قصص · 19/88
ترجمہ تلفظ — قصص
فَلَمَّا أَنْ أَرَادَ أَن يَبْطِشَ بِالَّذِي هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا قَالَ يَا مُوسَىٰ أَتُرِيدُ أَن تَقْتُلَنِي كَمَا قَتَلْتَ نَفْسًا بِالْأَمْسِ ۖ إِن تُرِيدُ إِلَّا أَن تَكُونَ جَبَّارًا فِي الْأَرْضِ وَمَا تُرِيدُ أَن تَكُونَ مِنَ الْمُصْلِحِينَ ۝١٩
Falammaaa an araada ai yabtisha billazee huwa `aduwwul lahumaa qaala yaa Moosaaa atureedu an taqtulanee kamaa qatalta nafsam bil amsi in tureedu illaaa an takoona jabbaaram fil ardi wa maa tureedu an takoona minal musliheen
📖 اردو ترجمہ
جب موسٰی نے ارادہ کیا کہ اس شخص کو جو ان دونوں کا دشمن تھا پکڑ لیں تو وہ (یعنی موسٰی کی قوم کا آدمی) بول اُٹھا کہ جس طرح تم نے کل ایک شخص کو مار ڈالا تھا اسی طرح چاہتے ہو کہ مجھے بھی مار ڈالو۔ تم تو یہی چاہتے ہو کہ ملک میں ظلم وستم کرتے پھرو اور یہ نہیں چاہتے ہو کہ نیکو کاروں میں ہو

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • یبطش: پکڑنا، سختی سے پکڑنا، حملہ کرنا
  • عدو لہما: ان دونوں کا دشمن (موسیٰ اور اسرائیلی کا دشمن)
  • جبّار: ظالم، زبردست، قتل و ظلم کرنے والا
  • مصلحین: اصلاح کرنے والے، لوگوں کے درمیان صلح کرانے والے

تفسیر:

جب موسیٰ علیہ السلام نے دیکھا کہ وہی قبطی (فرعونی) پھر سے ایک اسرائیلی شخص کے ساتھ جھگڑا کر رہا ہے اور اس پر ظلم کر رہا ہے، تو ان کے اندر غیرتِ ایمانی اور مظلوم کی حمایت کا جذبہ ابھرا۔ انہوں نے ارادہ کیا کہ اس ظالم قبطی کو سختی سے پکڑیں اور اسے سبق سکھائیں۔ لیکن اس سے پہلے کہ وہ اس پر ہاتھ ڈالتے، اسرائیلی شخص نے یہ سمجھا کہ موسیٰ علیہ السلام غصے میں آکر اسے ہی پکڑنے والے ہیں، کیونکہ اس نے موسیٰ کا غصہ دیکھا تھا اور وہ پہلے ہی ڈر میں تھا۔ چنانچہ وہ فوراً بول پڑا: "اے موسیٰ! کیا تم مجھے قتل کرنا چاہتے ہو جیسے تم نے کل ایک شخص کو قتل کیا تھا؟ تم تو صرف یہ چاہتے ہو کہ زمین میں ظالم اور جبار بن جاؤ، اور تم اصلاح کرنے والوں میں سے نہیں بننا چاہتے۔"

یہ سن کر موسیٰ علیہ السلام کو بہت افسوس ہوا، کیونکہ ان کا ارادہ تو صرف ظالم قبطی کو روکنے کا تھا، لیکن اس اسرائیلی کی غلط فہمی کی وجہ سے معاملہ کھل گیا۔ اس واقعہ سے لوگوں کو معلوم ہو گیا کہ کل جس قبطی کو موسیٰ نے مارا تھا وہ انہی کے ہاتھوں مارا گیا تھا۔ یہ خبر فرعون تک پہنچ گئی، اور فرعون نے موسیٰ کو قتل کرنے کا ارادہ کر لیا۔

دعوتی پہلو:

اس واقعہ سے ہمیں کئی اہم سبق ملتے ہیں:

  1. مظلوم کی حمایت: موسیٰ علیہ السلام نے ظالم کے خلاف اٹھ کر یہ ثابت کیا کہ ایک مومن کو چاہیے کہ وہ ظلم کے خلاف کھڑا ہو اور مظلوم کی مدد کرے۔ یہی اسلام کا درس ہے۔
  2. جلد بازی سے بچنا: اسرائیلی کی جلد بازی اور غلط فہمی کی وجہ سے معاملہ بگڑ گیا۔ ہمیں چاہیے کہ معاملات میں صبر اور حکمت سے کام لیں۔
  3. اللہ پر بھروسہ: موسیٰ علیہ السلام پر جب مصیبت آئی تو انہوں نے اللہ سے دعا کی اور اللہ نے انہیں فرعون کے ظلم سے نجات دی۔ ہمیں بھی ہر مشکل میں اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔
  4. اصلاح کی نیت: موسیٰ علیہ السلام کی نیت زمین پر اصلاح کرنے کی تھی، ظلم پھیلانے کی نہیں۔ ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ معاشرے میں اصلاح کا علمبردار بنے، نہ کہ ظلم اور فساد کا۔

یہ واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ اللہ اپنے نیک بندوں کی حفاظت کرتا ہے، چاہے ظالم کتنے ہی طاقتور کیوں نہ ہوں۔ موسیٰ علیہ السلام کو اللہ نے فرعون کے ظلم سے بچایا اور انہیں اپنا رسول بنا کر بھیجا۔ ہمیں بھی اپنے ایمان پر مضبوط رہنا چاہیے اور اللہ کی مدد پر یقین رکھنا چاہیے۔



📜 آیت 17-21 — قصص

17قَالَ رَبِّ بِمَا أَنْعَمْتَ عَلَيَّ فَلَنْ أَكُونَ ظَهِيرًا لِّلْمُجْرِمِينَ
کہنے لگے کہ اے پروردگار تو نے جو مجھ پر مہربانی فرمائی ہے میں (آئندہ) کبھی گنہگاروں کا مددگار نہ بنوں
18فَأَصْبَحَ فِي الْمَدِينَةِ خَائِفًا يَتَرَقَّبُ فَإِذَا الَّذِي اسْتَنصَرَهُ بِالْأَمْسِ يَسْتَصْرِخُهُ ۚ قَالَ لَهُ مُوسَىٰ إِنَّكَ لَغَوِيٌّ مُّبِينٌ
الغرض صبح کے وقت شہر میں ڈرتے ڈرتے داخل ہوئے کہ دیکھیں (کیا ہوتا ہے) تو ناگہاں وہی شخص جس نے کل اُن سے مدد مانگی تھی پھر اُن کو پکار رہا ہے۔ موسٰی نے اس سے کہا کہ تُو تو صریح گمراہ ہے
19فَلَمَّا أَنْ أَرَادَ أَن يَبْطِشَ بِالَّذِي هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا قَالَ يَا مُوسَىٰ أَتُرِيدُ أَن تَقْتُلَنِي كَمَا قَتَلْتَ نَفْسًا بِالْأَمْسِ ۖ إِن تُرِيدُ إِلَّا أَن تَكُونَ جَبَّارًا فِي الْأَرْضِ وَمَا تُرِيدُ أَن تَكُونَ مِنَ الْمُصْلِحِينَ
جب موسٰی نے ارادہ کیا کہ اس شخص کو جو ان دونوں کا دشمن تھا پکڑ لیں تو وہ (یعنی موسٰی کی قوم کا آدمی) بول اُٹھا کہ جس طرح تم نے کل ایک شخص کو مار ڈالا تھا اسی طرح چاہتے ہو کہ مجھے بھی مار ڈالو۔ تم تو یہی چاہتے ہو کہ ملک میں ظلم وستم کرتے پھرو اور یہ نہیں چاہتے ہو کہ نیکو کاروں میں ہو
20وَجَاءَ رَجُلٌ مِّنْ أَقْصَى الْمَدِينَةِ يَسْعَىٰ قَالَ يَا مُوسَىٰ إِنَّ الْمَلَأَ يَأْتَمِرُونَ بِكَ لِيَقْتُلُوكَ فَاخْرُجْ إِنِّي لَكَ مِنَ النَّاصِحِينَ
اور ایک شخص شہر کی پرلی طرف سے دوڑتا ہوا آیا (اور) بولا کہ موسٰی (شہر کے) رئیس تمہارے بارے میں صلاحیں کرتے ہیں کہ تم کو مار ڈالیں سو تم یہاں سے نکل جاؤ۔ میں تمہارا خیر خواہ ہوں
21فَخَرَجَ مِنْهَا خَائِفًا يَتَرَقَّبُ ۖ قَالَ رَبِّ نَجِّنِي مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ
موسٰی وہاں سے ڈرتے ڈرتے نکل کھڑے ہوئے کہ دیکھیں (کیا ہوتا ہے) اور دعا کرنے لگے کہ اے پروردگار مجھے ظالم لوگوں سے نجات دے۔
قصصقرآن فہرست
88آیت
مکیRevelation
19آیت

ترجمہ — قصص 19

سورہ قصص آیت 19 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : جب موسٰی نے ارادہ کیا کہ اس شخص کو جو…

سورہ آیت 19/88 — قصص القصص (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: قصص سنیں, قصص ترجمہ, قصص mp3, قصص pdf. آیت 17–21. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں