طہ · 71/135
ترجمہ تلفظ — طہ
قَالَ آمَنتُمْ لَهُ قَبْلَ أَنْ آذَنَ لَكُمْ ۖ إِنَّهُ لَكَبِيرُكُمُ الَّذِي عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ ۖ فَلَأُقَطِّعَنَّ أَيْدِيَكُمْ وَأَرْجُلَكُم مِّنْ خِلَافٍ وَلَأُصَلِّبَنَّكُمْ فِي جُذُوعِ النَّخْلِ وَلَتَعْلَمُنَّ أَيُّنَا أَشَدُّ عَذَابًا وَأَبْقَىٰ ۝٧١
Qaala aamantum lahoo qabla an aazana lakum; innahoo lakabeerukumul lazee `allama kumus sihra fala uqatti`anna aidiyakum wa arjulakum min khilaafinw wa la usallibannakum fee juzoo`in nakhli wa lata`lamunna aiyunaaa ashaddu `azaabanw wa abqaa
📖 اردو ترجمہ
(فرعون) بولا کہ پیشتر اس کے میں تمہیں اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے۔ بےشک وہ تمہارا بڑا (یعنی استاد) ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے۔ سو میں تمہارے ہاتھ اور پاؤں (جانب) خلاف سے کٹوا دوں گا اور کھجور کے تنوں پر سولی چڑھوا دوں گا (اس وقت) تم کو معلوم ہوگا کہ ہم میں سے کس کا عذاب زیادہ سخت اور دیر تک رہنے والا ہے

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • آمَنْتُمْ لَهُ: کیا تم اس پر ایمان لے آئے؟
  • آذَنَ لَكُمْ: میں تمہیں اجازت دوں
  • كَبِيرُكُمُ: تمہارا بڑا، تمہارا استاد اور پیشوا
  • مِنْ خِلَافٍ: مخالف سمت سے، ایک طرف سے دائیں ہاتھ اور بائیں پاؤں
  • فِي جُذُوعِ النَّخْلِ: کھجور کے تنوں پر
  • أَبْقَى: زیادہ دیرپا اور باقی رہنے والا

تفسیر:

جب فرعون نے دیکھا کہ اس کے سحرگروں کے ہاتھوں سے معجزہ ظاہر ہوا اور وہ سب موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لے آئے تو اس کا غرور اور تکبر پامال ہو گیا۔ اس نے حیرت اور غصے سے کہا: "کیا تم موسیٰ پر ایمان لے آئے قبل اس کے کہ میں تمہیں اجازت دوں؟" یعنی تم نے میری اجازت اور حکم کے بغیر اس پر ایمان قبول کر لیا؟ یہ اس کی بادشاہت اور حکومت کے خلاف بغاوت تھی۔

پھر اس نے اپنے ذہن میں یہ سازش رچی کہ لوگوں کو یہ باور کرائے کہ یہ سب کچھ پہلے سے طے شدہ تھا، چنانچہ اس نے کہا: "بے شک موسیٰ تمہارا بڑا (استاد) ہے جس نے تمہیں سحر سکھایا ہے۔" اس کا مطلب یہ تھا کہ تم سب نے موسیٰ کے ساتھ مل کر یہ منصوبہ بنایا تھا کہ وہ تمہارا استاد بنے اور تم اس کے سامنے جھک جاؤ تاکہ میری سلطنت کمزور ہو جائے۔ یہ فرعون کا جھوٹا الزام تھا، کیونکہ حقیقت یہ تھی کہ موسیٰ علیہ السلام سحر نہیں بلکہ اللہ کا معجزہ لے کر آئے تھے، اور ساحروں نے خود حق کو پہچان لیا تھا۔

پھر فرعون نے اپنے عادی ظلم کا اظہار کرتے ہوئے دھمکی دی: "میں تمہارے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمت سے کاٹ دوں گا" یعنی ایک طرف سے دایاں ہاتھ اور دوسری طرف سے بایاں پاؤں، تاکہ تمہاری شکل بگڑ جائے اور تم عبرت کا نشان بن جاؤ۔ "اور میں تمہیں کھجور کے تنوں پر سولی چڑھاؤں گا" تاکہ سب لوگ تمہیں دیکھیں اور تمہارے انجام سے ڈریں۔

آخر میں اس نے کہا: "اور تمہیں ضرور معلوم ہو جائے گا کہ ہم میں سے کون زیادہ سخت عذاب دینے والا اور زیادہ دیرپا عذاب رکھنے والا ہے" یعنی میں یا موسیٰ کا رب؟ فرعون اپنے عذاب کو موسیٰ کے رب کے عذاب سے زیادہ شدید اور دیرپا بتا رہا تھا، حالانکہ وہ خود ایک مخلوق تھا اور اللہ کا عذاب اس سے کہیں زیادہ سخت اور دائمی ہے۔

اس آیت میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے۔ ساحروں نے حق کو پہچانتے ہی فوراً ایمان قبول کر لیا، چاہے انہیں موت کی دھمکی ہی کیوں نہ دی گئی ہو۔ انہوں نے فرعون کے خوف کو اللہ کے خوف پر ترجیح دی اور دنیا کی عارضی زندگی کو آخرت کی ابدی زندگی پر قربان کر دیا۔ یہ ایمان کی بلندی ہے کہ انسان حق کو پہچان لے اور پھر اس پر ڈٹ جائے، چاہے اسے کتنی ہی قربانیاں کیوں نہ دینی پڑیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے مخلص بندوں کو کبھی ذلیل نہیں کرتا، چاہے ظالم کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو۔ ساحروں کا انجام اس دنیا میں شہادت تھا، لیکن آخرت میں ان کے لیے جنت اور اللہ کی رضا ہے جو ہر عذاب سے بہتر ہے۔



📜 آیت 69-73 — طہ

69وَأَلْقِ مَا فِي يَمِينِكَ تَلْقَفْ مَا صَنَعُوا ۖ إِنَّمَا صَنَعُوا كَيْدُ سَاحِرٍ ۖ وَلَا يُفْلِحُ السَّاحِرُ حَيْثُ أَتَىٰ
اور جو چیز (یعنی لاٹھی) تمہارے داہنے ہاتھ میں ہے اسے ڈال دو کہ جو کچھ انہوں نے بنایا ہے اس کو نگل جائے گی۔ جو کچھ انہوں نے بنایا ہے (یہ تو) جادوگروں کے ہتھکنڈے ہیں اور جادوگر جہاں جائے فلاح نہیں پائے گا
70فَأُلْقِيَ السَّحَرَةُ سُجَّدًا قَالُوا آمَنَّا بِرَبِّ هَارُونَ وَمُوسَىٰ
(القصہ یوں ہی ہوا) تو جادوگر سجدے میں گر پڑے (اور) کہنے لگے کہ ہم موسیٰ اور ہارون کے پروردگار پر ایمان لائے
71قَالَ آمَنتُمْ لَهُ قَبْلَ أَنْ آذَنَ لَكُمْ ۖ إِنَّهُ لَكَبِيرُكُمُ الَّذِي عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ ۖ فَلَأُقَطِّعَنَّ أَيْدِيَكُمْ وَأَرْجُلَكُم مِّنْ خِلَافٍ وَلَأُصَلِّبَنَّكُمْ فِي جُذُوعِ النَّخْلِ وَلَتَعْلَمُنَّ أَيُّنَا أَشَدُّ عَذَابًا وَأَبْقَىٰ
(فرعون) بولا کہ پیشتر اس کے میں تمہیں اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے۔ بےشک وہ تمہارا بڑا (یعنی استاد) ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے۔ سو میں تمہارے ہاتھ اور پاؤں (جانب) خلاف سے کٹوا دوں گا اور کھجور کے تنوں پر سولی چڑھوا دوں گا (اس وقت) تم کو معلوم ہوگا کہ ہم میں سے کس کا عذاب زیادہ سخت اور دیر تک رہنے والا ہے
72قَالُوا لَن نُّؤْثِرَكَ عَلَىٰ مَا جَاءَنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالَّذِي فَطَرَنَا ۖ فَاقْضِ مَا أَنتَ قَاضٍ ۖ إِنَّمَا تَقْضِي هَٰذِهِ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا
انہوں نے کہا جو دلائل ہمارے پاس آگئے ہیں ان پر اور جس نے ہم کو پیدا ہے اس پر ہم آپ کو ہرگز ترجیح نہیں دیں گے تو آپ کو جو حکم دینا ہو دے دیجیئے۔ اور آپ (جو) حکم دے سکتے ہیں وہ صرف اسی دنیا کی زندگی میں (دے سکتے ہیں)
73إِنَّا آمَنَّا بِرَبِّنَا لِيَغْفِرَ لَنَا خَطَايَانَا وَمَا أَكْرَهْتَنَا عَلَيْهِ مِنَ السِّحْرِ ۗ وَاللَّهُ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ
ہم اپنے پروردگار پر ایمان لے آئے تاکہ وہ ہمارے گناہوں کو معاف کرے اور (اسے بھی) جو آپ نے ہم سے زبردستی جادو کرایا۔ اور خدا بہتر اور باقی رہنے والا ہے
طہقرآن فہرست
135آیت
مکیRevelation
71آیت

ترجمہ — طہ 71

سورہ طہ آیت 71 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : (فرعون) بولا کہ پیشتر اس کے میں تمہیں اجازت دوں…

سورہ آیت 71/135 — طہ طه (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: طہ سنیں, طہ ترجمہ, طہ mp3, طہ pdf. آیت 69–73. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں