بقرہ · 113/286
ترجمہ تلفظ — بقرہ
وَقَالَتِ الْيَهُودُ لَيْسَتِ النَّصَارَىٰ عَلَىٰ شَيْءٍ وَقَالَتِ النَّصَارَىٰ لَيْسَتِ الْيَهُودُ عَلَىٰ شَيْءٍ وَهُمْ يَتْلُونَ الْكِتَابَ ۗ كَذَٰلِكَ قَالَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ مِثْلَ قَوْلِهِمْ ۚ فَاللَّهُ يَحْكُمُ بَيْنَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ ۝١١٣
Wa qaalatil Yahoodu laisatin Nasaaraa `alaa shai`inw-wa qaalatin Nasaaraaa laisatil Yahoodu `alaa shai`inw`wa hum yatloonal Kitaab; kazaalika qaalal lazeena la ya`lamoona misla qawlihim Yawmal Qiyaamati feemaa kaanoo feehi yakhtalifoon
📖 اردو ترجمہ
اور یہودی کہتے ہیں کہ عیسائی رستے پر نہیں اور عیسائی کہتے ہیں کہ یہودی رستے پر نہیں۔ حالانکہ وہ کتاب (الہٰی) پڑھتے ہیں۔ اسی طرح بالکل انہی کی سی بات وہ لوگ کہتے ہیں جو (کچھ) نہیں جانتے (یعنی مشرک) تو جس بات میں یہ لوگ اختلاف کر رہے خدا قیامت کے دن اس کا ان میں فیصلہ کر دے گا
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • لیست النصارى علىٰ شيء: نصاریٰ کسی صحیح دین پر نہیں ہیں۔
  • وہم یتلون الکتاب: حالانکہ وہ (یہود و نصاریٰ) اپنی کتاب (تورات و انجیل) پڑھتے ہیں۔
  • کذٰلک قال الذین لا یعلمون: اسی طرح وہ لوگ بھی کہہ چکے ہیں جو (حق سے) ناواقف تھے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ اس آیت میں اہل کتاب کے اس تعصب اور ضد کا ذکر فرماتا ہے جو انہوں نے ایک دوسرے کے خلاف کیا۔ یہود نے کہا کہ نصاریٰ کسی صحیح دین پر نہیں ہیں، اور نصاریٰ نے کہا کہ یہود کسی صحیح دین پر نہیں ہیں، حالانکہ دونوں گروہ اپنی اپنی کتابیں پڑھتے تھے جن میں تمام انبیاء پر ایمان لانے کا حکم دیا گیا تھا اور ان کتابوں میں یہ اختلاف اور باہمی تکفیر نہیں تھی۔ ان کی یہ روش دراصل ان لوگوں کی روش سے ملتی جلتی تھی جو جاہل اور حق سے ناواقف تھے، یعنی مشرکین عرب اور ان سے پہلے کی قومیں، جنہوں نے بھی اسی طرح ہر اہل ایمان کو باطل کہا تھا۔

پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ قیامت کے دن وہ خود ان کے درمیان فیصلہ کرے گا، جس میں وہ اختلاف کرتے تھے۔ وہاں حق واضح ہو جائے گا اور ہر شخص کو اس کے اعمال کا بدلہ ملے گا۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ آپس میں اتحاد اور بھائی چارے کو مضبوط رکھیں، اور کسی گروہ یا فرقے کو بلا دلیل باطل قرار دینے سے گریز کریں۔ یہود و نصاریٰ کا آپس میں اختلاف اور ایک دوسرے کی تکفیر ان کے زوال کا سبب بنی، جبکہ اسلام نے مسلمانوں کو ایک ہی صف میں کھڑا کیا ہے، سب نبیوں پر ایمان لانا سکھایا ہے، اور آپس میں محبت و اخوت کا حکم دیا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے دین کو سمجھیں، اس پر عمل کریں، اور اپنے اختلافات کو ختم کر کے اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیں، کیونکہ قیامت کے دن ہر چیز کا فیصلہ اللہ ہی کرے گا، اور وہی سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 111-115 — بقرہ

111وَقَالُوا لَن يَدْخُلَ الْجَنَّةَ إِلَّا مَن كَانَ هُودًا أَوْ نَصَارَىٰ ۗ تِلْكَ أَمَانِيُّهُمْ ۗ قُلْ هَاتُوا بُرْهَانَكُمْ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ
اور (یہودی اور عیسائی) کہتے ہیں کہ یہودیوں اور عیسائیوں کے سوا کوئی بہشت میں نہیں جانے کا۔ یہ ان لوگوں کے خیالاتِ باطل ہیں۔ (اے پیغمبر ان سے) کہہ دو کہ اگر سچے ہو تو دلیل پیش کرو
112بَلَىٰ مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ فَلَهُ أَجْرُهُ عِندَ رَبِّهِ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ
ہاں جو شخص خدا کے آگے گردن جھکا دے، (یعنی ایمان لے آئے) اور وہ نیکو کار بھی ہو تو اس کا صلہ اس کے پروردگار کے پاس ہے اور ایسے لوگوں کو (قیامت کے دن) نہ کسی طرح کا خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے
113وَقَالَتِ الْيَهُودُ لَيْسَتِ النَّصَارَىٰ عَلَىٰ شَيْءٍ وَقَالَتِ النَّصَارَىٰ لَيْسَتِ الْيَهُودُ عَلَىٰ شَيْءٍ وَهُمْ يَتْلُونَ الْكِتَابَ ۗ كَذَٰلِكَ قَالَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ مِثْلَ قَوْلِهِمْ ۚ فَاللَّهُ يَحْكُمُ بَيْنَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ
اور یہودی کہتے ہیں کہ عیسائی رستے پر نہیں اور عیسائی کہتے ہیں کہ یہودی رستے پر نہیں۔ حالانکہ وہ کتاب (الہٰی) پڑھتے ہیں۔ اسی طرح بالکل انہی کی سی بات وہ لوگ کہتے ہیں جو (کچھ) نہیں جانتے (یعنی مشرک) تو جس بات میں یہ لوگ اختلاف کر رہے خدا قیامت کے دن اس کا ان میں فیصلہ کر دے گا
114وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن مَّنَعَ مَسَاجِدَ اللَّهِ أَن يُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ وَسَعَىٰ فِي خَرَابِهَا ۚ أُولَٰئِكَ مَا كَانَ لَهُمْ أَن يَدْخُلُوهَا إِلَّا خَائِفِينَ ۚ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا خِزْيٌ وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ
اور اس سے بڑھ کر ظالم کون، جو خدا کی مسجدوں میں خدا کے نام کا ذکر کئے جانے کو منع کرے اور ان کی ویرانی میں ساعی ہو۔ان لوگوں کو کچھ حق نہیں کہ ان میں داخل ہوں، مگر ڈرتے ہوئے۔ ان کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں بڑا عذاب
115وَلِلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ ۚ فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ وَاسِعٌ عَلِيمٌ
اور مشرق اور مغرب سب خدا ہی کا ہے۔ تو جدھر تم رخ کرو۔ ادھر خدا کی ذات ہے۔ بے شک خدا صاحبِ وسعت اور باخبر ہے
بقرہقرآن فہرست
286آیت
مدنیRevelation
113آیت

ترجمہ — بقرہ 113

سورہ بقرہ آیت 113 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور یہودی کہتے ہیں کہ عیسائی رستے پر نہیں اور…

سورہ آیت 113/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 111–115. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں