Wa iz qaala Ibraaheemu Rabbij `al haazaa baladan aaminanw warzuq ahlahoo minas samaraati man aamana minhum billaahi wal yawmil aakhiri qaala wa man kafara faumatti`uhoo qaleelan summa adtarruhooo ilaa `azaabin Naari wa bi`salmaseer
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور جب ابراہیم نے دعا کی کہ اے پروردگار، اس جگہ کو امن کا شہر بنا اور اس کے رہنے والوں میں سے جو خدا پر اور روزِ آخرت پر ایمان لائیں، ان کے کھانے کو میوے عطا کر، تو خدا نے فرمایا کہ جو کافر ہوگا، میں اس کو بھی کسی قدر متمتع کروں گا، (مگر) پھر اس کو (عذاب) دوزخ کے (بھگتنے کے) لیے ناچار کردوں گا، اور وہ بری جگہ ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
و ابراهيم گفت: اى پروردگار من، اين شهر را جاى امنى گردان و از مردمش آنان را كه به خدا و روز قيامت ايمان دارند، از هر ثمره روزى ساز. گفت: هر كس كه كافر شد او را اندك برخوردارى دهم، سپس به عذاب آتش دچارش گردانم، كه بد سرانجامى است.
اور جب ابراہیم نے دعا کی کہ اے پروردگار، اس جگہ کو امن کا شہر بنا اور اس کے رہنے والوں میں سے جو خدا پر اور روزِ آخرت پر ایمان لائیں، ان کے کھانے کو میوے عطا کر، تو خدا نے فرمایا کہ جو کافر ہوگا، میں اس کو بھی کسی قدر متمتع کروں گا، (مگر) پھر اس کو (عذاب) دوزخ کے (بھگتنے کے) لیے ناچار کردوں گا، اور وہ بری جگہ ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
بَلَدًا آمِنًا: امن والا شہر، جہاں خوف و خطر نہ ہو۔
الثَّمَرَاتِ: پھل اور پیداوار کی مختلف اقسام۔
فَأُمَتِّعُهُ: میں اسے فائدہ اٹھانے دوں گا، یعنی دنیا کا عارضی سامان دوں گا۔
أَضْطَرُّهُ: میں اسے مجبور کر کے لے جاؤں گا، یعنی بے اختیار اسے دھکیل دوں گا۔
الْمَصِيرِ: انجام اور بازگشت کی جگہ۔
تفسیر:
اے نبی! اس وقت کو یاد کرو جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے رب سے دعا کی تھی۔ انہوں نے کہا: "اے میرے رب! اس مقام (مکہ) کو امن والا شہر بنا دے، اور اس کے رہنے والوں کو طرح طرح کے پھلوں سے رزق عطا فرما، خاص طور پر ان لوگوں کو جو تجھ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں۔" یہ دعا اس لیے تھی کیونکہ مکہ ایک بے آب و گیاہ وادی تھی، جہاں نہ کھیتی تھی نہ درخت، اور حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی اہلیہ اور بیٹے کو اللہ کے حکم سے وہاں چھوڑا تھا۔
اللہ تعالیٰ نے جواب دیا: "جو شخص کفر کرے گا، میں اسے بھی دنیا میں تھوڑا سا فائدہ اٹھانے دوں گا، یعنی اسے بھی رزق دوں گا اور عارضی لذتیں عطا کروں گا، لیکن یہ سب کچھ بہت تھوڑا اور فانی ہے۔ پھر آخرت میں میں اسے مجبوراً جہنم کے عذاب کی طرف دھکیل دوں گا، اور وہ بدترین انجام ہے۔"
یہاں اللہ تعالیٰ نے یہ واضح فرما دیا کہ دنیا کا رزق عام ہے، مومن اور کافر دونوں کو ملتا ہے، لیکن اصل کامیابی آخرت کی ہے۔ جو ایمان لائے گا، اس کے لیے جنت ہے، اور جو کفر کرے گا، اس کا انجام جہنم ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ امن اور رزق اللہ کے خاص فضل ہیں، اور یہ دعا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی امت کے لیے رحمت بن گئی۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے وطن اور شہروں کے لیے امن اور برکت کی دعا کریں، اور ساتھ ہی یہ سمجھیں کہ دنیا کی زندگی بہت مختصر ہے۔ جو شخص اللہ پر ایمان لائے اور نیک عمل کرے، اس کے لیے آخرت میں ہمیشہ کی کامیابی ہے۔ مومن کی پہچان یہ ہے کہ وہ اللہ اور آخرت پر یقین رکھے، اور اس یقین کا تقاضا ہے کہ وہ اپنی زندگی کو اللہ کے حکموں کے مطابق گزارے۔ یہ آیت ہمیں صبر اور دعا کی تعلیم دیتی ہے، اور یہ بھی بتاتی ہے کہ اللہ اپنے بندوں کی دعائیں سنتا ہے اور انہیں قبول فرماتا ہے۔ آئیے ہم بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرح اپنے رب سے امن، رزق اور آخرت کی کامیابی کی دعا کریں، اور اپنے ایمان کو مضبوط کریں تاکہ ہم اللہ کے فضل کے مستحق بن سکیں۔
اور جب پروردگار نے چند باتوں میں ابراہیم کی آزمائش کی تو ان میں پورے اترے۔ خدا نے کہا کہ میں تم کو لوگوں کا پیشوا بناؤں گا۔ انہوں نے کہا کہ (پروردگار) میری اولاد میں سے بھی (پیشوا بنائیو) ۔ خدا نے فرمایا کہ ہمارا اقرار ظالموں کے لیے نہیں ہوا کرتا
اور جب ہم نے خانہٴ کعبہ کو لوگوں کے لیے جمع ہونے اور امن پانے کی جگہ مقرر کیا اور (حکم دیا کہ) جس مقام پر ابراہیم کھڑے ہوئے تھے، اس کو نماز کی جگہ بنا لو۔ اور ابراہیم اور اسمٰعیل کو کہا کہ طواف کرنے والوں اور اعتکاف کرنے والوں اور رکوع کرنے والوں اور سجدہ کرنے والوں کے لیے میرے گھر کو پاک صاف رکھا کرو
اور جب ابراہیم نے دعا کی کہ اے پروردگار، اس جگہ کو امن کا شہر بنا اور اس کے رہنے والوں میں سے جو خدا پر اور روزِ آخرت پر ایمان لائیں، ان کے کھانے کو میوے عطا کر، تو خدا نے فرمایا کہ جو کافر ہوگا، میں اس کو بھی کسی قدر متمتع کروں گا، (مگر) پھر اس کو (عذاب) دوزخ کے (بھگتنے کے) لیے ناچار کردوں گا، اور وہ بری جگہ ہے
اور جب ابراہیم اور اسمٰعیل بیت الله کی بنیادیں اونچی کر رہے تھے (تو دعا کئے جاتے تھے کہ) اے پروردگار، ہم سے یہ خدمت قبول فرما۔ بےشک تو سننے والا (اور) جاننے والا ہے
اے پروردگار، ہم کو اپنا فرمانبردار بنائے رکھیو۔ اور ہماری اولاد میں سے بھی ایک گروہ کو اپنا مطیع بنائے رہیو، اور (پروردگار) ہمیں طریق عبادت بتا اور ہمارے حال پر (رحم کے ساتھ) توجہ فرما۔ بے شک تو توجہ فرمانے والا مہربان ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔