مگر ان کے پس پردہ بڑی حکمتیں تھیں۔

یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اللہ پر بھروسہ رکھیں، اس کی تقدیر پر راضی رہیں، اور یہ یقین رکھیں کہ اللہ جو بھی کرتا ہے، بہتر ہی کے لیے کرتا ہے۔ صبر کا مطلب یہ نہیں کہ ہم سوال نہ کریں، بلکہ صبر کا مطلب ہے کہ اللہ کے فیصلوں پر راضی رہیں اور اس کی حکمت پر بھروسہ رکھیں۔ یہی وہ صبر ہے جو ہمیں دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی دلاتا ہے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 66-70 — کہف

66قَالَ لَهُ مُوسَىٰ هَلْ أَتَّبِعُكَ عَلَىٰ أَن تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا
موسیٰ نے ان سے (جن کا نام خضر تھا) کہا کہ جو علم (خدا کی طرف سے) آپ کو سکھایا گیا ہے اگر آپ اس میں سے مجھے کچھ بھلائی (کی باتیں) سکھائیں تو میں آپ کے ساتھ رہوں
67قَالَ إِنَّكَ لَن تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا
(خضر نے) کہا کہ تم میرے ساتھ رہ کر صبر نہیں کرسکو گے
68وَكَيْفَ تَصْبِرُ عَلَىٰ مَا لَمْ تُحِطْ بِهِ خُبْرًا
اور جس بات کی تمہیں خبر ہی نہیں اس پر صبر کر بھی کیوں کرسکتے ہو
69قَالَ سَتَجِدُنِي إِن شَاءَ اللَّهُ صَابِرًا وَلَا أَعْصِي لَكَ أَمْرًا
(موسیٰ نے) کہا خدا نے چاہا تو آپ مجھے صابر پایئے گا۔ اور میں آپ کے ارشاد کے خلاف نہیں کروں گا
70قَالَ فَإِنِ اتَّبَعْتَنِي فَلَا تَسْأَلْنِي عَن شَيْءٍ حَتَّىٰ أُحْدِثَ لَكَ مِنْهُ ذِكْرًا
(خضر نے) کہا کہ اگر تم میرے ساتھ رہنا چاہو تو (شرط یہ ہے) مجھ سے کوئی بات نہ پوچھنا جب تک میں خود اس کا ذکر تم سے نہ کروں
کہفقرآن فہرست
110آیت
مکیRevelation
68آیت

ترجمہ — کہف 68

سورہ کہف آیت 68 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور جس بات کی تمہیں خبر ہی نہیں اس پر…

سورہ آیت 68/110 — کہف الكهف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: کہف سنیں, کہف ترجمہ, کہف mp3, کہف pdf. آیت 66–70. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں