ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- ہارون: حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بڑے بھائی، جو نبوت میں ان کے شریک کیے گئے۔
- أخی: میرا بھائی۔
تفسیر آیت:
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی دعا میں اللہ تعالیٰ سے جو کچھ مانگا تھا، اس میں ایک اہم درخواست یہ بھی تھی کہ اے میرے رب! میرے اس کام میں میری مدد کے لیے میرے اہل خانہ میں سے کسی کو میرے ساتھ شریک کر دے۔ اور وہ شخص کوئی اور نہیں بلکہ میرا بھائی ہارون ہے۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے یہ درخواست اس لیے کی کہ فرعون کے سامنے تنہا پیش ہونا ایک بہت بڑا اور مشکل کام تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ ان کے ساتھ کوئی ایسا ساتھی ہو جو ان کی بات کی تائید کرے، ان کی مدد کرے اور اس عظیم ذمہ داری میں ان کا ہاتھ بٹائے۔ ہارون علیہ السلام نہ صرف ان کے بھائی تھے بلکہ بہترین اخلاق، فصیح زبان اور نرم مزاجی کے مالک تھے، اس لیے وہ اس کام کے لیے بہترین انتخاب تھے۔
یہ دعا حضرت موسیٰ علیہ السلام کی عاجزی اور اپنی کمزوری کے احساس کو ظاہر کرتی ہے۔ وہ یہ نہیں سمجھتے تھے کہ وہ خود کافی ہیں، بلکہ انہوں نے اپنے بھائی کو ساتھ لینے کی درخواست کی تاکہ کام آسان ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ دعا قبول فرمائی اور ہارون علیہ السلام کو ان کا وزیر اور شریک نبوت بنایا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت سے اسباق ملتے ہیں۔ سب سے پہلے یہ کہ نیک کاموں میں مدد طلب کرنا کوئی عیب نہیں ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام جیسے عظیم نبی نے بھی اپنے بھائی سے مدد مانگی، تو ہمیں بھی دین کے کاموں میں اپنے اہل خانہ اور دوستوں سے تعاون لینا چاہیے۔ دوسرا یہ کہ بھائی چارے اور رشتہ داری کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ جب کوئی مشکل کام ہو تو اپنے قریبی لوگوں سے مدد لینی چاہیے۔ تیسرا یہ کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی دعائیں سنتا ہے اور انہیں قبول فرماتا ہے، جیسا کہ اس نے موسیٰ علیہ السلام کی دعا قبول کی۔ ہمیں بھی چاہیے کہ ہر کام میں اللہ سے مدد مانگیں اور اپنے مسائل میں اس کی بارگاہ میں دعا کریں۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنے مخلص بندوں کی مدد کرتا ہے اور انہیں کامیابی عطا فرماتا ہے۔
📜 آیت 28-32 — طہ
ترجمہ — طہ 30
سورہ طہ آیت 30 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : (یعنی) میرے بھائی ہارون کوسورہ آیت 30/135 — طہ طه (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: طہ سنیں, طہ ترجمہ, طہ mp3, طہ pdf. آیت 28–32. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








