قارون موسٰی کی قوم میں سے تھا اور ان پر تعدّی کرتا تھا۔ اور ہم نے اس کو اتنے خزانے دیئے تھے کہ اُن کی کنجیاں ایک طاقتور جماعت کو اُٹھانی مشکل ہوتیں جب اس سے اس کی قوم نے کہا کہ اترائیے مت۔ کہ خدا اترانے والوں کو پسند نہیں کرتا
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
قارون از قوم موسى بود كه بر آنها افزونى جست. و به او چنان گنجهايى داديم كه حمل كليدهايش بر گروهى از مردم نيرومند دشوار مىنمود. آنگاه كه قومش به او گفتند: سرمست مباش، زيرا خدا سرمستان را دوست ندارد،
قارون موسٰی کی قوم میں سے تھا اور ان پر تعدّی کرتا تھا۔ اور ہم نے اس کو اتنے خزانے دیئے تھے کہ اُن کی کنجیاں ایک طاقتور جماعت کو اُٹھانی مشکل ہوتیں جب اس سے اس کی قوم نے کہا کہ اترائیے مت۔ کہ خدا اترانے والوں کو پسند نہیں کرتا
📜
ترجمہ — Tafsir
قارون بنی اسرائیل کے ایک فرد تھے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم سے تعلق رکھتے تھے، لیکن انہوں نے اپنی قوم پر ظلم و زیادتی کی اور سرکشی میں حد سے تجاوز کر گئے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں خزانوں کا اتنا بڑا مال عطا کیا تھا کہ ان خزانوں کی کنجیوں کو اٹھانا بھی طاقتور آدمیوں کی ایک جماعت کے لیے بوجھ بن جاتا تھا۔ جب ان کی قوم کے نیک لوگوں نے انہیں نصیحت کی تو کہا کہ اس مال پر غرور اور تکبر نہ کرو، کیونکہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو پسند نہیں کرتا جو اپنے مال پر اتراتے ہیں اور اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرتے۔
یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ مال و دولت اللہ کی امانت ہے، اور جو شخص اسے اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے اور شکر گزار بندہ بنتا ہے، وہی کامیاب ہے۔ لیکن جو مال کو اپنی برتری اور تکبر کا ذریعہ بناتا ہے، وہ اللہ کی نافرمانی کرتا ہے اور اس کا انجام برا ہوتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے مال و دولت پر فخر نہ کریں، بلکہ اسے اللہ کی رضا کے لیے استعمال کریں اور دوسروں کی مدد کریں، کیونکہ اللہ تعالیٰ عاجزی اور شکر گزار بندوں سے محبت کرتا ہے۔
اور ہم ہر ایک اُمت میں سے گواہ نکال لیں گے پھر کہیں گے کہ اپنی دلیل پیش کرو تو وہ جان لیں گے کہ سچ بات خدا کی ہے اور جو کچھ وہ افتراء کیا کرتے تھے ان سے جاتا رہے گا
قارون موسٰی کی قوم میں سے تھا اور ان پر تعدّی کرتا تھا۔ اور ہم نے اس کو اتنے خزانے دیئے تھے کہ اُن کی کنجیاں ایک طاقتور جماعت کو اُٹھانی مشکل ہوتیں جب اس سے اس کی قوم نے کہا کہ اترائیے مت۔ کہ خدا اترانے والوں کو پسند نہیں کرتا
اور جو (مال) تم کو خدا نے عطا فرمایا ہے اس سے آخرت کی بھلائی طلب کیجئے اور دنیا سے اپنا حصہ نہ بھلائیے اور جیسی خدا نے تم سے بھلائی کی ہے (ویسی) تم بھی (لوگوں سے) بھلائی کرو۔ اور ملک میں طالب فساد نہ ہو۔ کیونکہ خدا فساد کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا
بولا کہ یہ (مال) مجھے میری دانش (کے زور) سے ملا ہے کیا اس کو معلوم نہیں کہ خدا نے اس سے پہلے بہت سی اُمتیں جو اس سے قوت میں بڑھ کر اور جمعیت میں بیشتر تھیں ہلاک کر ڈالی ہیں۔ اور گنہگاروں سے اُن کے گناہوں کے بارے میں پوچھا نہیں جائے گا
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔