ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- فَأَلْقَاهَا: اسے (عصا کو) ڈال دیا۔
- حَيَّةٌ: سانپ۔
- تَسْعَىٰ: تیزی سے چلتی ہوئی، دوڑتی ہوئی۔
تفسیر:
جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اپنی عصا کو زمین پر ڈالا، تو وہ فوراً اللہ کے اذن سے ایک بڑے سانپ میں تبدیل ہو گئی جو تیزی سے حرکت کر رہی تھی۔ یہ منظر دیکھ کر حضرت موسیٰ علیہ السلام پر رعب طاری ہو گیا اور وہ اس سے پیچھے ہٹ گئے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ایک عظیم مظاہرہ تھا، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔ بے جان عصا کو وہ زندہ سانپ میں تبدیل کر سکتا ہے، اور یہی وہ معجزہ تھا جو اللہ نے اپنے نبی کو عطا کیا تاکہ وہ فرعون کے سامنے پیش کر سکیں۔
یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت لامحدود ہے اور وہ اپنے بندوں کی مدد ان طریقوں سے کرتا ہے جن کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ جب بندہ اللہ پر مکمل بھروسہ کرتا ہے، تو اللہ اس کے لیے ناممکن کو ممکن بنا دیتا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو یہ معجزہ اس لیے دیا گیا تاکہ وہ فرعون کے سامنے حق پیش کر سکیں، اور یہ ہمارے لیے بھی ایک سبق ہے کہ ہمیں اللہ کی قدرت پر یقین رکھنا چاہیے اور اپنے معاملات میں اس پر توکل کرنا چاہیے۔
یہ واقعہ ایمان کی مضبوطی کا باعث ہے، کیونکہ جب ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ نے اپنے نبی کو ایسا معجزہ عطا کیا، تو ہمارا دل اللہ کی عظمت اور قدرت کے سامنے جھک جاتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگیوں میں اللہ کے احکامات پر عمل کریں اور اس کی رحمت سے امید رکھیں، کیونکہ اللہ اپنے مخلص بندوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔
📜 آیت 18-22 — طہ
ترجمہ — طہ 20
سورہ طہ آیت 20 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : تو انہوں نے اس کو ڈال دیا اور وہ ناگہاں…سورہ آیت 20/135 — طہ طه (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: طہ سنیں, طہ ترجمہ, طہ mp3, طہ pdf. آیت 18–22. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








