قصص · 18/88
ترجمہ تلفظ — قصص
فَأَصْبَحَ فِي الْمَدِينَةِ خَائِفًا يَتَرَقَّبُ فَإِذَا الَّذِي اسْتَنصَرَهُ بِالْأَمْسِ يَسْتَصْرِخُهُ ۚ قَالَ لَهُ مُوسَىٰ إِنَّكَ لَغَوِيٌّ مُّبِينٌ ۝١٨
Fa asbaha fil madeenati khaaa`ifany yataraqqabu fa izal lazis tansarahoo bil amsi yastasrikhuh; qaala lahoo moosaaa innaka laghawiyyum mubeen
📖 اردو ترجمہ
الغرض صبح کے وقت شہر میں ڈرتے ڈرتے داخل ہوئے کہ دیکھیں (کیا ہوتا ہے) تو ناگہاں وہی شخص جس نے کل اُن سے مدد مانگی تھی پھر اُن کو پکار رہا ہے۔ موسٰی نے اس سے کہا کہ تُو تو صریح گمراہ ہے

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • خَائِفًا: ڈرنے والا، خوفزدہ۔
  • يَتَرَقَّبُ: انتظار کرتا ہوا، نگاہ رکھتا ہوا، خبروں کا انتظار کرنا۔
  • يَسْتَصْرِخُهُ: اسے پکارتا ہے، فریاد کرتا ہے، مدد طلب کرتا ہے۔
  • لَغَوِيٌّ مُّبِينٌ: یقیناً بڑا گمراہ، کھلی گمراہی والا۔

تفسیر:

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کل ایک قبطی (فرعون کی قوم کے آدمی) کو مار دیا تھا، جب انہوں نے ایک اسرائیلی (بنی اسرائیل کے فرد) کی مدد کی تھی۔ اس واقعے کے بعد موسیٰ علیہ السلام شہر میں خوفزدہ ہو کر صبح کیے، انہیں ڈر تھا کہ کہیں فرعون کے لوگ انہیں پکڑنے نہ آ جائیں۔ وہ ادھر ادھر خبریں سنتے اور انتظار کرتے رہے کہ کیا ہوتا ہے۔ اسی حالت میں اچانک وہی اسرائیلی شخص جس نے کل ان سے مدد مانگی تھی، انہیں پکارتا ہوا آیا اور ایک اور قبطی سے لڑائی میں پھر مدد طلب کی۔ یہ دیکھ کر موسیٰ علیہ السلام نے اس سے فرمایا: "تم تو یقیناً بڑے گمراہ اور کھلی گمراہی والے ہو" یعنی تم نے کل ایک قبطی کی جان لینے کا سبب بنے، اور آج پھر دوسرے قبطی سے لڑ رہے ہو، تمہاری یہ حرکت بہت بری اور سراسر غلط ہے۔

دعوتی انداز:

اس واقعے سے ہمیں بہت سے اسباق ملتے ہیں۔ اول یہ کہ جب انسان کسی نیک کام میں مدد کرتا ہے تو اللہ اس کی حفاظت فرماتا ہے، لیکن اسے صبر اور حکمت سے کام لینا چاہیے۔ دوم یہ کہ جھگڑے اور لڑائی سے ہمیشہ بچنا چاہیے، کیونکہ ایک چھوٹا سا جھگڑا بڑے نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام جیسے عظیم نبی کو بھی اس وجہ سے شہر چھوڑنا پڑا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے معاملات میں نرمی، حکمت اور بردباری سے کام لیں، اور کسی بھی جھگڑے میں پڑنے سے پہلے سوچیں کہ اس کا انجام کیا ہوگا۔ اللہ ہمیں اپنے نبیوں کی سیرت پر چلنے کی توفیق دے۔ آمین۔



📜 آیت 16-20 — قصص

16قَالَ رَبِّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي فَغَفَرَ لَهُ ۚ إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ
بولے کہ اے پروردگار میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا تو مجھے بخش دے تو خدا نے اُن کو بخش دیا۔ بیشک وہ بخشنے والا مہربان ہے
17قَالَ رَبِّ بِمَا أَنْعَمْتَ عَلَيَّ فَلَنْ أَكُونَ ظَهِيرًا لِّلْمُجْرِمِينَ
کہنے لگے کہ اے پروردگار تو نے جو مجھ پر مہربانی فرمائی ہے میں (آئندہ) کبھی گنہگاروں کا مددگار نہ بنوں
18فَأَصْبَحَ فِي الْمَدِينَةِ خَائِفًا يَتَرَقَّبُ فَإِذَا الَّذِي اسْتَنصَرَهُ بِالْأَمْسِ يَسْتَصْرِخُهُ ۚ قَالَ لَهُ مُوسَىٰ إِنَّكَ لَغَوِيٌّ مُّبِينٌ
الغرض صبح کے وقت شہر میں ڈرتے ڈرتے داخل ہوئے کہ دیکھیں (کیا ہوتا ہے) تو ناگہاں وہی شخص جس نے کل اُن سے مدد مانگی تھی پھر اُن کو پکار رہا ہے۔ موسٰی نے اس سے کہا کہ تُو تو صریح گمراہ ہے
19فَلَمَّا أَنْ أَرَادَ أَن يَبْطِشَ بِالَّذِي هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا قَالَ يَا مُوسَىٰ أَتُرِيدُ أَن تَقْتُلَنِي كَمَا قَتَلْتَ نَفْسًا بِالْأَمْسِ ۖ إِن تُرِيدُ إِلَّا أَن تَكُونَ جَبَّارًا فِي الْأَرْضِ وَمَا تُرِيدُ أَن تَكُونَ مِنَ الْمُصْلِحِينَ
جب موسٰی نے ارادہ کیا کہ اس شخص کو جو ان دونوں کا دشمن تھا پکڑ لیں تو وہ (یعنی موسٰی کی قوم کا آدمی) بول اُٹھا کہ جس طرح تم نے کل ایک شخص کو مار ڈالا تھا اسی طرح چاہتے ہو کہ مجھے بھی مار ڈالو۔ تم تو یہی چاہتے ہو کہ ملک میں ظلم وستم کرتے پھرو اور یہ نہیں چاہتے ہو کہ نیکو کاروں میں ہو
20وَجَاءَ رَجُلٌ مِّنْ أَقْصَى الْمَدِينَةِ يَسْعَىٰ قَالَ يَا مُوسَىٰ إِنَّ الْمَلَأَ يَأْتَمِرُونَ بِكَ لِيَقْتُلُوكَ فَاخْرُجْ إِنِّي لَكَ مِنَ النَّاصِحِينَ
اور ایک شخص شہر کی پرلی طرف سے دوڑتا ہوا آیا (اور) بولا کہ موسٰی (شہر کے) رئیس تمہارے بارے میں صلاحیں کرتے ہیں کہ تم کو مار ڈالیں سو تم یہاں سے نکل جاؤ۔ میں تمہارا خیر خواہ ہوں
قصصقرآن فہرست
88آیت
مکیRevelation
18آیت

ترجمہ — قصص 18

سورہ قصص آیت 18 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : الغرض صبح کے وقت شہر میں ڈرتے ڈرتے داخل ہوئے…

سورہ آیت 18/88 — قصص القصص (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: قصص سنیں, قصص ترجمہ, قصص mp3, قصص pdf. آیت 16–20. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں