Summa qasat quloobukum mim ba`di zaalika fahiya kalhijaarati aw-ashaadu qaswah; wa inna minal hijaarati lamaa yatafajjaru minhul anhaar; wa inna minhaa lamaa yash shaqqaqu fayakhruju minhul maaa`; wa inna minhaa lamaa yahbitu min khashyatil laa; wa mal laahu bighaafilin `ammaa ta`maloon
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہو گئے۔ گویا وہ پتھر ہیں یا ان سے بھی زیادہ سخت۔ اور پتھر تو بعضے ایسے ہوتے ہیں کہ ان میں سے چشمے پھوٹ نکلتے ہیں، اور بعضے ایسے ہوتے ہیں کہ پھٹ جاتے ہیں، اور ان میں سے پانی نکلنے لگتا ہے، اور بعضے ایسے ہوتے ہیں کہ خدا کے خوف سے گر پڑتے ہیں، اور خدا تمہارے عملوں سے بے خبر نہیں
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
پس از آن دلهاى شما چون سنگ، سخت گرديد، حتى سختتر از سنگ كه از سنگ گاه جويها روان شود، و چون شكافته شود آب از آن بيرون جهد، و گاه از ترس خدا از فراز به نشيب فرو غلتد، و خدا از آنچه مىكنيد غافل نيست.
پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہو گئے۔ گویا وہ پتھر ہیں یا ان سے بھی زیادہ سخت۔ اور پتھر تو بعضے ایسے ہوتے ہیں کہ ان میں سے چشمے پھوٹ نکلتے ہیں، اور بعضے ایسے ہوتے ہیں کہ پھٹ جاتے ہیں، اور ان میں سے پانی نکلنے لگتا ہے، اور بعضے ایسے ہوتے ہیں کہ خدا کے خوف سے گر پڑتے ہیں، اور خدا تمہارے عملوں سے بے خبر نہیں
📜
ترجمہ — Tafsir
ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُكُمْ—پھر تمہارے دل سخت ہو گئے، مِّنۢ بَعْدِ ذٰلِكَ—ان تمام نشانیوں اور معجزات کے بعد جو تم نے دیکھے، فَهِيَ كَالْحِجَارَةِ—پس وہ دل پتھروں جیسے ہو گئے، أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً—بلکہ ان سے بھی زیادہ سخت۔ وَإِنَّ مِنَ الْحِجَارَةِ لَمَا يَتَفَجَّرُ مِنْهُ الْأَنْهَارُ—اور بے شک کچھ پتھر ایسے ہیں جن سے نہریں پھوٹ نکلتی ہیں، وَإِنَّ مِنْهَا لَمَا يَشَّقَّقُ فَيَخْرُجُ مِنْهُ الْمَاءُ—اور کچھ پتھر ایسے ہیں جو پھٹتے ہیں تو ان سے پانی نکلتا ہے، وَإِنَّ مِنْهَا لَمَا يَهْبِطُ مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ—اور کچھ پتھر ایسے ہیں جو اللہ کے خوف سے گر پڑتے ہیں، وَمَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ—اور اللہ تمہارے اعمال سے غافل نہیں ہے۔
اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو بے شمار معجزے دکھائے، مردے زندہ کیے، پتھر سے پانی جاری کیا، منّ و سلویٰ اتارا، مگر ان کے دل ان تمام نشانیوں کے باوجود نرم نہ ہوئے۔ یہ دل سخت ترین پتھروں سے بھی زیادہ سخت ہو گئے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے خود پتھروں کی مثال دے کر انہیں شرمندہ کیا کہ پتھر بے جان ہونے کے باوجود اللہ کے خوف سے گرتے ہیں، ان سے پانی پھوٹتا ہے، وہ پھٹ کر چشمے جاری کرتے ہیں، مگر تمہارے دل نہ پگھلتے ہیں، نہ نرم ہوتے ہیں، نہ اللہ کے ذکر سے لرزتے ہیں۔
یہ آیت ہر اس شخص کے لیے بڑی نصیحت ہے جو اپنے دل کی سختی محسوس کرے۔ دل کی سختی کا علاج یہ ہے کہ قرآن پڑھا جائے، اللہ کا ذکر کیا جائے، نیک لوگوں کی صحبت اختیار کی جائے، اور اپنے گناہوں پر آنسو بہائے جائیں۔ اللہ تعالیٰ نے پتھروں کو بھی اپنی خشیت سے جھکا دیا، تو کیا ہمارے دل جو ایمان کا مرکز ہیں، اللہ کے خوف سے نہیں جھکیں گے؟ یاد رکھیں، اللہ تعالیٰ ہر عمل سے باخبر ہے، کوئی عمل چھوٹا یا بڑا اس سے پوشیدہ نہیں، اور ہر ایک کو اس کا بدلہ ضرور ملے گا۔ اپنے دلوں کو نرم کریں، اللہ کی رحمت کی طرف لوٹ آئیں، کیونکہ اللہ توبہ کرنے والوں سے محبت کرتا ہے اور ان کے گناہ معاف کر دیتا ہے۔
پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہو گئے۔ گویا وہ پتھر ہیں یا ان سے بھی زیادہ سخت۔ اور پتھر تو بعضے ایسے ہوتے ہیں کہ ان میں سے چشمے پھوٹ نکلتے ہیں، اور بعضے ایسے ہوتے ہیں کہ پھٹ جاتے ہیں، اور ان میں سے پانی نکلنے لگتا ہے، اور بعضے ایسے ہوتے ہیں کہ خدا کے خوف سے گر پڑتے ہیں، اور خدا تمہارے عملوں سے بے خبر نہیں
(مومنو) کیا تم امید رکھتے ہو کہ یہ لوگ تمہارے (دین کے) قائل ہو جائیں گے، (حالانکہ) ان میں سے کچھ لوگ کلامِ خدا (یعنی تورات) کو سنتے، پھر اس کے سمجھ لینے کے بعد اس کو جان بوجھ کر بدل دیتے رہے ہیں
اور یہ لوگ جب مومنوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں، ہم ایمان لے آئے ہیں۔ اور جب آپس میں ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں، جو بات خدا نے تم پر ظاہر فرمائی ہے، وہ تم ان کو اس لیے بتائے دیتے ہو کہ (قیامت کے دن) اسی کے حوالے سے تمہارے پروردگار کے سامنے تم کو الزام دیں۔ کیا تم سمجھتے نہیں؟
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔