اے محبوب رسول! آپ کا دل چاہتا ہے کہ جنہیں آپ چاہیں وہ ہدایت پا جائیں، لیکن ہدایت دینا آپ کے اختیار میں نہیں، بلکہ یہ صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ آپ کا کام صرف پیغام پہنچانا ہے، ہدایت تو اللہ ہی دیتا ہے جسے وہ چاہتا ہے۔ چنانچہ جب آپ نے اپنے چچا ابو طالب کی ہدایت کے لیے بے حد حرص کا اظہار کیا، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ آپ جس سے محبت رکھتے ہیں، اسے ہدایت نہیں دے سکتے، لیکن اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔
یہاں یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ ہدایت دو طرح کی ہوتی ہے: ایک ہدایتِ ارشاد، یعنی راستہ بتانا، یہ آپ کا کام ہے۔ دوسری ہدایتِ توفیق، یعنی دل میں ایمان کی دولت ڈالنا، یہ صرف اللہ کے اختیار میں ہے۔ اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ کون سچے دل سے ہدایت کا طالب ہے اور کون ضد اور ہٹ دھرمی پر اڑا ہوا ہے۔ وہی جانتا ہے کہ کس کے دل میں ہدایت قبول کرنے کی صلاحیت ہے، اور وہی اسے ہدایت سے نوازتا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت اہم سبق ملتا ہے کہ ہم صرف راستہ دکھا سکتے ہیں، دلوں کو بدلنا اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ اپنے گھر والوں، رشتہ داروں اور دوستوں کو اسلام کی دعوت دیتے رہیں، لیکن اگر وہ نہ مانیں تو مایوس نہ ہوں، کیونکہ ہمارا کام صرف پہنچانا ہے، ہدایت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ نیز یہ بھی یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ بہت رحم فرمانے والا ہے، وہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے، چاہے وہ گناہوں میں ڈوبا ہوا ہی کیوں نہ ہو۔ لہٰذا ہمیں کبھی کسی کی ہدایت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اللہ سے دعا کرتے رہنا چاہیے کہ وہ ہمارے پیاروں کو بھی ہدایت دے۔
ان لوگوں کو دگنا بدلہ دیا جائے گا کیونکہ صبر کرتے رہے ہیں اور بھلائی کے ساتھ برائی کو دور کرتے ہیں اور جو (مال) ہم نے اُن کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں
اور جب بیہودہ بات سنتے ہیں تو اس سے منہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم کو ہمارے اعمال اور تم کو تمہارے اعمال۔ تم کو سلام۔ ہم جاہلوں کے خواستگار نہیں ہیں
اور کہتے ہیں کہ اگر ہم تمہارے ساتھ ہدایت کی پیروی کریں تو اپنے ملک سے اُچک لئے جائیں۔ کیا ہم نے اُن کو حرم میں جو امن کا مقام ہے جگہ نہیں دی۔ جہاں ہر قسم کے میوے پہنچائے جاتے ہیں (اور یہ) رزق ہماری طرف سے ہے لیکن ان میں سے اکثر نہیں جانتے
اور ہم نے بہت سی بستیوں کو ہلاک کر ڈالا جو اپنی (فراخی) معیشت میں اترا رہے تھے۔ سو یہ اُن کے مکانات ہیں جو اُن کے بعد آباد ہی نہیں ہوئے مگر بہت کم۔ اور اُن کے پیچھے ہم ہی اُن کے وارث ہوئے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔