کیا اُنہوں نے نہیں دیکھا کہ خدا کس طرح خلقت کو پہلی بار پیدا کرتا پھر (کس طرح) اس کو بار بار پیدا کرتا رہتا ہے۔ یہ خدا کو آسان ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
یُبْدِئُ الْخَلْقَ: مخلوقات کو پہلی بار پیدا کرنا۔
یُعِیدُهُ: انہیں دوبارہ زندہ کرنا۔
یَسِیرٌ: آسان، بہت ہی آسان۔
تفسیر:
کیا یہ لوگ جو قیامت اور دوبارہ زندہ ہونے کا انکار کرتے ہیں، کبھی آنکھیں کھول کر نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح مخلوقات کو پہلی بار پیدا کیا؟ وہی ذات جو عدم سے وجود لائی، جو نطفہ سے انسان بناتی ہے، پھر اسے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرے گی۔ جس طرح پہلی بار پیدا کرنا اس کے لیے آسان تھا، اسی طرح دوبارہ زندہ کرنا بھی اس کے لیے نہایت آسان ہے۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے لیے کوئی چیز مشکل نہیں، نہ پہلی بار پیدا کرنا مشکل تھا اور نہ ہی دوبارہ زندہ کرنا مشکل ہے۔
یہ آیت ہمیں غور و فکر کی دعوت دیتی ہے کہ ہم اپنے ارد گرد کی کائنات پر نظر ڈالیں۔ درخت بہار میں پھلتے ہیں، پھر خزاں میں سوکھ جاتے ہیں، پھر اگلے موسم میں پھر سرسبز ہو جاتے ہیں۔ بارش زمین کو مردہ کر دیتی ہے، پھر وہی زمین اللہ کے حکم سے زندہ ہو کر سبزہ اگاتی ہے۔ یہ سب کچھ اللہ کی قدرت کا عملی ثبوت ہے۔ جس ذات نے پہلی بار پیدا کیا، وہ دوبارہ کیوں نہیں پیدا کر سکتی؟
پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمارے ایمان کی مضبوطی کا ذریعہ ہے۔ جب ہمیں یقین ہو کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے، تو ہماری زندگی میں کوئی پریشانی، کوئی مشکل ہمیں مایوس نہیں کر سکتی۔ جو اللہ مردوں کو زندہ کر سکتا ہے، وہ ہماری مشکلات کو بھی آسان کر سکتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے رب کی قدرت پر پورا بھروسہ رکھیں اور اس کی عبادت میں کبھی سستی نہ کریں۔ یہی ایمان ہمیں جنت کی راہ دکھائے گا اور ہمیں اس دن کی تیاری کرنی چاہیے جب سب کو دوبارہ زندہ کر کے اللہ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ اللہ ہمیں اس حقیقت کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
تو تم خدا کو چھوڑ کر بتوں کو پوجتے اور طوفان باندھتے ہو تو جن لوگوں کو تم خدا کے سوا پوجتے ہو وہ تم کو رزق دینے کا اختیار نہیں رکھتے پس خدا ہی کے ہاں سے رزق طلب کرو اور اسی کی عبادت کرو اور اسی کا شکر کرو اسی کی طرف تم لوٹ کر جاؤ گے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔