قصص · 20/88
ترجمہ تلفظ — قصص
وَجَاءَ رَجُلٌ مِّنْ أَقْصَى الْمَدِينَةِ يَسْعَىٰ قَالَ يَا مُوسَىٰ إِنَّ الْمَلَأَ يَأْتَمِرُونَ بِكَ لِيَقْتُلُوكَ فَاخْرُجْ إِنِّي لَكَ مِنَ النَّاصِحِينَ ۝٢٠
Wa jaaa`a rajulum min aqsal madeenati yas`aa qaala yaa Moosaaa innal mala a yaa tamiroona bika liyaqtulooka fakhruj innee laka minan naasiheen
📖 اردو ترجمہ
اور ایک شخص شہر کی پرلی طرف سے دوڑتا ہوا آیا (اور) بولا کہ موسٰی (شہر کے) رئیس تمہارے بارے میں صلاحیں کرتے ہیں کہ تم کو مار ڈالیں سو تم یہاں سے نکل جاؤ۔ میں تمہارا خیر خواہ ہوں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • أَقْصَى الْمَدِينَةِ: شہر کے سب سے دور والے کنارے سے۔
  • يَسْعَىٰ: تیزی سے دوڑتا ہوا، جلدی میں۔
  • الْمَلَأُ: شہر کے بڑے لوگ، سردار اور اشراف۔
  • يَأْتَمِرُونَ بِكَ: تیرے بارے میں مشورہ کر رہے ہیں، تیرے قتل کی سازش کر رہے ہیں۔
  • فَاخْرُجْ: پس شہر سے نکل جا۔
  • النَّاصِحِينَ: خیر خواہوں میں سے، تیرا بھلا چاہنے والوں میں سے۔

تفسیر:

جب موسیٰ علیہ السلام نے اس مظلوم شخص کی مدد کی اور قبطی کو مکے مارے جس سے وہ مر گیا، تو یہ خبر فرعون کے دربار تک پہنچی۔ فرعون اور اس کے سرداروں نے غصے میں آکر موسیٰ علیہ السلام کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے ایک مخلص مومن شخص کو وہاں بھیجا جو شہر کے سب سے دور والے حصے سے دوڑتا ہوا آیا۔ وہ شخص موسیٰ علیہ السلام کے پاس پہنچا اور اسے خبردار کیا کہ شہر کے بڑے لوگ، یعنی فرعون کے اشراف اور سردار، تیرے قتل کا مشورہ کر رہے ہیں اور تیرے بارے میں سازش کر رہے ہیں۔ اس نے محبت اور شفقت سے کہا: "اے موسیٰ! تم فوراً اس شہر سے نکل جاؤ، کیونکہ میں تمہارے ساتھ خیر خواہی کرتا ہوں اور تمہاری جان کی حفاظت چاہتا ہوں۔"

یہ وہی مومن شخص تھا جس کا ذکر قرآن میں آیا ہے، جو فرعون کے خاندان میں سے تھا لیکن اس نے ایمان چھپا رکھا تھا۔ وہ موسیٰ علیہ السلام کی جان بچانے کے لیے دوڑا آیا، حالانکہ وہ جانتا تھا کہ اگر فرعون کو معلوم ہوا تو وہ خود بھی خطرے میں پڑ جائے گا۔ لیکن ایمان اور محبت نے اسے بے خوف کر دیا۔

دعوتی پہلو:

اس واقعے میں ہمارے لیے بہت سے سبق ہیں۔ سب سے پہلے، یہ کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی حفاظت کرتا ہے اور انہیں کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔ جب موسیٰ علیہ السلام مصیبت میں تھے، اللہ نے ان کی مدد کے لیے ایک مخلص دوست بھیجا۔ دوسرا سبق، یہ کہ ایک سچا مومن اپنے بھائی کی مدد کے لیے ہمیشہ تیار رہتا ہے، چاہے اسے خود خطرہ ہی کیوں نہ ہو۔ تیسرا سبق، یہ کہ حکمت عملی سے کام لینا بھی سنت ہے۔ موسیٰ علیہ السلام کو مشورہ دیا گیا کہ شہر چھوڑ دو، کیونکہ جان بچانا ضروری ہے، اور اللہ کے دین کی خدمت کے لیے زندہ رہنا بہتر ہے۔

آج بھی جب کوئی مسلمان مشکل میں ہو تو ہمیں اس کی مدد کرنی چاہیے، چاہے وہ شہر کے کسی بھی کونے میں ہو۔ اور جب ہم کسی کو خطرے سے بچانے کا مشورہ دیں تو سچے دل سے دیں، جیسے اس مومن شخص نے موسیٰ علیہ السلام کو نصیحت کی۔ یہی محبت اور خیر خواہی مسلمانوں کی پہچان ہے۔ اللہ ہمیں اپنے بھائیوں کے لیے خیر خواہ بنائے اور مصیبت کے وقت صبر اور حکمت عطا فرمائے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 18-22 — قصص

18فَأَصْبَحَ فِي الْمَدِينَةِ خَائِفًا يَتَرَقَّبُ فَإِذَا الَّذِي اسْتَنصَرَهُ بِالْأَمْسِ يَسْتَصْرِخُهُ ۚ قَالَ لَهُ مُوسَىٰ إِنَّكَ لَغَوِيٌّ مُّبِينٌ
الغرض صبح کے وقت شہر میں ڈرتے ڈرتے داخل ہوئے کہ دیکھیں (کیا ہوتا ہے) تو ناگہاں وہی شخص جس نے کل اُن سے مدد مانگی تھی پھر اُن کو پکار رہا ہے۔ موسٰی نے اس سے کہا کہ تُو تو صریح گمراہ ہے
19فَلَمَّا أَنْ أَرَادَ أَن يَبْطِشَ بِالَّذِي هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا قَالَ يَا مُوسَىٰ أَتُرِيدُ أَن تَقْتُلَنِي كَمَا قَتَلْتَ نَفْسًا بِالْأَمْسِ ۖ إِن تُرِيدُ إِلَّا أَن تَكُونَ جَبَّارًا فِي الْأَرْضِ وَمَا تُرِيدُ أَن تَكُونَ مِنَ الْمُصْلِحِينَ
جب موسٰی نے ارادہ کیا کہ اس شخص کو جو ان دونوں کا دشمن تھا پکڑ لیں تو وہ (یعنی موسٰی کی قوم کا آدمی) بول اُٹھا کہ جس طرح تم نے کل ایک شخص کو مار ڈالا تھا اسی طرح چاہتے ہو کہ مجھے بھی مار ڈالو۔ تم تو یہی چاہتے ہو کہ ملک میں ظلم وستم کرتے پھرو اور یہ نہیں چاہتے ہو کہ نیکو کاروں میں ہو
20وَجَاءَ رَجُلٌ مِّنْ أَقْصَى الْمَدِينَةِ يَسْعَىٰ قَالَ يَا مُوسَىٰ إِنَّ الْمَلَأَ يَأْتَمِرُونَ بِكَ لِيَقْتُلُوكَ فَاخْرُجْ إِنِّي لَكَ مِنَ النَّاصِحِينَ
اور ایک شخص شہر کی پرلی طرف سے دوڑتا ہوا آیا (اور) بولا کہ موسٰی (شہر کے) رئیس تمہارے بارے میں صلاحیں کرتے ہیں کہ تم کو مار ڈالیں سو تم یہاں سے نکل جاؤ۔ میں تمہارا خیر خواہ ہوں
21فَخَرَجَ مِنْهَا خَائِفًا يَتَرَقَّبُ ۖ قَالَ رَبِّ نَجِّنِي مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ
موسٰی وہاں سے ڈرتے ڈرتے نکل کھڑے ہوئے کہ دیکھیں (کیا ہوتا ہے) اور دعا کرنے لگے کہ اے پروردگار مجھے ظالم لوگوں سے نجات دے۔
22وَلَمَّا تَوَجَّهَ تِلْقَاءَ مَدْيَنَ قَالَ عَسَىٰ رَبِّي أَن يَهْدِيَنِي سَوَاءَ السَّبِيلِ
اور جب مدین کی طرف رخ کیا تو کہنے لگے اُمید ہے کہ میرا پروردگار مجھے سیدھا رستہ بتائے
قصصقرآن فہرست
88آیت
مکیRevelation
20آیت

ترجمہ — قصص 20

سورہ قصص آیت 20 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور ایک شخص شہر کی پرلی طرف سے دوڑتا ہوا…

سورہ آیت 20/88 — قصص القصص (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: قصص سنیں, قصص ترجمہ, قصص mp3, قصص pdf. آیت 18–22. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں