Mishary Rashid Alafasy
✓
Mahmoud Khalil Al-Husary
✓
Abdurrahman As-Sudais
✓
Mohamed Siddiq Al-Minshawi
✓
Abdul Basit Abdul Samad
✓
Ali Al-Hudhaify
✓
Ahmed ibn Ali al-Ajamy
✓
Abu Bakr Ash-Shaatree
✓
Muhammad Ayyoub
✓
Abdullah Basfar
✓
Abdullah Al-Juhani
✓
Maher Al Muaiqly
✓
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- یبطش: پکڑنا، سختی سے پکڑنا، حملہ کرنا
- عدو لہما: ان دونوں کا دشمن (موسیٰ اور اسرائیلی کا دشمن)
- جبّار: ظالم، زبردست، قتل و ظلم کرنے والا
- مصلحین: اصلاح کرنے والے، لوگوں کے درمیان صلح کرانے والے
تفسیر:
جب موسیٰ علیہ السلام نے دیکھا کہ وہی قبطی (فرعونی) پھر سے ایک اسرائیلی شخص کے ساتھ جھگڑا کر رہا ہے اور اس پر ظلم کر رہا ہے، تو ان کے اندر غیرتِ ایمانی اور مظلوم کی حمایت کا جذبہ ابھرا۔ انہوں نے ارادہ کیا کہ اس ظالم قبطی کو سختی سے پکڑیں اور اسے سبق سکھائیں۔ لیکن اس سے پہلے کہ وہ اس پر ہاتھ ڈالتے، اسرائیلی شخص نے یہ سمجھا کہ موسیٰ علیہ السلام غصے میں آکر اسے ہی پکڑنے والے ہیں، کیونکہ اس نے موسیٰ کا غصہ دیکھا تھا اور وہ پہلے ہی ڈر میں تھا۔ چنانچہ وہ فوراً بول پڑا: "اے موسیٰ! کیا تم مجھے قتل کرنا چاہتے ہو جیسے تم نے کل ایک شخص کو قتل کیا تھا؟ تم تو صرف یہ چاہتے ہو کہ زمین میں ظالم اور جبار بن جاؤ، اور تم اصلاح کرنے والوں میں سے نہیں بننا چاہتے۔"
یہ سن کر موسیٰ علیہ السلام کو بہت افسوس ہوا، کیونکہ ان کا ارادہ تو صرف ظالم قبطی کو روکنے کا تھا، لیکن اس اسرائیلی کی غلط فہمی کی وجہ سے معاملہ کھل گیا۔ اس واقعہ سے لوگوں کو معلوم ہو گیا کہ کل جس قبطی کو موسیٰ نے مارا تھا وہ انہی کے ہاتھوں مارا گیا تھا۔ یہ خبر فرعون تک پہنچ گئی، اور فرعون نے موسیٰ کو قتل کرنے کا ارادہ کر لیا۔
دعوتی پہلو:
اس واقعہ سے ہمیں کئی اہم سبق ملتے ہیں:
- مظلوم کی حمایت: موسیٰ علیہ السلام نے ظالم کے خلاف اٹھ کر یہ ثابت کیا کہ ایک مومن کو چاہیے کہ وہ ظلم کے خلاف کھڑا ہو اور مظلوم کی مدد کرے۔ یہی اسلام کا درس ہے۔
- جلد بازی سے بچنا: اسرائیلی کی جلد بازی اور غلط فہمی کی وجہ سے معاملہ بگڑ گیا۔ ہمیں چاہیے کہ معاملات میں صبر اور حکمت سے کام لیں۔
- اللہ پر بھروسہ: موسیٰ علیہ السلام پر جب مصیبت آئی تو انہوں نے اللہ سے دعا کی اور اللہ نے انہیں فرعون کے ظلم سے نجات دی۔ ہمیں بھی ہر مشکل میں اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔
- اصلاح کی نیت: موسیٰ علیہ السلام کی نیت زمین پر اصلاح کرنے کی تھی، ظلم پھیلانے کی نہیں۔ ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ معاشرے میں اصلاح کا علمبردار بنے، نہ کہ ظلم اور فساد کا۔
یہ واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ اللہ اپنے نیک بندوں کی حفاظت کرتا ہے، چاہے ظالم کتنے ہی طاقتور کیوں نہ ہوں۔ موسیٰ علیہ السلام کو اللہ نے فرعون کے ظلم سے بچایا اور انہیں اپنا رسول بنا کر بھیجا۔ ہمیں بھی اپنے ایمان پر مضبوط رہنا چاہیے اور اللہ کی مدد پر یقین رکھنا چاہیے۔
📜 آیت 17-21 — سورہ قصص
ترجمہ — قصص 19
سورہ قصص آیت 19 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : جب موسٰی نے ارادہ کیا کہ اس شخص کو جو…سورہ آیت 19/88 — سورہ قصص القصص (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: سورہ قصص سنیں, سورہ قصص ترجمہ, سورہ قصص mp3, سورہ قصص pdf. آیت 17–21. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, September 29, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں


