ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- رَبُّكُمَا: تم دونوں کا رب اور پروردگار۔
- یَا مُوسَىٰ: اے موسیٰ! (فرعون نے ہارون کو چھوڑ کر صرف موسیٰ کو مخاطب کیا)
تفسیر آیت:
جب حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام فرعون کے پاس پہنچے اور اسے اللہ کی توحید اور اپنی رسالت کا پیغام سنایا، تو فرعون نے اپنے غرور اور تکبر کے ساتھ ان سے سوال کیا: "تم دونوں کا رب کون ہے، اے موسیٰ؟"
فرعون نے اس سوال میں پہلے تو دونوں بھائیوں کو مخاطب کیا کہ "تم دونوں کا رب"، لیکن پھر صرف موسیٰ علیہ السلام کا نام لے کر پکارا، کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اصل پیغام لانے والے موسیٰ ہیں اور ہارون ان کے مددگار اور تابع ہیں۔ یہ فرعون کا حیلہ تھا کہ وہ موسیٰ کو تنہا کر کے انہیں الجھانے کی کوشش کر رہا تھا۔
یہ سوال دراصل فرعون کا انکار اور طعن تھا، کیونکہ وہ خود کو "رب اعلیٰ" کہتا تھا اور اپنی قوم کو بتاتا تھا کہ اس کے سوا کوئی رب نہیں۔ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دعوے کو مضحکہ خیز بنانا چاہتا تھا، لیکن اسے معلوم نہ تھا کہ حق کبھی چھپ نہیں سکتا۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ حق کے داعی کو ہمیشہ بڑے سے بڑے ظالم اور متکبر کے سامنے بھی اپنے موقف پر ڈٹے رہنا چاہیے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کے اس سوال کا جواب بڑی حکمت اور سکون سے دیا، جیسا کہ اگلی آیت میں آئے گا۔ ہمیں بھی اپنے ایمان اور یقین کو مضبوط کرنا چاہیے تاکہ ہر مشکل وقت میں اللہ ہمارا ساتھ دے۔ یاد رکھیں، جو شخص اللہ کو اپنا رب مان لے، اسے کسی بھی مخلوق کا ڈر نہیں ہوتا۔ فرعون جیسے ظالم بھی اللہ کے نیک بندوں کے آگے بے بس ہو جاتے ہیں۔ آئیے ہم اپنے رب کی اطاعت کریں اور اس کے دین کی خدمت کریں، کیونکہ یہی کامیابی کا راستہ ہے۔
📜 آیت 47-51 — طہ
ترجمہ — طہ 49
سورہ طہ آیت 49 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : (غرض موسیٰ اور ہارون فرعون کے پاس گئے) اس نے…سورہ آیت 49/135 — طہ طه (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: طہ سنیں, طہ ترجمہ, طہ mp3, طہ pdf. آیت 47–51. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








