Afatatma`oona ai yu`minoo lakum wa qad kaana fareequm minhum yasma`oona Kalaamal laahi summa yuharri foonahoo mim ba`di maa`aqaloohu wa hum ya`lamoon
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
(مومنو) کیا تم امید رکھتے ہو کہ یہ لوگ تمہارے (دین کے) قائل ہو جائیں گے، (حالانکہ) ان میں سے کچھ لوگ کلامِ خدا (یعنی تورات) کو سنتے، پھر اس کے سمجھ لینے کے بعد اس کو جان بوجھ کر بدل دیتے رہے ہیں
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
آيا طمع مىداريد كه به شما ايمان بياورند، و حال آنكه گروهى از ايشان كلام خدا را مىشنيدند و با آنكه حقيقت آن را مىيافتند تحريفش مىكردند و از كار خويش آگاه بودند؟
(مومنو) کیا تم امید رکھتے ہو کہ یہ لوگ تمہارے (دین کے) قائل ہو جائیں گے، (حالانکہ) ان میں سے کچھ لوگ کلامِ خدا (یعنی تورات) کو سنتے، پھر اس کے سمجھ لینے کے بعد اس کو جان بوجھ کر بدل دیتے رہے ہیں
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
أَفَتَطْمَعُونَ: کیا تم امید رکھتے ہو؟
فَرِيقٌ: ایک گروہ، ایک جماعت
يَسْمَعُونَ كَلَامَ اللَّهِ: اللہ کا کلام (تورات) سنتے تھے
يُحَرِّفُونَهُ: اسے بدلتے تھے، تحریف کرتے تھے
عَقَلُوهُ: اسے سمجھ چکے تھے، اس کی حقیقت جان چکے تھے
تفسیر:
اے مسلمانو! کیا تم اب بھی یہ توقع رکھتے ہو کہ یہودی تمہاری بات مان لیں گے اور تمہارے دین پر ایمان لے آئیں گے؟ حالانکہ تم ان کی حقیقت اور ان کے ماضی کے حالات سے بخوبی واقف ہو۔ انہوں نے اپنے علماء کے ذریعے اللہ کا کلام یعنی تورات سنا، اسے سمجھا، اس کی حقیقت کو جانا، لیکن پھر بھی انہوں نے اس میں تحریف کی — الفاظ بدلے، معانی کو مسخ کیا، احکام کو الٹا پلٹ دیا۔
یہ کوئی جاہل یا ناسمجھ قوم نہیں تھی جو غلطی سے یہ کام کر بیٹھی ہو، بلکہ وہ جانتے بوجھتے ہوئے، دانستہ طور پر اللہ کے کلام کو مسخ کرتے تھے۔ انہوں نے تورات میں موجود محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات اور نشانیوں کو بھی چھپایا اور بدلا، حالانکہ انہیں خوب معلوم تھا کہ وہ جھوٹ بول رہے ہیں اور اللہ کی کتاب کے ساتھ خیانت کر رہے ہیں۔
پس جب ان کا یہ حال ہے کہ اللہ کا کلام سن کر اسے سمجھنے کے باوجود اسے مسخ کر ڈالتے ہیں، تو کیا تمہیں امید ہے کہ وہ تمہارے پیغام کو قبول کر لیں گے؟ ان کی عادت تو یہی رہی ہے — حق کو سن کر اسے رد کرنا اور اس میں تحریف کرنا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کو تسلی دیتے ہیں کہ اگر یہودی ایمان نہیں لاتے تو مایوس نہ ہوں، کیونکہ ان کی فطرت ہی یہ ہے کہ وہ حق کو سن کر بھی اسے بدل دیتے ہیں۔ یہ ہمارے لیے بھی ایک بڑا سبق ہے کہ ہم اللہ کے کلام یعنی قرآن کو سنیں، سمجھیں اور اس پر عمل کریں، نہ کہ اسے صرف رسمی طور پر پڑھ کر چھوڑ دیں۔ ہمیں اپنے دلوں کو پاک رکھنا چاہیے تاکہ اللہ کا کلام ہمارے دلوں میں اترے اور ہم اسے بدلنے والوں میں شامل نہ ہوں۔ قرآن ہمارے لیے رحمت اور ہدایت ہے، اسے سمجھ کر پڑھیں اور اس پر عمل کریں تاکہ ہم کامیاب ہوں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حق کو سمجھنے اور اس پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہو گئے۔ گویا وہ پتھر ہیں یا ان سے بھی زیادہ سخت۔ اور پتھر تو بعضے ایسے ہوتے ہیں کہ ان میں سے چشمے پھوٹ نکلتے ہیں، اور بعضے ایسے ہوتے ہیں کہ پھٹ جاتے ہیں، اور ان میں سے پانی نکلنے لگتا ہے، اور بعضے ایسے ہوتے ہیں کہ خدا کے خوف سے گر پڑتے ہیں، اور خدا تمہارے عملوں سے بے خبر نہیں
(مومنو) کیا تم امید رکھتے ہو کہ یہ لوگ تمہارے (دین کے) قائل ہو جائیں گے، (حالانکہ) ان میں سے کچھ لوگ کلامِ خدا (یعنی تورات) کو سنتے، پھر اس کے سمجھ لینے کے بعد اس کو جان بوجھ کر بدل دیتے رہے ہیں
اور یہ لوگ جب مومنوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں، ہم ایمان لے آئے ہیں۔ اور جب آپس میں ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں، جو بات خدا نے تم پر ظاہر فرمائی ہے، وہ تم ان کو اس لیے بتائے دیتے ہو کہ (قیامت کے دن) اسی کے حوالے سے تمہارے پروردگار کے سامنے تم کو الزام دیں۔ کیا تم سمجھتے نہیں؟
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔