اور یہودی کہتے ہیں کہ عیسائی رستے پر نہیں اور عیسائی کہتے ہیں کہ یہودی رستے پر نہیں۔ حالانکہ وہ کتاب (الہٰی) پڑھتے ہیں۔ اسی طرح بالکل انہی کی سی بات وہ لوگ کہتے ہیں جو (کچھ) نہیں جانتے (یعنی مشرک) تو جس بات میں یہ لوگ اختلاف کر رہے خدا قیامت کے دن اس کا ان میں فیصلہ کر دے گا
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
با آنكه كتاب خدا را مىخوانند، يهودان گفتند كه ترسايان بر حق نيند و ترسايان گفتند كه يهودان بر حق نيند. همچنين آنها كه ناآگاهند سخنى چون سخن آنان گويند. خدا در روز قيامت درباره آنچه در آن اختلاف مىكنند، ميانشان حكم خواهد كرد.
اور یہودی کہتے ہیں کہ عیسائی رستے پر نہیں اور عیسائی کہتے ہیں کہ یہودی رستے پر نہیں۔ حالانکہ وہ کتاب (الہٰی) پڑھتے ہیں۔ اسی طرح بالکل انہی کی سی بات وہ لوگ کہتے ہیں جو (کچھ) نہیں جانتے (یعنی مشرک) تو جس بات میں یہ لوگ اختلاف کر رہے خدا قیامت کے دن اس کا ان میں فیصلہ کر دے گا
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
لیست النصارى علىٰ شيء: نصاریٰ کسی صحیح دین پر نہیں ہیں۔
وہم یتلون الکتاب: حالانکہ وہ (یہود و نصاریٰ) اپنی کتاب (تورات و انجیل) پڑھتے ہیں۔
کذٰلک قال الذین لا یعلمون: اسی طرح وہ لوگ بھی کہہ چکے ہیں جو (حق سے) ناواقف تھے۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اس آیت میں اہل کتاب کے اس تعصب اور ضد کا ذکر فرماتا ہے جو انہوں نے ایک دوسرے کے خلاف کیا۔ یہود نے کہا کہ نصاریٰ کسی صحیح دین پر نہیں ہیں، اور نصاریٰ نے کہا کہ یہود کسی صحیح دین پر نہیں ہیں، حالانکہ دونوں گروہ اپنی اپنی کتابیں پڑھتے تھے جن میں تمام انبیاء پر ایمان لانے کا حکم دیا گیا تھا اور ان کتابوں میں یہ اختلاف اور باہمی تکفیر نہیں تھی۔ ان کی یہ روش دراصل ان لوگوں کی روش سے ملتی جلتی تھی جو جاہل اور حق سے ناواقف تھے، یعنی مشرکین عرب اور ان سے پہلے کی قومیں، جنہوں نے بھی اسی طرح ہر اہل ایمان کو باطل کہا تھا۔
پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ قیامت کے دن وہ خود ان کے درمیان فیصلہ کرے گا، جس میں وہ اختلاف کرتے تھے۔ وہاں حق واضح ہو جائے گا اور ہر شخص کو اس کے اعمال کا بدلہ ملے گا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ آپس میں اتحاد اور بھائی چارے کو مضبوط رکھیں، اور کسی گروہ یا فرقے کو بلا دلیل باطل قرار دینے سے گریز کریں۔ یہود و نصاریٰ کا آپس میں اختلاف اور ایک دوسرے کی تکفیر ان کے زوال کا سبب بنی، جبکہ اسلام نے مسلمانوں کو ایک ہی صف میں کھڑا کیا ہے، سب نبیوں پر ایمان لانا سکھایا ہے، اور آپس میں محبت و اخوت کا حکم دیا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے دین کو سمجھیں، اس پر عمل کریں، اور اپنے اختلافات کو ختم کر کے اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیں، کیونکہ قیامت کے دن ہر چیز کا فیصلہ اللہ ہی کرے گا، اور وہی سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔
اور (یہودی اور عیسائی) کہتے ہیں کہ یہودیوں اور عیسائیوں کے سوا کوئی بہشت میں نہیں جانے کا۔ یہ ان لوگوں کے خیالاتِ باطل ہیں۔ (اے پیغمبر ان سے) کہہ دو کہ اگر سچے ہو تو دلیل پیش کرو
ہاں جو شخص خدا کے آگے گردن جھکا دے، (یعنی ایمان لے آئے) اور وہ نیکو کار بھی ہو تو اس کا صلہ اس کے پروردگار کے پاس ہے اور ایسے لوگوں کو (قیامت کے دن) نہ کسی طرح کا خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے
اور یہودی کہتے ہیں کہ عیسائی رستے پر نہیں اور عیسائی کہتے ہیں کہ یہودی رستے پر نہیں۔ حالانکہ وہ کتاب (الہٰی) پڑھتے ہیں۔ اسی طرح بالکل انہی کی سی بات وہ لوگ کہتے ہیں جو (کچھ) نہیں جانتے (یعنی مشرک) تو جس بات میں یہ لوگ اختلاف کر رہے خدا قیامت کے دن اس کا ان میں فیصلہ کر دے گا
اور اس سے بڑھ کر ظالم کون، جو خدا کی مسجدوں میں خدا کے نام کا ذکر کئے جانے کو منع کرے اور ان کی ویرانی میں ساعی ہو۔ان لوگوں کو کچھ حق نہیں کہ ان میں داخل ہوں، مگر ڈرتے ہوئے۔ ان کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں بڑا عذاب
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔