طہ · 47/135
ترجمہ تلفظ — طہ
فَأْتِيَاهُ فَقُولَا إِنَّا رَسُولَا رَبِّكَ فَأَرْسِلْ مَعَنَا بَنِي إِسْرَائِيلَ وَلَا تُعَذِّبْهُمْ ۖ قَدْ جِئْنَاكَ بِآيَةٍ مِّن رَّبِّكَ ۖ وَالسَّلَامُ عَلَىٰ مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَىٰ ۝٤٧
Faatiyaahu faqoolaaa innaa Rasoolaa Rabbika fa arsil ma`anaa Banee Israaa`eela wa laa tu`azzibhum qad ji`naaka bi Aayatim mir Rabbika wassa laamu `alaa manit taba`al hudaa
📖 اردو ترجمہ
(اچھا) تو اس کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم آپ کے پروردگار کے بھیجے ہوئے ہیں تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے کی اجازت دیجیئے۔ اور انہیں عذاب نہ کیجیئے۔ ہم آپ کے پاس آپ کے پروردگار کی طرف سے نشانی لے کر آئے ہیں۔ اور جو ہدایت کی بات مانے اس کو سلامتی ہو
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • رَسُولَا: ہم دونوں (موسیٰ اور ہارون) تیرے رب کے بھیجے ہوئے ہیں۔
  • فَأَرْسِلْ مَعَنَا بَنِي إِسْرَائِيلَ: بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے کی اجازت دے۔
  • وَلَا تُعَذِّبْهُمْ: انہیں سخت مشقتوں اور ظلم میں مبتلا نہ رکھ۔
  • بِآيَةٍ: ایک نشانی اور معجزہ۔
  • وَالسَّلَامُ عَلَىٰ مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَىٰ: سلامتی اور امن اُس شخص کے لیے ہے جو ہدایت کی پیروی کرے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہما السلام کو حکم دیا کہ وہ فرعون کے پاس جائیں اور اس سے نرمی اور حکمت والے انداز میں کہیں: "ہم دونوں تیرے رب کے بھیجے ہوئے رسول ہیں۔" انہیں یہ پیغام دینا تھا کہ بنی اسرائیل کو آزاد کر دے اور انہیں مزید عذاب اور مشقتوں میں مبتلا نہ رکھے، کیونکہ فرعون انہیں سخت کاموں میں جوتتا تھا اور ان کے بیٹوں کو قتل کرتا تھا۔ یہ ایک بہت بڑی ظالمانہ روش تھی، اور اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبروں کو اس ظلم کے خاتمے کے لیے بھیجا۔

حضرت موسیٰ اور ہارون علیہما السلام کو یہ بھی کہنا تھا کہ "ہم تیرے پاس تیرے رب کی طرف سے ایک واضح نشانی لے کر آئے ہیں جو ہماری صداقت پر دلالت کرتی ہے۔" یہ نشانی معجزہ تھی جو اللہ کی قدرت سے ظاہر ہوتی، تاکہ فرعون سمجھ سکے کہ یہ محض کوئی انسانی دعویٰ نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے پیغام ہے۔

پھر انہیں یہ بھی کہنا تھا: "سلامتی اُس شخص کے لیے ہے جو ہدایت کی پیروی کرے۔" یعنی جو شخص اللہ کی طرف سے آنے والی ہدایت کو قبول کر لے، وہ عذاب سے محفوظ رہے گا اور اسے دنیا و آخرت میں سکون و امن حاصل ہوگا۔ یہ ایک دعوتی انداز تھا کہ فرعون کو بتایا جا رہا تھا کہ اگر وہ ایمان لے آئے تو وہ بھی اس سلامتی کا حصہ بن سکتا ہے۔

دعوتی پہلو:

یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ حق کا پیغام پہنچاتے وقت نرمی اور حکمت کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے، چاہے مخاطب کتنا ہی ظالم کیوں نہ ہو۔ اللہ کے دین کی دعوت میں خیرخواہی اور رحمت کا پہلو ہوتا ہے، کیونکہ مقصد صرف اللہ کی رضا اور بندوں کی نجات ہے۔ نیز یہ کہ سلامتی اور کامیابی کا راستہ صرف ہدایت کی پیروی میں ہے، جو اللہ نے اپنے انبیاء کے ذریعے بھیجی۔ آج بھی جو شخص قرآن و سنت کی روشنی میں چلے گا، وہی دنیا اور آخرت کی فلاح پائے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے دین پر ثابت قدم رکھے اور ہدایت کی پیروی کرنے والوں میں شامل فرمائے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 45-49 — طہ

45قَالَا رَبَّنَا إِنَّنَا نَخَافُ أَن يَفْرُطَ عَلَيْنَا أَوْ أَن يَطْغَىٰ
دونوں کہنے لگے کہ ہمارے پروردگار ہمیں خوف ہے کہ ہم پر تعدی کرنے لگے یا زیادہ سرکش ہوجائے
46قَالَ لَا تَخَافَا ۖ إِنَّنِي مَعَكُمَا أَسْمَعُ وَأَرَىٰ
خدا نے فرمایا کہ ڈرو مت میں تمہارے ساتھ ہوں (اور) سنتا اور دیکھتا ہوں
47فَأْتِيَاهُ فَقُولَا إِنَّا رَسُولَا رَبِّكَ فَأَرْسِلْ مَعَنَا بَنِي إِسْرَائِيلَ وَلَا تُعَذِّبْهُمْ ۖ قَدْ جِئْنَاكَ بِآيَةٍ مِّن رَّبِّكَ ۖ وَالسَّلَامُ عَلَىٰ مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَىٰ
(اچھا) تو اس کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم آپ کے پروردگار کے بھیجے ہوئے ہیں تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے کی اجازت دیجیئے۔ اور انہیں عذاب نہ کیجیئے۔ ہم آپ کے پاس آپ کے پروردگار کی طرف سے نشانی لے کر آئے ہیں۔ اور جو ہدایت کی بات مانے اس کو سلامتی ہو
48إِنَّا قَدْ أُوحِيَ إِلَيْنَا أَنَّ الْعَذَابَ عَلَىٰ مَن كَذَّبَ وَتَوَلَّىٰ
ہماری طرف یہ وحی آئی ہے کہ جو جھٹلائے اور منہ پھیرے اس کے لئے عذاب (تیار) ہے
49قَالَ فَمَن رَّبُّكُمَا يَا مُوسَىٰ
(غرض موسیٰ اور ہارون فرعون کے پاس گئے) اس نے کہا کہ موسیٰ تمہارا پروردگار کون ہے؟
طہقرآن فہرست
135آیت
مکیRevelation
47آیت

ترجمہ — طہ 47

سورہ طہ آیت 47 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : (اچھا) تو اس کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم…

سورہ آیت 47/135 — طہ طه (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: طہ سنیں, طہ ترجمہ, طہ mp3, طہ pdf. آیت 45–49. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں