ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- اشْدُدْ: مضبوط کرو، مضبوط کرو
- أَزْرِي: میری کمر، میری پشت (یہاں مراد تقویت اور مدد ہے)
تفسیر:
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے رب سے دعا کی کہ اے میرے پروردگار! میرے سینے کو کشادہ فرما، میرے کام کو آسان بنا، اور میری زبان کی گرہ کھول دے تاکہ لوگ میری بات سمجھ سکیں۔ پھر انہوں نے ایک اور خاص التجا کی کہ میرے اہل خانہ میں سے میرے بھائی ہارون کو میرا مددگار بنا دے۔
"اشْدُدْ بِهِ أَزْرِي" کا مطلب ہے کہ اے اللہ! ہارون کے ذریعے میری کمر مضبوط فرما، میری پشت کو تقویت دے۔ یہ ایک بلیغ انداز ہے جس میں مدد اور قوت کی درخواست کو اس طرح بیان کیا گیا ہے گویا کوئی شخص اپنی کمر کو مضبوط کرتا ہے تاکہ وہ بھاری بوجھ اٹھا سکے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام فرعون کے ظلم کے خلاف عظیم مشن کی ذمہ داری لے رہے تھے، اس لیے انہوں نے اللہ سے بھائی کی صورت میں معاون مانگا تاکہ وہ اس بھاری ذمہ داری کو بخوبی نبھا سکیں۔
یہ دعا ہمیں سکھاتی ہے کہ جب ہم کسی بڑے کام کا آغاز کریں تو اللہ سے طاقت اور اچھے ساتھیوں کی دعا کریں۔ ہارون علیہ السلام نہ صرف حضرت موسیٰ کے بھائی تھے بلکہ ان کے ساتھ نبوت میں بھی شریک کیے گئے تاکہ وہ مل کر اللہ کی تسبیح کریں، اس کا ذکر کریں اور اس کی حمد بیان کریں۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے حال سے بخوبی واقف ہے اور وہی بہترین مددگار اور معاون ہے۔
یہ آیت مسلمانوں کے لیے ایک عظیم سبق ہے کہ اللہ سے مانگنے میں کوئی عار نہیں، اور بھائی چارگی، اتحاد اور باہمی تعاون سے بڑی سے بڑی مشکل آسان ہو جاتی ہے۔ جب دل میں اللہ کی محبت اور اس کے دین کی سربلندی کا جذبہ ہو تو اللہ اپنے بندوں کی مدد کے لیے ایسے ذرائع پیدا کر دیتا ہے جن کا تصور بھی نہیں ہوتا۔
📜 آیت 29-33 — طہ
ترجمہ — طہ 31
سورہ طہ آیت 31 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اس سے میری قوت کو مضبوط فرماسورہ آیت 31/135 — طہ طه (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: طہ سنیں, طہ ترجمہ, طہ mp3, طہ pdf. آیت 29–33. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








