اور اگر تم (میری) تکذیب کرو تو تم سے پہلے بھی اُمتیں (اپنے پیغمبروں کی) تکذیب کرچکی ہیں۔ اور پیغمبر کے ذمے کھول کر سنا دینے کے سوا اور کچھ نہیں
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
تُكَذِّبُوا: جھٹلاؤ، تکذیب کرو
أُمَمٌ: قومیں، جماعتیں
الْبَلَاغُ الْمُبِينُ: واضح اور صریح پیغام پہنچا دینا
تفسیر:
اے لوگو! اگر تم ہمارے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلاتے ہو اور ان کی لائی ہوئی توحید اور حقانی پیغام کو قبول نہیں کرتے، تو یہ کوئی نئی بات نہیں۔ تم سے پہلے بھی بہت سی قومیں اپنے انبیاء کو جھٹلا چکی ہیں۔ قوم نوح، عاد، ثمود اور دیگر امتوں نے اپنے رسولوں کو جھٹلایا، لیکن ان کے جھٹلانے سے حق پر کوئی فرق نہیں پڑا۔ اللہ کا دین قائم رہا اور جھٹلانے والوں کا انجام تباہی اور بربادی کے سوا کچھ نہ تھا۔
رسول کا کام صرف یہ ہے کہ اللہ کا پیغام لوگوں تک واضح طور پر پہنچا دے، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ذمہ داری پوری کر دی ہے۔ انہوں نے حق کو بیان کیا، لوگوں کو راستہ دکھایا اور انہیں عذاب سے ڈرایا۔ اب ہر شخص اپنے عمل کا خود ذمہ دار ہے۔ اگر کوئی ایمان لاتا ہے تو اس کا فائدہ خود اسے ہوگا، اور اگر کوئی جھٹلاتا ہے تو اس کا نقصان بھی خود اسی کو پہنچے گا۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ حق کی تبلیغ کرنا ہمارا فرض ہے، لیکن ہدایت دینا صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ ہمیں اپنا کام صرف پہنچانا ہے، نتیجہ اللہ پر چھوڑ دینا چاہیے۔ جب ہم یہ سمجھ لیں گے کہ ہم صرف پیغام پہنچانے والے ہیں، تو ہمیں لوگوں کی طرف سے آنے والی مخالفت اور تکذیب پر رنج نہیں ہوگا۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پوری زندگی میں یہی کیا، انہوں نے حق پہنچایا، صبر کیا اور اللہ پر بھروسہ رکھا۔ آئیے ہم بھی اپنے رب کے دین کو پہنچانے میں کوئی کسر نہ چھوڑیں، اور یقین رکھیں کہ اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ جو لوگ حق کو قبول کریں گے وہ کامیاب ہوں گے، اور جو جھٹلائیں گے وہ اپنا ہی نقصان کریں گے۔ اللہ ہمیں حق کو قبول کرنے اور اس پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
تو تم خدا کو چھوڑ کر بتوں کو پوجتے اور طوفان باندھتے ہو تو جن لوگوں کو تم خدا کے سوا پوجتے ہو وہ تم کو رزق دینے کا اختیار نہیں رکھتے پس خدا ہی کے ہاں سے رزق طلب کرو اور اسی کی عبادت کرو اور اسی کا شکر کرو اسی کی طرف تم لوٹ کر جاؤ گے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔