ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- أُوحِيَ إِلَيْنَا: ہماری طرف وحی بھیجی گئی۔
- كَذَّبَ: جھٹلایا (یعنی حق کو نہ مانا)۔
- تَوَلَّىٰ: منہ موڑا، پیٹھ پھیری (یعنی حق سے اعراض کیا)۔
تفسیر:
حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے فرعون کے پاس دعوتِ حق کے لیے بھیجا۔ ان دونوں نبیوں کو یہ یقینی خبر دی گئی کہ اللہ کا عذاب صرف اُنہی لوگوں پر نازل ہوتا ہے جو دو کام کریں: ایک یہ کہ اللہ کی آیات اور پیغمبروں کی تعلیمات کو جھٹلائیں، اور دوسرے یہ کہ حق سامنے آنے کے بعد اُس سے منہ موڑ لیں، یعنی اعراض کریں اور اپنی سرکشی و ضد پر قائم رہیں۔
یہ بات دراصل موسیٰ علیہ السلام کے لیے ایک بشارت اور اطمینان کا ذریعہ تھی کہ فرعون کا انجام عذاب ہے، خواہ وہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، کیونکہ اللہ کا عذاب اُنہیں کے لیے ہے جو تکذیب اور اعراض کریں۔ اس میں یہ پیغام بھی ہے کہ اللہ کے نیک بندوں کو خوف نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ عذاب کا تعلق صرف حق سے منہ موڑنے والوں سے ہے، نہ کہ حق پر قائم رہنے والوں سے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں ہمارے لیے بہت بڑی نصیحت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے صاف فرما دیا کہ عذاب کا سبب دو چیزیں ہیں: تکذیب (جھٹلانا) اور اعراض (منہ موڑنا)۔ جس شخص نے قرآن اور رسول ﷺ کی تعلیمات کو سنا، سمجھا، لیکن پھر بھی اُسے جھٹلایا یا اُس سے بے رخی برتی، وہ اپنے آپ کو اللہ کے عذاب کے خطرے میں ڈالتا ہے۔ لیکن جو شخص حق کو قبول کرے، اُس پر عمل کرے، اور اللہ کی طرف رجوع کرے، اُس کے لیے اللہ کی رحمت اور جنت ہے۔ آئیے ہم اپنی زندگیوں میں اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ ہم حق کو نہ جھٹلائیں، نہ اُس سے منہ موڑیں، بلکہ قرآن و سنت کو اپنا راہنما بنائیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے، وہ چاہتا ہے کہ ہم اُس کی رحمت کے سائے میں آئیں، عذاب سے بچیں اور کامیاب ہوں۔ یاد رکھیں، جنت کی راہ آسان ہے، بس حق کو ماننا اور اُس پر چلنا ضروری ہے۔
📜 آیت 46-50 — طہ
ترجمہ — طہ 48
سورہ طہ آیت 48 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : ہماری طرف یہ وحی آئی ہے کہ جو جھٹلائے اور…سورہ آیت 48/135 — طہ طه (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: طہ سنیں, طہ ترجمہ, طہ mp3, طہ pdf. آیت 46–50. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








