طہ · 72/135
ترجمہ تلفظ — طہ
قَالُوا لَن نُّؤْثِرَكَ عَلَىٰ مَا جَاءَنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالَّذِي فَطَرَنَا ۖ فَاقْضِ مَا أَنتَ قَاضٍ ۖ إِنَّمَا تَقْضِي هَٰذِهِ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا ۝٧٢
Qaaloo lan nu`siraka `alaa maa jaaa`anaa minal baiyinaati wallazee fataranaa faqdi maaa anta qaad; innamaa taqdee haazihil hayaatad dunyaa
📖 اردو ترجمہ
انہوں نے کہا جو دلائل ہمارے پاس آگئے ہیں ان پر اور جس نے ہم کو پیدا ہے اس پر ہم آپ کو ہرگز ترجیح نہیں دیں گے تو آپ کو جو حکم دینا ہو دے دیجیئے۔ اور آپ (جو) حکم دے سکتے ہیں وہ صرف اسی دنیا کی زندگی میں (دے سکتے ہیں)
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • لَن نُّؤْثِرَكَ: ہم تمہیں ہرگز ترجیح نہیں دیں گے، تمہیں اختیار نہیں کریں گے۔
  • الْبَیِّنَاتِ: واضح دلیلیں، روشن معجزات اور کھلی نشانیاں۔
  • فَطَرَنَا: ہمیں پیدا کیا، ہمیں وجود بخشا، ہماری فطرت بنائی۔
  • فَاقْضِ: تو فیصلہ کر، جو کرنا ہے کر۔
  • إِنَّمَا تَقْضِی: تیرا حکم اور فیصلہ صرف اسی پر چلتا ہے۔

تفسیر:

جب ساحر فرعون کے سامنے اللہ کے معجزے دیکھ کر ایمان لے آئے اور فرعون نے انہیں سخت سزاؤں کی دھمکی دی، تو انہوں نے بے خوف ہو کر وہ تاریخی جواب دیا جو قیامت تک کے لیے ایمان والوں کا نصب العین بن گیا۔ انہوں نے کہا: "ہم تمہیں ہرگز اس پر ترجیح نہیں دیں گے جو ہمارے پاس روشن دلیلیں لے کر آیا ہے، اور نہ ہی اس اللہ پر جس نے ہمیں پیدا کیا۔"

یہ وہ مقامِ ایمان ہے جہاں بندہ مخلوق کی طاقت، شان و شوکت اور خوف کو چھوڑ کر خالقِ کائنات کی محبت اور اس کی رضا کو سب کچھ سمجھتا ہے۔ ساحروں نے دیکھ لیا تھا کہ موسیٰ علیہ السلام کے پاس جو کچھ ہے وہ حق ہے، اور حق کو باطل پر ترجیح دینا ہی ایمان کا تقاضا ہے۔ انہوں نے فرعون کی بادشاہت اور اس کے وعدوں کو ٹھکرا کر اس رب کا انتخاب کیا جس نے انہیں پیدا کیا، انہیں شکل دی، اور انہیں عقل و شعور عطا کیا۔

پھر انہوں نے فرعون سے کہا: "تو جو کچھ کرنا ہے کر لے، تیرا حکم تو صرف اس دنیا کی زندگی تک محدود ہے۔" یعنی تیرا ظلم، تیرا غصہ، تیری سزائیں — یہ سب کچھ اس فانی دنیا کی چند روزہ زندگی میں ہے، جو کبھی ختم ہو جائے گی۔ لیکن ہمارا ایمان اس رب پر ہے جس کی سلطنت ابدی ہے، جس کا عذاب بھی دائمی ہے اور جس کی رحمت بھی لازوال ہے۔

اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے: ایمان کی دولت وہ خزانہ ہے جو دنیا کی ہر طاقت، ہر بادشاہ اور ہر ظالم کے سامنے سر بلند رکھتا ہے۔ جب دل میں یقینِ کامل پیدا ہو جائے کہ اللہ ہی حقیقی مالک ہے، تو پھر مخلوق کا خوف ختم ہو جاتا ہے۔ ساحروں نے اسی دن اپنی جان کی پروا نہ کی، کیونکہ انہیں یقین تھا کہ اللہ کی راہ میں مرنا بھی حقیقی کامیابی ہے۔

آج بھی جب کوئی مسلمان حق پر قائم رہتا ہے، ظلم کے سامنے نہیں جھکتا، اور اللہ کے احکام کو دنیا کے مفادات پر ترجیح دیتا ہے، تو وہ اسی آیت کے اسوہ پر عمل کر رہا ہوتا ہے۔ یاد رکھیں! دنیا کی سزائیں اور مصیبتیں عارضی ہیں، لیکن اللہ کا انعام اور اس کی رضا دائمی ہے۔ جو شخص اللہ کو اختیار کر لے، اللہ اسے دنیا اور آخرت دونوں میں عزت عطا فرماتا ہے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 70-74 — طہ

70فَأُلْقِيَ السَّحَرَةُ سُجَّدًا قَالُوا آمَنَّا بِرَبِّ هَارُونَ وَمُوسَىٰ
(القصہ یوں ہی ہوا) تو جادوگر سجدے میں گر پڑے (اور) کہنے لگے کہ ہم موسیٰ اور ہارون کے پروردگار پر ایمان لائے
71قَالَ آمَنتُمْ لَهُ قَبْلَ أَنْ آذَنَ لَكُمْ ۖ إِنَّهُ لَكَبِيرُكُمُ الَّذِي عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ ۖ فَلَأُقَطِّعَنَّ أَيْدِيَكُمْ وَأَرْجُلَكُم مِّنْ خِلَافٍ وَلَأُصَلِّبَنَّكُمْ فِي جُذُوعِ النَّخْلِ وَلَتَعْلَمُنَّ أَيُّنَا أَشَدُّ عَذَابًا وَأَبْقَىٰ
(فرعون) بولا کہ پیشتر اس کے میں تمہیں اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے۔ بےشک وہ تمہارا بڑا (یعنی استاد) ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے۔ سو میں تمہارے ہاتھ اور پاؤں (جانب) خلاف سے کٹوا دوں گا اور کھجور کے تنوں پر سولی چڑھوا دوں گا (اس وقت) تم کو معلوم ہوگا کہ ہم میں سے کس کا عذاب زیادہ سخت اور دیر تک رہنے والا ہے
72قَالُوا لَن نُّؤْثِرَكَ عَلَىٰ مَا جَاءَنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالَّذِي فَطَرَنَا ۖ فَاقْضِ مَا أَنتَ قَاضٍ ۖ إِنَّمَا تَقْضِي هَٰذِهِ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا
انہوں نے کہا جو دلائل ہمارے پاس آگئے ہیں ان پر اور جس نے ہم کو پیدا ہے اس پر ہم آپ کو ہرگز ترجیح نہیں دیں گے تو آپ کو جو حکم دینا ہو دے دیجیئے۔ اور آپ (جو) حکم دے سکتے ہیں وہ صرف اسی دنیا کی زندگی میں (دے سکتے ہیں)
73إِنَّا آمَنَّا بِرَبِّنَا لِيَغْفِرَ لَنَا خَطَايَانَا وَمَا أَكْرَهْتَنَا عَلَيْهِ مِنَ السِّحْرِ ۗ وَاللَّهُ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ
ہم اپنے پروردگار پر ایمان لے آئے تاکہ وہ ہمارے گناہوں کو معاف کرے اور (اسے بھی) جو آپ نے ہم سے زبردستی جادو کرایا۔ اور خدا بہتر اور باقی رہنے والا ہے
74إِنَّهُ مَن يَأْتِ رَبَّهُ مُجْرِمًا فَإِنَّ لَهُ جَهَنَّمَ لَا يَمُوتُ فِيهَا وَلَا يَحْيَىٰ
جو شخص اپنے پروردگار کے پاس گنہگار ہو کر آئے گا تو اس کے لئے جہنم ہے۔ جس میں نہ مرے گا نہ جیئے گا
طہقرآن فہرست
135آیت
مکیRevelation
72آیت

ترجمہ — طہ 72

سورہ طہ آیت 72 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : انہوں نے کہا جو دلائل ہمارے پاس آگئے ہیں ان…

سورہ آیت 72/135 — طہ طه (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: طہ سنیں, طہ ترجمہ, طہ mp3, طہ pdf. آیت 70–74. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں