قصص · 77/88
ترجمہ تلفظ — قصص
وَابْتَغِ فِيمَا آتَاكَ اللَّهُ الدَّارَ الْآخِرَةَ ۖ وَلَا تَنسَ نَصِيبَكَ مِنَ الدُّنْيَا ۖ وَأَحْسِن كَمَا أَحْسَنَ اللَّهُ إِلَيْكَ ۖ وَلَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِي الْأَرْضِ ۖ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُفْسِدِينَ ۝٧٧
Wabtaghi feemaaa aataakal laahud Daaral Aakhirata wa laa tansa naseebaka minad dunyaa wa ahsin kamaaa ahsanal laahu ilaika wa laa tabghil fasaada fil ardi innal laaha laa yuhibbul mufsideen
📖 اردو ترجمہ
اور جو (مال) تم کو خدا نے عطا فرمایا ہے اس سے آخرت کی بھلائی طلب کیجئے اور دنیا سے اپنا حصہ نہ بھلائیے اور جیسی خدا نے تم سے بھلائی کی ہے (ویسی) تم بھی (لوگوں سے) بھلائی کرو۔ اور ملک میں طالب فساد نہ ہو۔ کیونکہ خدا فساد کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • وَابْتَغِ: تلاش کرو، حاصل کرو۔
  • آتَاكَ: جو تمہیں دیا۔
  • الدَّارَ الْآخِرَةَ: آخرت کا گھر یعنی جنت۔
  • نَصِيبَكَ: تمہارا حصہ۔
  • أَحْسِن: بھلائی کرو، احسان کرو۔
  • لَا تَبْغِ: طلب نہ کرو، ارادہ نہ کرو۔
  • الْفَسَادَ: خرابی، بگاڑ۔
  • الْمُفْسِدِينَ: فساد پھیلانے والے۔

تفسیر:

اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ حضرت قارون کے واقعہ کے ضمن میں ایک ابدی اور جامع نصیحت فرما رہے ہیں، جو ہر مسلمان کے لیے مشعل راہ ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جو مال و دولت اور نعمتیں اللہ نے تمہیں عطا فرمائی ہیں، ان کے ذریعے آخرت کا گھر یعنی جنت حاصل کرنے کی کوشش کرو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اپنے مال کو اللہ کی راہ میں خرچ کرو، نیک کاموں میں لگاؤ، صدقہ و خیرات کرو، تاکہ آخرت میں تمہارے لیے اس کا اجر ذخیرہ ہو جائے۔

ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ دنیا کا اپنا حصہ بھی نہ بھولو، یعنی اللہ کی دی ہوئی حلال نعمتوں سے اعتدال کے ساتھ لطف اندوز ہونا بھی جائز ہے۔ کھانا، پینا، پہننا اور حلال طریقے سے زندگی گزارنا کوئی گناہ نہیں، بشرطیکہ اسراف اور تکبر نہ ہو۔ یہ توازن اسلام کا خاصہ ہے کہ نہ دنیا کو مکمل ترک کرو اور نہ آخرت کو بھلا دو۔

پھر اللہ تعالیٰ حکم دیتے ہیں کہ جس طرح اللہ نے تم پر احسان کیا ہے، تم بھی اللہ کے بندوں پر احسان کرو۔ اللہ نے تمہیں مال دیا تو تم بھی محتاجوں کی مدد کرو، یتیموں کا خیال کرو، غریبوں کا سہارا بنو۔ یہ شکر کا عملی تقاضا ہے۔

آخر میں سخت تنبیہ فرمائی کہ زمین میں فساد نہ پھیلاؤ، یعنی اللہ کی نافرمانی نہ کرو، کیونکہ جو شخص اللہ کی نافرمانی کرتا ہے وہ درحقیقت زمین میں فساد پھیلاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فساد پھیلانے والوں کو ہرگز پسند نہیں فرماتے، بلکہ ان سے سخت نفرت کرتا ہے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت میں ہمارے لیے بہترین زندگی گزارنے کا مکمل نسخہ ہے۔ اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ دولت کو اللہ کی رضا کے لیے خرچ کرو، یہی تمہارا اصل سرمایہ ہے جو آخرت میں کام آئے گا۔ ساتھ ہی دنیا کی حلال نعمتوں سے بھی محروم نہ رہو، کیونکہ اللہ نے یہ نعمتیں اپنے بندوں کے لیے بنائی ہیں۔ سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ انسان دونوں جہان کی بھلائی حاصل کرے۔ اللہ کے فضل و رحمت پر بھروسہ رکھو، وہ احسان کرنے والوں سے محبت کرتا ہے اور انہیں کبھی ناکام نہیں چھوڑتا۔ یاد رکھو، فساد اور ظلم کبھی پائیدار نہیں ہوتا، اللہ کی ناراضگی ہی سب سے بڑا نقصان ہے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 75-79 — قصص

75وَنَزَعْنَا مِن كُلِّ أُمَّةٍ شَهِيدًا فَقُلْنَا هَاتُوا بُرْهَانَكُمْ فَعَلِمُوا أَنَّ الْحَقَّ لِلَّهِ وَضَلَّ عَنْهُم مَّا كَانُوا يَفْتَرُونَ
اور ہم ہر ایک اُمت میں سے گواہ نکال لیں گے پھر کہیں گے کہ اپنی دلیل پیش کرو تو وہ جان لیں گے کہ سچ بات خدا کی ہے اور جو کچھ وہ افتراء کیا کرتے تھے ان سے جاتا رہے گا
76۞ إِنَّ قَارُونَ كَانَ مِن قَوْمِ مُوسَىٰ فَبَغَىٰ عَلَيْهِمْ ۖ وَآتَيْنَاهُ مِنَ الْكُنُوزِ مَا إِنَّ مَفَاتِحَهُ لَتَنُوءُ بِالْعُصْبَةِ أُولِي الْقُوَّةِ إِذْ قَالَ لَهُ قَوْمُهُ لَا تَفْرَحْ ۖ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْفَرِحِينَ
قارون موسٰی کی قوم میں سے تھا اور ان پر تعدّی کرتا تھا۔ اور ہم نے اس کو اتنے خزانے دیئے تھے کہ اُن کی کنجیاں ایک طاقتور جماعت کو اُٹھانی مشکل ہوتیں جب اس سے اس کی قوم نے کہا کہ اترائیے مت۔ کہ خدا اترانے والوں کو پسند نہیں کرتا
77وَابْتَغِ فِيمَا آتَاكَ اللَّهُ الدَّارَ الْآخِرَةَ ۖ وَلَا تَنسَ نَصِيبَكَ مِنَ الدُّنْيَا ۖ وَأَحْسِن كَمَا أَحْسَنَ اللَّهُ إِلَيْكَ ۖ وَلَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِي الْأَرْضِ ۖ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُفْسِدِينَ
اور جو (مال) تم کو خدا نے عطا فرمایا ہے اس سے آخرت کی بھلائی طلب کیجئے اور دنیا سے اپنا حصہ نہ بھلائیے اور جیسی خدا نے تم سے بھلائی کی ہے (ویسی) تم بھی (لوگوں سے) بھلائی کرو۔ اور ملک میں طالب فساد نہ ہو۔ کیونکہ خدا فساد کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا
78قَالَ إِنَّمَا أُوتِيتُهُ عَلَىٰ عِلْمٍ عِندِي ۚ أَوَلَمْ يَعْلَمْ أَنَّ اللَّهَ قَدْ أَهْلَكَ مِن قَبْلِهِ مِنَ الْقُرُونِ مَنْ هُوَ أَشَدُّ مِنْهُ قُوَّةً وَأَكْثَرُ جَمْعًا ۚ وَلَا يُسْأَلُ عَن ذُنُوبِهِمُ الْمُجْرِمُونَ
بولا کہ یہ (مال) مجھے میری دانش (کے زور) سے ملا ہے کیا اس کو معلوم نہیں کہ خدا نے اس سے پہلے بہت سی اُمتیں جو اس سے قوت میں بڑھ کر اور جمعیت میں بیشتر تھیں ہلاک کر ڈالی ہیں۔ اور گنہگاروں سے اُن کے گناہوں کے بارے میں پوچھا نہیں جائے گا
79فَخَرَجَ عَلَىٰ قَوْمِهِ فِي زِينَتِهِ ۖ قَالَ الَّذِينَ يُرِيدُونَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا يَا لَيْتَ لَنَا مِثْلَ مَا أُوتِيَ قَارُونُ إِنَّهُ لَذُو حَظٍّ عَظِيمٍ
تو (ایک روز) قارون (بڑی) آرائش (اور ٹھاٹھ) سے اپنی قوم کے سامنے نکلا۔ جو لوگ دنیا کی زندگی کے طالب تھے کہنے لگے کہ جیسا (مال ومتاع) قارون کو ملا ہے کاش ایسا ہی ہمیں بھی ملے۔ وہ تو بڑا ہی صاحب نصیب ہے
قصصقرآن فہرست
88آیت
مکیRevelation
77آیت

ترجمہ — قصص 77

سورہ قصص آیت 77 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور جو (مال) تم کو خدا نے عطا فرمایا ہے…

سورہ آیت 77/88 — قصص القصص (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: قصص سنیں, قصص ترجمہ, قصص mp3, قصص pdf. آیت 75–79. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں