ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- أَلْقِهَا: اسے پھینک دو، نیچے رکھ دو۔
- یَا مُوسَىٰ: اے موسیٰ! (یہ ندا محبت اور شفقت کے ساتھ ہے)۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے پیارے نبی حضرت موسیٰ علیہ السلام سے فرما رہے ہیں کہ "اے موسیٰ! اس عصا کو پھینک دو۔" یہ حکم اس وقت دیا گیا جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کو پہلی بار نبوت کے لیے منتخب کیا جا رہا تھا اور وہ مقدس وادی طویٰ میں تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی ربوبیت کا عظیم معجزہ دکھانے کے لیے تیار کیا۔
یہ حکم محض ایک عصا پھینکنے کا نہیں تھا، بلکہ اس میں اللہ کی قدرت کا ایک عظیم نشان تھا۔ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی لاٹھی پھینکی تو وہ اللہ کے حکم سے ایک زندہ سانپ بن گئی، جو آگے بڑھ رہا تھا۔ یہ معجزہ اس لیے تھا تاکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو یقین ہو کہ جو ذات انہیں پیغام دے رہی ہے وہ ہر چیز پر قادر ہے، اور یہ کہ وہ فرعون کے جادوگروں کے مقابلے میں اللہ کے فضل سے کامیاب ہوں گے۔
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جب اپنے بندے کو کوئی حکم دیتا ہے تو وہ حکم بظاہر معمولی ہو سکتا ہے، لیکن اس میں اللہ کی حکمت اور قدرت چھپی ہوتی ہے۔ بندے کو چاہیے کہ وہ اللہ کے حکم پر فوراً عمل کرے، خواہ وہ سمجھ میں آئے یا نہ آئے، کیونکہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس کے بندے کے لیے کیا بہتر ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں اطاعتِ الٰہی کی عظمت نمایاں ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بغیر کسی تردد کے اللہ کے حکم کی تعمیل کی، اور یہی اطاعت ان کی کامیابی کا سبب بنی۔ ہمیں بھی چاہیے کہ اپنی زندگی کے ہر معاملے میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کو بلا چون و چرا قبول کریں۔ جب ہم اپنے آپ کو مکمل طور پر اللہ کے سپرد کر دیں گے تو اللہ ہمیں وہ قوت اور بصیرت عطا فرمائے گا جو دنیا کی کوئی طاقت نہیں دے سکتی۔ یاد رکھیں، اللہ کا ہر حکم ہمارے بھلے کے لیے ہی ہوتا ہے، چاہے ہم اس کی حکمت کو سمجھیں یا نہ سمجھیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے احکام پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
📜 آیت 17-21 — طہ
ترجمہ — طہ 19
سورہ طہ آیت 19 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : فرمایا کہ موسیٰ اسے ڈال دوسورہ آیت 19/135 — طہ طه (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: طہ سنیں, طہ ترجمہ, طہ mp3, طہ pdf. آیت 17–21. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








