ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- بَاخِعٌ: اپنی جان کو ہلاک کرنے والا، جان لیوا غم میں مبتلا ہونے والا۔
- نَّفْسَكَ: اپنی جان۔
- أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ: اس بات پر کہ وہ ایمان نہیں لاتے۔
تفسیر:
اے محبوب رسول! آپ اپنی قوم کی ہدایت کے لیے اتنے بے چین اور مشتاق ہیں کہ جب وہ ایمان نہیں لاتے تو آپ کو انتہائی رنج و غم ہوتا ہے، حتیٰ کہ یہ غم آپ کی جان کے لیے خطرہ بن جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے حبیب کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے: اے نبی! آپ اپنی جان کو اس قدر مشقت میں نہ ڈالیں، کیونکہ ہدایت دینا آپ کا کام نہیں، آپ کا کام صرف پیغام پہنچانا ہے۔ ایمان لانا اللہ کے ہاتھ میں ہے، وہ جسے چاہے ہدایت دیتا ہے اور جسے چاہے گمراہی میں چھوڑ دیتا ہے۔
یہ آیت مبارکہ ہمیں سکھاتی ہے کہ دعوت و تبلیغ کے دوران ہمیں اپنے اوپر زیادہ بوجھ نہیں ڈالنا چاہیے، نہ ہی مایوسی اور غم کو دل میں جگہ دینی چاہیے۔ ہمارا فرض صرف اللہ کا پیغام پہنچانا ہے، نتائج کا فیصلہ اللہ کرتا ہے۔ اسی لیے نبی کریم ﷺ کو حکم دیا گیا کہ آپ اپنی جان پر ظلم نہ کریں، کیونکہ ایمان لانا اللہ کی مشیت سے ہے۔
یہ آیت مومنین کے لیے ایک بہترین سبق ہے کہ ہمیں اپنے گھر والوں، دوستوں اور معاشرے کے لوگوں کی ہدایت کے لیے کوشش ضرور کرنی چاہیے، لیکن اگر وہ نہ مانیں تو ہمیں غمگین نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اللہ پر بھروسہ رکھتے ہوئے اپنی ذمہ داری ادا کرتے رہنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہر شخص کو اس کی نیت اور کوشش کے مطابق جزا دینے والا ہے۔
📜 آیت 1-5 — شعراء
ترجمہ — شعراء 3
سورہ شعراء آیت 3 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : (اے پیغمبرﷺ) شاید تم اس (رنج) سے کہ یہ لوگ…سورہ آیت 3/227 — شعراء الشعراء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: شعراء سنیں, شعراء ترجمہ, شعراء mp3, شعراء pdf. آیت 1–5. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








