طہ · 88/135
ترجمہ تلفظ — طہ
فَأَخْرَجَ لَهُمْ عِجْلًا جَسَدًا لَّهُ خُوَارٌ فَقَالُوا هَٰذَا إِلَٰهُكُمْ وَإِلَٰهُ مُوسَىٰ فَنَسِيَ ۝٨٨
Fa akhraja lahum `ijlan jasadal lahoo khuwaarun faqaaloo haazaaa ilaahukum wa ilaahu Moosaa fanasee
📖 اردو ترجمہ
تو اس نے ان کے لئے ایک بچھڑا بنا دیا (یعنی اس کا) قالب جس کی آواز گائے کی سی تھی۔ تو لوگ کہنے لگے کہ یہی تمہارا معبود ہے اور موسیٰ کا بھی معبود ہے۔ مگر وہ بھول گئے ہیں

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • عِجْلًا جَسَدًا: ایک بچھڑے کا مجسمہ جس میں روح نہ تھی۔
  • خُوَارٌ: بیل کی آواز، ڈکارنے یا رانبھنے کی آواز۔
  • فَنَسِيَ: بھول گیا، یا چھوڑ گیا۔

تفسیر آیت:

سامری نے بنی اسرائیل کے زیورات پگھلا کر ایک بچھڑے کا مجسمہ بنایا جس میں جان نہ تھی، لیکن اس میں بیل کی سی آواز پیدا کرنے کی خاصیت رکھی گئی تھی۔ جب لوگوں نے دیکھا کہ اس مجسمے سے آواز نکل رہی ہے تو سامری اور اس کے پیروکاروں نے کہا: "یہ تمہارا معبود ہے اور موسیٰ کا بھی معبود ہے، لیکن موسیٰ اسے بھول گئے اور اسے یہاں چھوڑ کر تلاش کرنے چلے گئے۔"

یہ ایک بہت بڑا فتنہ تھا جو سامری نے بنی اسرائیل پر ڈالا۔ انہوں نے اپنی آنکھوں سے معجزات دیکھے تھے، دریا شق ہوتے دیکھا تھا، من و سلویٰ کھایا تھا، پھر بھی وہ ایک بے جان مجسمے کی طرف مائل ہو گئے۔ یہ ان کی کمزوری اور سامری کے کید کا نتیجہ تھا۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ انسان جب اللہ کی نشانیوں سے غافل ہو جاتا ہے تو وہ معمولی چیزوں سے بھی دھوکہ کھا جاتا ہے۔ سامری نے ایک بے جان مجسمہ بنا کر لوگوں کو گمراہ کر دیا، حالانکہ وہ لوگ موسیٰ علیہ السلام جیسے نبی کے ساتھ تھے اور اللہ کے عظیم معجزات دیکھ چکے تھے۔

آج بھی بہت سے لوگ ایسے ہیں جو اللہ کے بجائے مخلوق، بتوں، قبروں، یا دنیاوی چیزوں کی عبادت کرتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم صرف اللہ کی عبادت کریں اور کسی بھی چیز کو اس کا شریک نہ بنائیں۔ اللہ ہی واحد معبود ہے، وہی رزق دینے والا، وہی پناہ دینے والا، اور وہی ہماری ہر ضرورت پوری کرنے والا ہے۔

یاد رکھیں! شیطان اور اس کے ساتھی ہمیشہ ہمیں اللہ سے دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن جو شخص اللہ پر مضبوط ایمان رکھتا ہے، وہ کبھی گمراہ نہیں ہو سکتا۔ اپنے ایمان کو مضبوط کریں، قرآن پڑھیں، اور اللہ کے ذکر میں مشغول رہیں تاکہ ہم بھی اس فتنے سے محفوظ رہیں جس میں بنی اسرائیل مبتلا ہوئے تھے۔



📜 آیت 86-90 — طہ

86فَرَجَعَ مُوسَىٰ إِلَىٰ قَوْمِهِ غَضْبَانَ أَسِفًا ۚ قَالَ يَا قَوْمِ أَلَمْ يَعِدْكُمْ رَبُّكُمْ وَعْدًا حَسَنًا ۚ أَفَطَالَ عَلَيْكُمُ الْعَهْدُ أَمْ أَرَدتُّمْ أَن يَحِلَّ عَلَيْكُمْ غَضَبٌ مِّن رَّبِّكُمْ فَأَخْلَفْتُم مَّوْعِدِي
اور موسیٰ غصّے اور غم کی حالت میں اپنی قوم کے پاس واپس آئے (اور) کہنے لگے کہ اے قوم کیا تمہارے پروردگار نے تم سے ایک اچھا وعدہ نہیں کیا تھا؟ کیا (میری جدائی کی) مدت تمہیں دراز (معلوم) ہوئی یا تم نے چاہا کہ تم پر تمہارے پروردگار کی طرف سے غضب نازل ہو۔ اور (اس لئے) تم نے مجھ سے جو وعدہ کیا تھا (اس کے) خلاف کیا
87قَالُوا مَا أَخْلَفْنَا مَوْعِدَكَ بِمَلْكِنَا وَلَٰكِنَّا حُمِّلْنَا أَوْزَارًا مِّن زِينَةِ الْقَوْمِ فَقَذَفْنَاهَا فَكَذَٰلِكَ أَلْقَى السَّامِرِيُّ
وہ کہنے لگے کہ ہم نے اپنے اختیار سے تم سے وعدہ خلاف نہیں کیا۔ بلکہ ہم لوگوں کے زیوروں کا بوجھ اٹھائے ہوئے تھے۔ پھر ہم نے اس کو (آگ میں) ڈال دیا اور اسی طرح سامری نے ڈال دیا
88فَأَخْرَجَ لَهُمْ عِجْلًا جَسَدًا لَّهُ خُوَارٌ فَقَالُوا هَٰذَا إِلَٰهُكُمْ وَإِلَٰهُ مُوسَىٰ فَنَسِيَ
تو اس نے ان کے لئے ایک بچھڑا بنا دیا (یعنی اس کا) قالب جس کی آواز گائے کی سی تھی۔ تو لوگ کہنے لگے کہ یہی تمہارا معبود ہے اور موسیٰ کا بھی معبود ہے۔ مگر وہ بھول گئے ہیں
89أَفَلَا يَرَوْنَ أَلَّا يَرْجِعُ إِلَيْهِمْ قَوْلًا وَلَا يَمْلِكُ لَهُمْ ضَرًّا وَلَا نَفْعًا
کیا یہ لوگ نہیں دیکھتے کہ وہ ان کی کسی بات کا جواب نہیں دیتا۔ اور نہ ان کے نقصان اور نفع کا کچھ اختیار رکھتا ہے
90وَلَقَدْ قَالَ لَهُمْ هَارُونُ مِن قَبْلُ يَا قَوْمِ إِنَّمَا فُتِنتُم بِهِ ۖ وَإِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحْمَٰنُ فَاتَّبِعُونِي وَأَطِيعُوا أَمْرِي
اور ہارون نے ان سے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ لوگو اس سے صرف تمہاری آزمائش کی گئی ہے۔ اور تمہارا پروردگار تو خدا ہے تو میری پیروی کرو اور میرا کہا مانو
طہقرآن فہرست
135آیت
مکیRevelation
88آیت

ترجمہ — طہ 88

سورہ طہ آیت 88 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : تو اس نے ان کے لئے ایک بچھڑا بنا دیا…

سورہ آیت 88/135 — طہ طه (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: طہ سنیں, طہ ترجمہ, طہ mp3, طہ pdf. آیت 86–90. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں