ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- آمَنْتُمْ لَهُ: کیا تم اس پر ایمان لے آئے؟
- آذَنَ لَكُمْ: میں تمہیں اجازت دوں
- كَبِيرُكُمُ: تمہارا بڑا، تمہارا استاد اور پیشوا
- مِنْ خِلَافٍ: مخالف سمت سے، ایک طرف سے دائیں ہاتھ اور بائیں پاؤں
- فِي جُذُوعِ النَّخْلِ: کھجور کے تنوں پر
- أَبْقَى: زیادہ دیرپا اور باقی رہنے والا
تفسیر:
جب فرعون نے دیکھا کہ اس کے سحرگروں کے ہاتھوں سے معجزہ ظاہر ہوا اور وہ سب موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لے آئے تو اس کا غرور اور تکبر پامال ہو گیا۔ اس نے حیرت اور غصے سے کہا: "کیا تم موسیٰ پر ایمان لے آئے قبل اس کے کہ میں تمہیں اجازت دوں؟" یعنی تم نے میری اجازت اور حکم کے بغیر اس پر ایمان قبول کر لیا؟ یہ اس کی بادشاہت اور حکومت کے خلاف بغاوت تھی۔
پھر اس نے اپنے ذہن میں یہ سازش رچی کہ لوگوں کو یہ باور کرائے کہ یہ سب کچھ پہلے سے طے شدہ تھا، چنانچہ اس نے کہا: "بے شک موسیٰ تمہارا بڑا (استاد) ہے جس نے تمہیں سحر سکھایا ہے۔" اس کا مطلب یہ تھا کہ تم سب نے موسیٰ کے ساتھ مل کر یہ منصوبہ بنایا تھا کہ وہ تمہارا استاد بنے اور تم اس کے سامنے جھک جاؤ تاکہ میری سلطنت کمزور ہو جائے۔ یہ فرعون کا جھوٹا الزام تھا، کیونکہ حقیقت یہ تھی کہ موسیٰ علیہ السلام سحر نہیں بلکہ اللہ کا معجزہ لے کر آئے تھے، اور ساحروں نے خود حق کو پہچان لیا تھا۔
پھر فرعون نے اپنے عادی ظلم کا اظہار کرتے ہوئے دھمکی دی: "میں تمہارے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمت سے کاٹ دوں گا" یعنی ایک طرف سے دایاں ہاتھ اور دوسری طرف سے بایاں پاؤں، تاکہ تمہاری شکل بگڑ جائے اور تم عبرت کا نشان بن جاؤ۔ "اور میں تمہیں کھجور کے تنوں پر سولی چڑھاؤں گا" تاکہ سب لوگ تمہیں دیکھیں اور تمہارے انجام سے ڈریں۔
آخر میں اس نے کہا: "اور تمہیں ضرور معلوم ہو جائے گا کہ ہم میں سے کون زیادہ سخت عذاب دینے والا اور زیادہ دیرپا عذاب رکھنے والا ہے" یعنی میں یا موسیٰ کا رب؟ فرعون اپنے عذاب کو موسیٰ کے رب کے عذاب سے زیادہ شدید اور دیرپا بتا رہا تھا، حالانکہ وہ خود ایک مخلوق تھا اور اللہ کا عذاب اس سے کہیں زیادہ سخت اور دائمی ہے۔
اس آیت میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے۔ ساحروں نے حق کو پہچانتے ہی فوراً ایمان قبول کر لیا، چاہے انہیں موت کی دھمکی ہی کیوں نہ دی گئی ہو۔ انہوں نے فرعون کے خوف کو اللہ کے خوف پر ترجیح دی اور دنیا کی عارضی زندگی کو آخرت کی ابدی زندگی پر قربان کر دیا۔ یہ ایمان کی بلندی ہے کہ انسان حق کو پہچان لے اور پھر اس پر ڈٹ جائے، چاہے اسے کتنی ہی قربانیاں کیوں نہ دینی پڑیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے مخلص بندوں کو کبھی ذلیل نہیں کرتا، چاہے ظالم کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو۔ ساحروں کا انجام اس دنیا میں شہادت تھا، لیکن آخرت میں ان کے لیے جنت اور اللہ کی رضا ہے جو ہر عذاب سے بہتر ہے۔
📜 آیت 69-73 — طہ
ترجمہ — طہ 71
سورہ طہ آیت 71 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : (فرعون) بولا کہ پیشتر اس کے میں تمہیں اجازت دوں…سورہ آیت 71/135 — طہ طه (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: طہ سنیں, طہ ترجمہ, طہ mp3, طہ pdf. آیت 69–73. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








