Wa qaalooo in nattabi`il hudaa ma`aka nutakhattaf min ardinaa; awalam numakkkil lahum haraman aaminany yujbaaa ilaihi samaraatu kulli shai`ir rizqam mil ladunnaa wa laakinna aksarahum laa ya`lamoon
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور کہتے ہیں کہ اگر ہم تمہارے ساتھ ہدایت کی پیروی کریں تو اپنے ملک سے اُچک لئے جائیں۔ کیا ہم نے اُن کو حرم میں جو امن کا مقام ہے جگہ نہیں دی۔ جہاں ہر قسم کے میوے پہنچائے جاتے ہیں (اور یہ) رزق ہماری طرف سے ہے لیکن ان میں سے اکثر نہیں جانتے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
گفتند: اگر از كيش تو پيروى كنيم، ما را از سرزمينمان بر مىكنند. آيا آنها را در حرمى امن جاى ندادهايم كه همه گونه ثمرات در آن فراهم مىشود، و اين رزقى است از جانب ما؟ ولى بيشترينشان نمىدانند.
اور کہتے ہیں کہ اگر ہم تمہارے ساتھ ہدایت کی پیروی کریں تو اپنے ملک سے اُچک لئے جائیں۔ کیا ہم نے اُن کو حرم میں جو امن کا مقام ہے جگہ نہیں دی۔ جہاں ہر قسم کے میوے پہنچائے جاتے ہیں (اور یہ) رزق ہماری طرف سے ہے لیکن ان میں سے اکثر نہیں جانتے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
نُتَخَطَّفْ: ہمیں پکڑ لیا جائے گا، اچک لیا جائے گا۔
حَرَمًا آمِنًا: امن والا حرم، جہاں قتل و خونریزی حرام ہے۔
یُجْبَى: جمع کر کے لایا جاتا ہے، کھینچ کر لایا جاتا ہے۔
تفسیر:
مشرکینِ مکہ نے نبی کریم ﷺ سے کہا: اگر ہم آپ کے ساتھ مل کر اس ہدایت کی پیروی کر لیں جو آپ لائے ہیں، اور اپنے معبودوں اور بزرگوں سے براءت کا اعلان کر دیں، تو ہمیں ڈر ہے کہ عرب کے قبائل ہم پر حملہ آور ہوں گے، ہمیں قتل کر دیا جائے گا، قید کر لیا جائے گا اور ہمارے اموال لوٹ لیے جائیں گے۔ وہ اپنے اس عذر سے اسلام قبول کرنے سے بھاگ رہے تھے۔
اللہ تعالیٰ نے ان کے اس باطل خیال کا رد کرتے ہوئے فرمایا: کیا ہم نے انہیں ایک ایسے محترم اور امن والے حرم (مکہ) میں جگہ نہیں دی؟ جہاں خون بہانا، ظلم کرنا اور کسی پر حملہ کرنا حرام ہے، اور جہاں وہ ہر خطرے سے محفوظ رہتے ہیں۔ کیا انہوں نے یہ نہیں دیکھا کہ ہر طرف سے پھل اور ثمرات ان کی طرف کھینچ کر لائے جاتے ہیں؟ یہ سب کچھ ہماری طرف سے رزق کے طور پر انہیں دیا جا رہا ہے، باوجود اس کے کہ وہ کافر ہیں۔ پھر اگر وہ ایمان لے آئیں تو اللہ انہیں مزید امن و رزق سے نوازے گا۔ لیکن ان میں سے اکثر لوگ جاہل ہیں، وہ ان نعمتوں کی قدر نہیں کرتے، نہ شکر ادا کرتے ہیں، نہ سمجھتے ہیں کہ یہ سب کچھ اللہ کی طرف سے ہے۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! دیکھیے کہ مشرکینِ مکہ نے کس طرح بے جا خوف اور بے بنیاد اندیشوں کی وجہ سے حق کو قبول کرنے سے انکار کیا۔ آج بھی بہت سے لوگ اسلام کی راہ اختیار کرنے سے ڈرتے ہیں کہ کہیں ہماری عزت نہ چھن جائے، کہیں ہمارے رشتے نہ ٹوٹ جائیں، کہیں ہمیں نقصان نہ اٹھانا پڑے۔ لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو شخص اللہ پر بھروسہ کرتا ہے، اللہ اس کے لیے راستے نکالتا ہے اور اسے وہاں سے رزق دیتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا۔ اللہ نے مکہ والوں کو کفر کی حالت میں بھی امن اور رزق دیا، تو ایمان کی دولت ملنے کے بعد وہ اپنے بندوں کو کیوں محروم رکھے گا؟ اللہ سے ڈرو، اللہ پر بھروسہ کرو، اور حق کو قبول کرو، کیونکہ اللہ ہی سب کچھ دینے والا ہے، اور وہی سب سے بڑا حامی و ناصر ہے۔
اور جب بیہودہ بات سنتے ہیں تو اس سے منہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم کو ہمارے اعمال اور تم کو تمہارے اعمال۔ تم کو سلام۔ ہم جاہلوں کے خواستگار نہیں ہیں
اور کہتے ہیں کہ اگر ہم تمہارے ساتھ ہدایت کی پیروی کریں تو اپنے ملک سے اُچک لئے جائیں۔ کیا ہم نے اُن کو حرم میں جو امن کا مقام ہے جگہ نہیں دی۔ جہاں ہر قسم کے میوے پہنچائے جاتے ہیں (اور یہ) رزق ہماری طرف سے ہے لیکن ان میں سے اکثر نہیں جانتے
اور ہم نے بہت سی بستیوں کو ہلاک کر ڈالا جو اپنی (فراخی) معیشت میں اترا رہے تھے۔ سو یہ اُن کے مکانات ہیں جو اُن کے بعد آباد ہی نہیں ہوئے مگر بہت کم۔ اور اُن کے پیچھے ہم ہی اُن کے وارث ہوئے
اور تمہارا پروردگار بستیوں کو ہلاک نہیں کیا کرتا۔ جب تک اُن کے بڑے شہر میں پیغمبر نہ بھیج لے جو اُن کو ہماری آیتیں پڑھ پڑھ کر سنائے اور ہم بستیوں کو ہلاک نہیں کیا کرتے مگر اس حالت میں کہ وہاں کے باشندے ظالم ہوں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔