بقرہ · 17/286
ترجمہ تلفظ — بقرہ
مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ الَّذِي اسْتَوْقَدَ نَارًا فَلَمَّا أَضَاءَتْ مَا حَوْلَهُ ذَهَبَ اللَّهُ بِنُورِهِمْ وَتَرَكَهُمْ فِي ظُلُمَاتٍ لَّا يُبْصِرُونَ ۝١٧
Masaluhum kamasalillazis tawqada naaran falammaaa adaaa`at maa hawlahoo zahabal laahu binoorihim wa tarakahum fee zulumaatil laa yubsiroon
📖 اردو ترجمہ
ان کی مثال اس شخص کی سی ہے کہ جس نے (شبِ تاریک میں) آگ جلائی۔ جب آگ نے اس کے اردگرد کی چیزیں روشن کیں تو خدا نے ان کی روشنی زائل کر دی اور ان کو اندھیروں میں چھوڑ دیا کہ کچھ نہیں دیکھتے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • مَثَلُهُمْ: ان کی مثال، ان کا حال
  • اسْتَوْقَدَ: آگ روشن کی، سلگائی
  • أَضَاءَتْ: روشن ہوئی، چمکی
  • ذَهَبَ اللَّهُ بِنُورِهِمْ: اللہ نے ان کا نور لے لیا (ختم کر دیا)
  • ظُلُمَاتٍ: اندھیرے (جمع، کئی طرح کے اندھیرے)
  • لَا يُبْصِرُونَ: وہ دیکھتے نہیں، بصارت سے محروم

تفسیر:

اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں منافقوں کی مثال بیان فرمائی ہے، جو انتہائی واضح اور عبرتناک ہے۔ منافق وہ لوگ ہیں جو ظاہر میں ایمان لائے لیکن دل سے کافر رہے۔ ان کی مثال اس شخص جیسی ہے جس نے اندھیری رات میں آگ روشن کی تاکہ اس کی روشنی سے فائدہ اٹھائے اور راستہ دیکھ سکے۔ جب اس آگ نے اردگرد کے ماحول کو روشن کر دیا اور اسے یقین ہو گیا کہ اب وہ محفوظ ہے، تو اچانک اللہ نے اس کا نور ختم کر دیا اور اسے اندھیروں میں چھوڑ دیا۔ اب وہ نہ تو آگ کی روشنی سے فائدہ اٹھا سکتا ہے اور نہ ہی راستہ دیکھ سکتا ہے، بلکہ حیران و پریشان اندھیروں میں بھٹکتا رہتا ہے۔

یہی حال منافقوں کا ہے۔ انہوں نے ظاہری ایمان کے ذریعے ایک عارضی روشنی حاصل کی، جس سے انہیں مسلمانوں کے ساتھ میل جول، عزت اور دنیاوی فائدے حاصل ہوئے۔ لیکن جب حقیقت کھلے گی — چاہے دنیا میں موت کے وقت یا آخرت میں — تو یہ روشنی چھن جائے گی اور وہ شدید اندھیروں میں رہ جائیں گے۔ ان کے پاس نہ ایمان کی روشنی ہوگی، نہ عمل کی روشنی، نہ ہدایت کی روشنی۔ وہ نہ سیدھا راستہ دیکھ سکیں گے اور نہ نجات کا کوئی ذریعہ پا سکیں گے۔

اس مثال سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے۔ ایمان صرف زبان کا اقرار نہیں، بلکہ دل کا یقین اور اعمال کی اصلاح بھی ضروری ہے۔ جو شخص صرف دکھاوے کے لیے ایمان لاتا ہے، وہ اس شخص کی مانند ہے جس نے عارضی روشنی پر بھروسہ کر لیا، لیکن جب اصل ضرورت پڑی تو وہ روشنی غائب ہو گئی۔

اللہ تعالیٰ ہمیں سچا ایمان عطا فرمائے، جو دل کی گہرائیوں سے ہو اور ہمارے اعمال کو صالح بنائے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے ایمان کو صرف زبانی دعوے تک محدود نہ رکھیں، بلکہ اسے اپنے دلوں میں جگہ دیں اور اپنے اعمال سے ثابت کریں۔ یاد رکھیں، اللہ کے ہاں وہی کامیاب ہے جس کا باطن ظاہر جیسا ہو، اور جس کا دل ایمان کی روشنی سے منور ہو۔ یہ روشنی ہی وہ نور ہے جو دنیا میں ہمیں سیدھا راستہ دکھاتی ہے اور آخرت میں ہمارے لیے روشنی بنے گی۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 15-19 — بقرہ

15اللَّهُ يَسْتَهْزِئُ بِهِمْ وَيَمُدُّهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ
ان (منافقوں) سے خدا ہنسی کرتا ہے اور انہیں مہلت دیئے جاتا ہے کہ شرارت وسرکشی میں پڑے بہک رہے ہیں
16أُولَٰئِكَ الَّذِينَ اشْتَرَوُا الضَّلَالَةَ بِالْهُدَىٰ فَمَا رَبِحَت تِّجَارَتُهُمْ وَمَا كَانُوا مُهْتَدِينَ
یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت چھوڑ کر گمراہی خریدی، تو نہ تو ان کی تجارت ہی نے کچھ نفع دیا اور نہ وہ ہدایت یاب ہی ہوئے
17مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ الَّذِي اسْتَوْقَدَ نَارًا فَلَمَّا أَضَاءَتْ مَا حَوْلَهُ ذَهَبَ اللَّهُ بِنُورِهِمْ وَتَرَكَهُمْ فِي ظُلُمَاتٍ لَّا يُبْصِرُونَ
ان کی مثال اس شخص کی سی ہے کہ جس نے (شبِ تاریک میں) آگ جلائی۔ جب آگ نے اس کے اردگرد کی چیزیں روشن کیں تو خدا نے ان کی روشنی زائل کر دی اور ان کو اندھیروں میں چھوڑ دیا کہ کچھ نہیں دیکھتے
18صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ فَهُمْ لَا يَرْجِعُونَ
(یہ) بہرے ہیں، گونگے ہیں، اندھے ہیں کہ (کسی طرح سیدھے رستے کی طرف) لوٹ ہی نہیں سکتے
19أَوْ كَصَيِّبٍ مِّنَ السَّمَاءِ فِيهِ ظُلُمَاتٌ وَرَعْدٌ وَبَرْقٌ يَجْعَلُونَ أَصَابِعَهُمْ فِي آذَانِهِم مِّنَ الصَّوَاعِقِ حَذَرَ الْمَوْتِ ۚ وَاللَّهُ مُحِيطٌ بِالْكَافِرِينَ
یا ان کی مثال مینہ کی سی ہے کہ آسمان سے (برس رہا ہو اور) اس میں اندھیرے پر اندھیرا (چھا رہا) ہو اور (بادل) گرج (رہا) ہو اور بجلی (کوند رہی) ہو تو یہ کڑک سے (ڈر کر) موت کے خوف سے کانوں میں انگلیاں دے لیں اور الله کافروں کو (ہر طرف سے) گھیرے ہوئے ہے
بقرہقرآن فہرست
286آیت
مدنیRevelation
17آیت

ترجمہ — بقرہ 17

سورہ آیت 17/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 15–19. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں