طہ · 94/135
ترجمہ تلفظ — طہ
قَالَ يَا ابْنَ أُمَّ لَا تَأْخُذْ بِلِحْيَتِي وَلَا بِرَأْسِي ۖ إِنِّي خَشِيتُ أَن تَقُولَ فَرَّقْتَ بَيْنَ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَلَمْ تَرْقُبْ قَوْلِي ۝٩٤
Qaala yabna`umma laa taakhuz bilihyatee wa laa biraasee innee khashetu an taqoola farraqta baina Baneee Israaa`eela wa lam tarqub qawlee
📖 اردو ترجمہ
کہنے لگے کہ بھائی میری ڈاڑھی اور سر (کے بالوں) کو نہ پکڑیئے۔ میں تو اس سے ڈرا کہ آپ یہ نہ کہیں کہ تم نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میری بات کو ملحوظ نہ رکھا
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • یا ابنَ أُمّ: اے میری ماں کے بیٹے! (یہ شفقت اور نرمی کا انداز ہے)
  • لِحْیَتِی: میری داڑھی
  • رَأْسِی: میرے سر (یعنی سر کے بال)
  • خَشِیتُ: میں ڈرا
  • فَرَّقْتَ: تو نے جدائی ڈالی / تفریق پیدا کی
  • تَرْقُبْ: تو نے نگاہ نہ رکھی / تو نے احترام نہ کیا

تفسیر:

جب حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم کے پاس واپس آئے اور دیکھا کہ قوم گوسالہ پرستی میں مبتلا ہو چکی ہے، تو غم و غصے کی شدت میں انہوں نے اپنے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام کی داڑھی اور سر کے بالوں کو پکڑ کر انہیں اپنی طرف کھینچا۔ اس پر حضرت ہارون علیہ السلام نے نہایت عاجزی اور محبت کے ساتھ جواب دیا: "اے میرے ماں کے بیٹے! میری داڑھی اور میرے سر کے بالوں کو نہ پکڑو۔"

پھر انہوں نے اپنا معذرت پیش کی: "مجھے ڈر تھا کہ اگر میں انہیں چھوڑ کر آپ کے پاس چلا جاتا، تو قوم آپس میں لڑ پڑتی اور انتشار پھیل جاتا۔ اس صورت میں آپ مجھ سے کہتے کہ تم نے بنی اسرائیل کے درمیان تفریق پیدا کر دی اور میری وصیت پر عمل نہ کیا۔" یعنی حضرت ہارون علیہ السلام نے قوم کے ساتھ رہ کر انہیں سنبھالنے کی کوشش کی، تاکہ وہ مزید بگاڑ کا شکار نہ ہوں، اور وہ اس امید پر وہاں ٹھہرے رہے کہ جب موسیٰ علیہ السلام واپس آئیں گے تو معاملہ خود سنبھال لیں گے۔

یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اختلاف رائے اور غصے کے موقع پر بھی نرمی، حکمت اور عذر کو سننا بہت ضروری ہے۔ حضرت ہارون علیہ السلام کا انداز انتہائی شائستہ تھا، انہوں نے اپنے بھائی کے غصے کو محبت سے ٹھنڈا کیا اور اپنی معذرت کو اس طرح پیش کیا کہ موسیٰ علیہ السلام کو ان کی مجبوری سمجھ آگئی۔

اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ایک دوسرے کے جذبات کا احترام کریں، غصے میں بھی نرمی اختیار کریں، اور کسی پر الزام لگانے سے پہلے اس کی معذرت سنیں۔ نیز یہ کہ ذمہ داری نبھاتے ہوئے اگر کوئی شخص اپنے فرض کو سمجھ کر کوئی قدم اٹھاتا ہے، تو اسے سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے، نہ کہ فوراً اس پر تنقید کی جائے۔

یہ واقعہ اسلامی تعلیمات کا ایک روشن پہلو ہے کہ بھائی چارگی، نرمی، درگزر اور ایک دوسرے کے حالات کو سمجھنا کس قدر اہم ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 92-96 — طہ

92قَالَ يَا هَارُونُ مَا مَنَعَكَ إِذْ رَأَيْتَهُمْ ضَلُّوا
(پھر موسیٰ نے ہارون سے) کہا کہ ہارون جب تم نے ان کو دیکھا تھا کہ گمراہ ہو رہے ہیں تو تم کو کس چیز نے روکا
93أَلَّا تَتَّبِعَنِ ۖ أَفَعَصَيْتَ أَمْرِي
(یعنی) اس بات سے کہ تم میرے پیچھے چلے آؤ۔ بھلا تم نے میرے حکم کے خلاف (کیوں) کیا؟
94قَالَ يَا ابْنَ أُمَّ لَا تَأْخُذْ بِلِحْيَتِي وَلَا بِرَأْسِي ۖ إِنِّي خَشِيتُ أَن تَقُولَ فَرَّقْتَ بَيْنَ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَلَمْ تَرْقُبْ قَوْلِي
کہنے لگے کہ بھائی میری ڈاڑھی اور سر (کے بالوں) کو نہ پکڑیئے۔ میں تو اس سے ڈرا کہ آپ یہ نہ کہیں کہ تم نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میری بات کو ملحوظ نہ رکھا
95قَالَ فَمَا خَطْبُكَ يَا سَامِرِيُّ
پھر (سامری سے) کہنے لگے کہ سامری تیرا کیا حال ہے؟
96قَالَ بَصُرْتُ بِمَا لَمْ يَبْصُرُوا بِهِ فَقَبَضْتُ قَبْضَةً مِّنْ أَثَرِ الرَّسُولِ فَنَبَذْتُهَا وَكَذَٰلِكَ سَوَّلَتْ لِي نَفْسِي
اس نے کہا کہ میں نے ایسی چیز دیکھی جو اوروں نے نہیں دیکھی تو میں نے فرشتے کے نقش پا سے (مٹی کی) ایک مٹھی بھر لی۔ پھر اس کو (بچھڑے کے قالب میں) ڈال دیا اور مجھے میرے جی نے (اس کام کو) اچھا بتایا
طہقرآن فہرست
135آیت
مکیRevelation
94آیت

ترجمہ — طہ 94

سورہ طہ آیت 94 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : کہنے لگے کہ بھائی میری ڈاڑھی اور سر (کے بالوں)…

سورہ آیت 94/135 — طہ طه (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: طہ سنیں, طہ ترجمہ, طہ mp3, طہ pdf. آیت 92–96. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں