Qaaloo maaa akhlafnaa maw`idaka bimalkinna wa laakinna hummilnaaa awzaaram min zeenatil qawmi faqazafnaahaa fakazaalika alqas Saamiriyy
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
وہ کہنے لگے کہ ہم نے اپنے اختیار سے تم سے وعدہ خلاف نہیں کیا۔ بلکہ ہم لوگوں کے زیوروں کا بوجھ اٹھائے ہوئے تھے۔ پھر ہم نے اس کو (آگ میں) ڈال دیا اور اسی طرح سامری نے ڈال دیا
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
گفتند: ما به اختيار خويش وعده تو خلاف نكرديم. بارهايى از زينت آن قوم بر دوش داشتيم. آنها را در آتش بيفكنديم. و سامرى نيز بيفكند.
وہ کہنے لگے کہ ہم نے اپنے اختیار سے تم سے وعدہ خلاف نہیں کیا۔ بلکہ ہم لوگوں کے زیوروں کا بوجھ اٹھائے ہوئے تھے۔ پھر ہم نے اس کو (آگ میں) ڈال دیا اور اسی طرح سامری نے ڈال دیا
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
بِمَلْكِنَا: اپنی مرضی اور اختیار سے۔
أَوْزَارًا: بھاری بوجھ، یہاں مراد سونے کے زیورات ہیں۔
زِينَةِ الْقَوْمِ: قومِ فرعون کے زیورات۔
فَقَذَفْنَاهَا: ہم نے اسے پھینک دیا۔
السَّامِرِيُّ: بنی اسرائیل کا ایک منافق شخص۔
تفسیر:
جب حضرت موسیٰ علیہ السلام طورِ سینا پر چالیس دن کے لیے اللہ تعالیٰ سے ہم کلامی کے لیے گئے تو بنی اسرائیل نے ان سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اللہ کی عبادت پر قائم رہیں گے۔ لیکن جب موسیٰ علیہ السلام نے واپسی میں تاخیر کی تو قوم نے عہد شکنی کی۔ جب موسیٰ علیہ السلام نے ان سے بازپرس کی تو انہوں نے یہ عذر پیش کیا کہ "ہم نے اپنی مرضی اور اختیار سے آپ کے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کی، بلکہ ہم پر قومِ فرعون کے زیورات کا بھاری بوجھ لا کر ڈالا گیا تھا۔" یہ زیورات انہوں نے اس لیے اٹھائے تھے کہ وہ انہیں اللہ کی راہ میں خرچ کرنا چاہتے تھے، لیکن سامری کے بہکانے کی وجہ سے انہوں نے وہ زیورات آگ میں پھینک دیے تاکہ ان سے چھٹکارا حاصل کریں۔ پھر سامری نے بھی اسی طرح اپنے پاس موجود زیورات کو آگ میں ڈال دیا، اور اس نے ان سے ایک بچھڑے کا پتلا بنا کر اس کی آواز نکالی، جسے دیکھ کر بنی اسرائیل گمراہ ہو گئے اور اس کی پوجا کرنے لگے۔
یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ شیطان اور اس کے نائب انسان کو کس طرح دھوکہ دیتے ہیں۔ بنی اسرائیل نے زیورات کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی نیت سے رکھا تھا، لیکن سامری کے بہکانے کی وجہ سے وہ گمراہ ہو گئے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے اعمال میں اخلاص رکھیں اور کسی بھی کام میں جلدی نہ کریں، بلکہ اللہ سے صبر اور ہدایت کی دعا کریں۔ یہ واقعہ یہ بھی بتاتا ہے کہ جب انسان اللہ کے حکم سے غافل ہوتا ہے تو وہ آسانی سے شیطان کے بہکاوے میں آ جاتا ہے۔ لہٰذا ہمیں ہمیشہ اللہ کے ذکر اور اطاعت میں مشغول رہنا چاہیے، تاکہ ہم گمراہی سے محفوظ رہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں سچے دل سے توبہ کرنے اور اپنے دین پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
اور موسیٰ غصّے اور غم کی حالت میں اپنی قوم کے پاس واپس آئے (اور) کہنے لگے کہ اے قوم کیا تمہارے پروردگار نے تم سے ایک اچھا وعدہ نہیں کیا تھا؟ کیا (میری جدائی کی) مدت تمہیں دراز (معلوم) ہوئی یا تم نے چاہا کہ تم پر تمہارے پروردگار کی طرف سے غضب نازل ہو۔ اور (اس لئے) تم نے مجھ سے جو وعدہ کیا تھا (اس کے) خلاف کیا
وہ کہنے لگے کہ ہم نے اپنے اختیار سے تم سے وعدہ خلاف نہیں کیا۔ بلکہ ہم لوگوں کے زیوروں کا بوجھ اٹھائے ہوئے تھے۔ پھر ہم نے اس کو (آگ میں) ڈال دیا اور اسی طرح سامری نے ڈال دیا
تو اس نے ان کے لئے ایک بچھڑا بنا دیا (یعنی اس کا) قالب جس کی آواز گائے کی سی تھی۔ تو لوگ کہنے لگے کہ یہی تمہارا معبود ہے اور موسیٰ کا بھی معبود ہے۔ مگر وہ بھول گئے ہیں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔