کہف · 70/110
ترجمہ تلفظ — کہف
قَالَ فَإِنِ اتَّبَعْتَنِي فَلَا تَسْأَلْنِي عَن شَيْءٍ حَتَّىٰ أُحْدِثَ لَكَ مِنْهُ ذِكْرًا ۝٧٠
Qaala fa init taba`tanee falaa tas`alnee `an shai`in hattaaa uhdisa laka minhu zikraa
📖 اردو ترجمہ
(خضر نے) کہا کہ اگر تم میرے ساتھ رہنا چاہو تو (شرط یہ ہے) مجھ سے کوئی بات نہ پوچھنا جب تک میں خود اس کا ذکر تم سے نہ کروں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • فَإِنِ اتَّبَعْتَنِي: اگر تم میرے ساتھ چلنے کا ارادہ کرو۔
  • فَلَا تَسْأَلْنِي: مجھ سے سوال نہ کرنا، یعنی ابتداءً استفسار نہ کرنا۔
  • حَتَّىٰ أُحْدِثَ لَكَ مِنْهُ ذِكْرًا: جب تک کہ میں خود تمہیں اس کا ذکر نہ کروں، یعنی خود اس کی وضاحت نہ کر دوں۔

تفسیر:

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جب حضرت خضر علیہ السلام سے علمِ لدنی حاصل کرنے کی خواہش ظاہر کی اور ان کی صحبت کا طلب گار ہوئے، تو حضرت خضر علیہ السلام نے ایک شرط رکھی۔ انہوں نے فرمایا: اگر تم میری پیروی کرو گے اور میرے ساتھ رہنا چاہو گے، تو پھر تمہیں یہ عہد کرنا ہوگا کہ تم مجھ سے کسی بھی چیز کے بارے میں سوال نہیں کرو گے، چاہے تمہیں میرا کوئی عمل کتنا ہی عجیب یا ناقابلِ فہم کیوں نہ لگے۔ تم اس وقت تک خاموش رہو گے جب تک کہ میں خود تمہیں اس عمل کی حقیقت اور حکمت نہ بتا دوں۔ یعنی تم صبر کرو اور میرے افعال پر اعتماد کرو، یہاں تک کہ میں خود اس کی وضاحت کروں۔

یہ شرط اس لیے تھی کہ حضرت خضر علیہ السلام کے افعال ظاہری طور پر شریعت کے خلاف نظر آتے تھے، لیکن ان کے پیچھے اللہ کی پوشیدہ حکمتیں تھیں جو صرف اللہ کے برگزیدہ بندوں پر ظاہر ہوتی ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے یہ شرط قبول کر لی، لیکن پھر بھی ان سے تین واقعات پر صبر نہ ہو سکا اور وہ سوال کر بیٹھے، جس کے نتیجے میں ان کی راہِ جدائی ہوئی۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں بہت اہم سبق ملتا ہے کہ علم حاصل کرنے کے لیے صبر اور ادب شرط ہے۔ جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کو علمِ لدنی حاصل کرنے کے لیے خاموشی اور صبر کی شرط قبول کرنی پڑی، اسی طرح ہمیں بھی علمِ دین حاصل کرنے کے لیے اپنے اساتذہ اور علماء کے سامنے ادب اور صبر سے کام لینا چاہیے۔ ہمیں ہر بات پر جلد بازی سے سوال نہیں کرنا چاہیے، بلکہ صبر کرنا چاہیے تاکہ اللہ تعالیٰ خود ہمیں حکمت اور سمجھ عطا فرمائے۔ یہ آیت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ اللہ کے نیک بندوں کے افعال میں بعض اوقات ایسی حکمتیں ہوتی ہیں جو ہماری سمجھ سے باہر ہوتی ہیں، لیکن ہمیں ان پر اعتماد رکھنا چاہیے اور اللہ کی مشیت پر راضی رہنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں صبر اور ادب کی دولت عطا فرمائے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 68-72 — کہف

68وَكَيْفَ تَصْبِرُ عَلَىٰ مَا لَمْ تُحِطْ بِهِ خُبْرًا
اور جس بات کی تمہیں خبر ہی نہیں اس پر صبر کر بھی کیوں کرسکتے ہو
69قَالَ سَتَجِدُنِي إِن شَاءَ اللَّهُ صَابِرًا وَلَا أَعْصِي لَكَ أَمْرًا
(موسیٰ نے) کہا خدا نے چاہا تو آپ مجھے صابر پایئے گا۔ اور میں آپ کے ارشاد کے خلاف نہیں کروں گا
70قَالَ فَإِنِ اتَّبَعْتَنِي فَلَا تَسْأَلْنِي عَن شَيْءٍ حَتَّىٰ أُحْدِثَ لَكَ مِنْهُ ذِكْرًا
(خضر نے) کہا کہ اگر تم میرے ساتھ رہنا چاہو تو (شرط یہ ہے) مجھ سے کوئی بات نہ پوچھنا جب تک میں خود اس کا ذکر تم سے نہ کروں
71فَانطَلَقَا حَتَّىٰ إِذَا رَكِبَا فِي السَّفِينَةِ خَرَقَهَا ۖ قَالَ أَخَرَقْتَهَا لِتُغْرِقَ أَهْلَهَا لَقَدْ جِئْتَ شَيْئًا إِمْرًا
تو دونوں چل پڑے۔ یہاں تک کہ جب کشتی میں سوار ہوئے تو (خضر نے) کشتی کو پھاڑ ڈالا۔ (موسیٰ نے) کہا کیا آپ نے اس لئے پھاڑا ہے کہ سواروں کو غرق کردیں یہ تو آپ نے بڑی (عجیب) بات کی
72قَالَ أَلَمْ أَقُلْ إِنَّكَ لَن تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا
(خضر نے) کہا۔ کیا میں نے نہیں کہا تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہ کرسکو گے
کہفقرآن فہرست
110آیت
مکیRevelation
70آیت

ترجمہ — کہف 70

سورہ کہف آیت 70 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : (خضر نے) کہا کہ اگر تم میرے ساتھ رہنا چاہو…

سورہ آیت 70/110 — کہف الكهف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: کہف سنیں, کہف ترجمہ, کہف mp3, کہف pdf. آیت 68–72. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں