بقرہ · 18/286
ترجمہ تلفظ — بقرہ
صُمُّۢ بُكۡمٌ عُمۡيٌ فَهُمۡ لَا يَرۡجِعُونَ  ۝١٨
Summum bukmun `umyun fahum laa yarji`oon
📖 اردو ترجمہ
(یہ) بہرے ہیں، گونگے ہیں، اندھے ہیں کہ (کسی طرح سیدھے رستے کی طرف) لوٹ ہی نہیں سکتے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • صُمٌّ: بہرے، جو حق کی آواز سن کر بھی اسے قبول نہ کریں۔
  • بُكْمٌ: گونگے، جو حق بات نہ بول سکیں۔
  • عُمْيٌ: اندھے، جو ہدایت کی روشنی نہ دیکھ سکیں۔
  • لَا يَرْجِعُونَ: وہ لوٹ کر نہیں آتے، یعنی اپنی گمراہی سے باز نہیں آتے۔

تفسیر:

یہ آیت ان منافقوں کے بارے میں ہے جو ظاہر میں مسلمان بنے ہوئے تھے، مگر ان کے دل حق سے خالی تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی مثال ایسے لوگوں سے دی ہے جو بہرے، گونگے اور اندھے ہوں۔ یعنی وہ حق کو سنتے ہیں مگر اس پر غور نہیں کرتے، گویا ان کے کان بہرے ہیں۔ وہ حق بات زبان سے نہیں کہتے، گویا ان کی زبانیں گونگی ہیں۔ اور وہ ہدایت کی روشنی کو دیکھ کر بھی اسے قبول نہیں کرتے، گویا ان کی آنکھیں اندھی ہیں۔

یہ تینوں صفات اس بات کی علامت ہیں کہ انہوں نے خود کو حق سے اس قدر دور کر لیا ہے کہ اب وہ راہِ راست پر واپس نہیں آ سکتے۔ وہ اپنی ضد، ہٹ دھرمی اور تکبر کی وجہ سے ایمان کی طرف لوٹنے کی توفیق کھو چکے ہیں۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ انسان کو چاہیے کہ وہ حق سنتے ہی اسے قبول کر لے، اور اپنے دل کو سختی اور ہٹ دھرمی سے بچائے۔ کیونکہ جو شخص حق سن کر اسے رد کر دیتا ہے، وہ آہستہ آہستہ اس مقام پر پہنچ جاتا ہے کہ اس کا دل مہر لگ جاتا ہے اور وہ ہدایت سے محروم ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم ہمیشہ حق کی آواز پر لبیک کہیں، حق بات کریں اور ہدایت کی روشنی کو اپنے دلوں میں جگہ دیں۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 16-20 — بقرہ

16أُوْلَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ ٱشۡتَرَوُاْ ٱلضَّلَٰلَةَ بِٱلۡهُدَىٰ فَمَا رَبِحَت تِّجَٰرَتُهُمۡ وَمَا كَانُواْ مُهۡتَدِينَ 
یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت چھوڑ کر گمراہی خریدی، تو نہ تو ان کی تجارت ہی نے کچھ نفع دیا اور نہ وہ ہدایت یاب ہی ہوئے
17مَثَلُهُمۡ كَمَثَلِ ٱلَّذِي ٱسۡتَوۡقَدَ نَارًا فَلَمَّآ أَضَآءَتۡ مَا حَوۡلَهُۥ ذَهَبَ ٱللَّهُ بِنُورِهِمۡ وَتَرَكَهُمۡ فِي ظُلُمَٰتٍ لَّا يُبۡصِرُونَ 
ان کی مثال اس شخص کی سی ہے کہ جس نے (شبِ تاریک میں) آگ جلائی۔ جب آگ نے اس کے اردگرد کی چیزیں روشن کیں تو خدا نے ان کی روشنی زائل کر دی اور ان کو اندھیروں میں چھوڑ دیا کہ کچھ نہیں دیکھتے
18صُمُّۢ بُكۡمٌ عُمۡيٌ فَهُمۡ لَا يَرۡجِعُونَ 
(یہ) بہرے ہیں، گونگے ہیں، اندھے ہیں کہ (کسی طرح سیدھے رستے کی طرف) لوٹ ہی نہیں سکتے
19أَوۡ كَصَيِّبٍ مِّنَ ٱلسَّمَآءِ فِيهِ ظُلُمَٰتٌ وَرَعۡدٌ وَبَرۡقٌ يَجۡعَلُونَ أَصَٰبِعَهُمۡ فِيٓ ءَاذَانِهِم مِّنَ ٱلصَّوَٰعِقِ حَذَرَ ٱلۡمَوۡتِۚ وَٱللَّهُ مُحِيطُۢ بِٱلۡكَٰفِرِينَ 
یا ان کی مثال مینہ کی سی ہے کہ آسمان سے (برس رہا ہو اور) اس میں اندھیرے پر اندھیرا (چھا رہا) ہو اور (بادل) گرج (رہا) ہو اور بجلی (کوند رہی) ہو تو یہ کڑک سے (ڈر کر) موت کے خوف سے کانوں میں انگلیاں دے لیں اور الله کافروں کو (ہر طرف سے) گھیرے ہوئے ہے
20يَكَادُ ٱلۡبَرۡقُ يَخۡطَفُ أَبۡصَٰرَهُمۡۖ كُلَّمَآ أَضَآءَ لَهُم مَّشَوۡاْ فِيهِ وَإِذَآ أَظۡلَمَ عَلَيۡهِمۡ قَامُواْۚ وَلَوۡ شَآءَ ٱللَّهُ لَذَهَبَ بِسَمۡعِهِمۡ وَأَبۡصَٰرِهِمۡۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيرٌ 
قریب ہے کہ بجلی (کی چمک) ان کی آنکھوں (کی بصارت) کو اچک لے جائے۔ جب بجلی (چمکتی اور) ان پر روشنی ڈالی ہے تو اس میں چل پڑتے ہیں اور جب اندھیرا ہو جاتا ہے تو کھڑے کے کھڑے رہ جاتے ہیں اور اگر الله چاہتا تو ان کے کانوں (کی شنوائی) اور آنکھوں (کی بینائی دونوں) کو زائل کر دیتا ہے۔ بے شک الله ہر چیز پر قادر ہے
بقرہقرآن فہرست
286آیت
مدنیRevelation
18آیت

ترجمہ — بقرہ 18

سورہ آیت 18/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 16–20. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں