طہ · 86/135
ترجمہ تلفظ — طہ
فَرَجَعَ مُوسَىٰ إِلَىٰ قَوْمِهِ غَضْبَانَ أَسِفًا ۚ قَالَ يَا قَوْمِ أَلَمْ يَعِدْكُمْ رَبُّكُمْ وَعْدًا حَسَنًا ۚ أَفَطَالَ عَلَيْكُمُ الْعَهْدُ أَمْ أَرَدتُّمْ أَن يَحِلَّ عَلَيْكُمْ غَضَبٌ مِّن رَّبِّكُمْ فَأَخْلَفْتُم مَّوْعِدِي ۝٨٦
Faraja`s Moosaaa ilaa qawmihee ghadbaana asifaa; qaala yaa qawmi alam ya`idkum Rabbukum wa`dan hasanaa; afataala `alaikumul `ahdu am arattum ai yahilla `alaikum ghadabum mir Rabbikum fa akhlaftum maw`idee
📖 اردو ترجمہ
اور موسیٰ غصّے اور غم کی حالت میں اپنی قوم کے پاس واپس آئے (اور) کہنے لگے کہ اے قوم کیا تمہارے پروردگار نے تم سے ایک اچھا وعدہ نہیں کیا تھا؟ کیا (میری جدائی کی) مدت تمہیں دراز (معلوم) ہوئی یا تم نے چاہا کہ تم پر تمہارے پروردگار کی طرف سے غضب نازل ہو۔ اور (اس لئے) تم نے مجھ سے جو وعدہ کیا تھا (اس کے) خلاف کیا
📜

ترجمہ — Tafsir

فَرَجَعَ مُوسَىٰ إِلَىٰ قَوْمِهِ غَضْبَانَ أَسِفًا ۚ قَالَ يَا قَوْمِ أَلَمْ يَعِدْكُمْ رَبُّكُمْ وَعْدًا حَسَنًا ۚ أَفَطَالَ عَلَيْكُمُ الْعَهْدُ أَمْ أَرَدتُّمْ أَن يَحِلَّ عَلَيْكُمْ غَضَبٌ مِّن رَّبِّكُمْ فَأَخْلَفْتُم مَّوْعِدِي

معانی الفاظ:

  • غَضْبَانَ: شدید غصے کی حالت میں۔
  • أَسِفًا: حزن و ملال کے ساتھ، رنجیدہ۔
  • الْعَهْدُ: وعدہ، یا وہ مدت جو طے کی گئی تھی۔
  • يَحِلَّ: نازل ہو، لازم ہو۔
  • فَأَخْلَفْتُم مَّوْعِدِي: تم نے میرے وعدے کو توڑ دیا، یعنی میری غیر موجودگی میں میرے حکم کی خلاف ورزی کی۔

تفسیر:

حضرت موسیٰ علیہ السلام جب اپنے رب سے مناجات کے لیے چالیس دن کے لیے گئے تھے، تو انہوں نے اپنی قوم کو تاکید کی تھی کہ وہ توحید پر قائم رہیں اور اللہ کی عبادت کریں۔ لیکن جب وہ واپس لوٹے، تو دیکھا کہ ان کی قوم نے سامری کے بہکاوے میں آکر گو سالے کی پرستش شروع کر دی ہے۔ یہ منظر دیکھ کر آپ علیہ السلام سخت غصے اور رنج کے ساتھ اپنی قوم کی طرف لوٹے۔

آپ نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: "اے میری قوم! کیا تمہارے رب نے تم سے اچھا وعدہ نہیں کیا تھا؟" یعنی اللہ نے تم سے تورات نازل کرنے، ہدایت دینے اور جنت کی خوشخبری کا وعدہ کیا تھا۔ کیا یہ وعدہ تمہیں بھول گیا؟ یا تمہیں یہ مدت طویل لگ گئی اور تم نے صبر نہیں کیا؟ یا تم نے جان بوجھ کر یہ ارادہ کیا کہ اپنے اس فعل سے اپنے رب کا غضب اپنے اوپر نازل کرواؤ، تاکہ تم پر اللہ کا عذاب آئے؟ چنانچہ تم نے میرے وعدے کو توڑ دیا اور میرے جانے کے بعد میری نصیحت کو فراموش کر کے گو سالے کی عبادت میں مشغول ہو گئے۔

یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اللہ کے وعدے پر بھروسہ رکھنا چاہیے اور آزمائش کے وقت صبر و استقامت سے کام لینا چاہیے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا یہ اندازِ خطاب نہایت شفیقانہ تھا، وہ اپنی قوم کی اصلاح چاہتے تھے، نہ کہ ان کی تباہی۔ یہ ہمارے لیے بھی درس ہے کہ جب ہم کسی کو غلطی پر دیکھیں تو غصے کے باوجود نرمی اور حکمت سے سمجھائیں، کیونکہ مقصد اصلاح ہونا چاہیے، نہ کہ صرف غصہ نکالنا۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے وعدوں پر یقین رکھنے اور اپنے دین پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 84-88 — طہ

84قَالَ هُمْ أُولَاءِ عَلَىٰ أَثَرِي وَعَجِلْتُ إِلَيْكَ رَبِّ لِتَرْضَىٰ
کہا وہ میرے پیچھے (آ رہے) ہیں اور اے پروردگار میں نے تیری طرف (آنے کی) جلدی اس لئے کی کہ تو خوش ہو
85قَالَ فَإِنَّا قَدْ فَتَنَّا قَوْمَكَ مِن بَعْدِكَ وَأَضَلَّهُمُ السَّامِرِيُّ
فرمایا کہ ہم نے تمہاری قوم کو تمہارے بعد آزمائش میں ڈال دیا ہے اور سامری نے ان کو بہکا دیا ہے
86فَرَجَعَ مُوسَىٰ إِلَىٰ قَوْمِهِ غَضْبَانَ أَسِفًا ۚ قَالَ يَا قَوْمِ أَلَمْ يَعِدْكُمْ رَبُّكُمْ وَعْدًا حَسَنًا ۚ أَفَطَالَ عَلَيْكُمُ الْعَهْدُ أَمْ أَرَدتُّمْ أَن يَحِلَّ عَلَيْكُمْ غَضَبٌ مِّن رَّبِّكُمْ فَأَخْلَفْتُم مَّوْعِدِي
اور موسیٰ غصّے اور غم کی حالت میں اپنی قوم کے پاس واپس آئے (اور) کہنے لگے کہ اے قوم کیا تمہارے پروردگار نے تم سے ایک اچھا وعدہ نہیں کیا تھا؟ کیا (میری جدائی کی) مدت تمہیں دراز (معلوم) ہوئی یا تم نے چاہا کہ تم پر تمہارے پروردگار کی طرف سے غضب نازل ہو۔ اور (اس لئے) تم نے مجھ سے جو وعدہ کیا تھا (اس کے) خلاف کیا
87قَالُوا مَا أَخْلَفْنَا مَوْعِدَكَ بِمَلْكِنَا وَلَٰكِنَّا حُمِّلْنَا أَوْزَارًا مِّن زِينَةِ الْقَوْمِ فَقَذَفْنَاهَا فَكَذَٰلِكَ أَلْقَى السَّامِرِيُّ
وہ کہنے لگے کہ ہم نے اپنے اختیار سے تم سے وعدہ خلاف نہیں کیا۔ بلکہ ہم لوگوں کے زیوروں کا بوجھ اٹھائے ہوئے تھے۔ پھر ہم نے اس کو (آگ میں) ڈال دیا اور اسی طرح سامری نے ڈال دیا
88فَأَخْرَجَ لَهُمْ عِجْلًا جَسَدًا لَّهُ خُوَارٌ فَقَالُوا هَٰذَا إِلَٰهُكُمْ وَإِلَٰهُ مُوسَىٰ فَنَسِيَ
تو اس نے ان کے لئے ایک بچھڑا بنا دیا (یعنی اس کا) قالب جس کی آواز گائے کی سی تھی۔ تو لوگ کہنے لگے کہ یہی تمہارا معبود ہے اور موسیٰ کا بھی معبود ہے۔ مگر وہ بھول گئے ہیں
طہقرآن فہرست
135آیت
مکیRevelation
86آیت

ترجمہ — طہ 86

سورہ طہ آیت 86 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور موسیٰ غصّے اور غم کی حالت میں اپنی قوم…

سورہ آیت 86/135 — طہ طه (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: طہ سنیں, طہ ترجمہ, طہ mp3, طہ pdf. آیت 84–88. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں