آل عمران · 118/200
ترجمہ تلفظ — آل عمران
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا بِطَانَةً مِّن دُونِكُمْ لَا يَأْلُونَكُمْ خَبَالًا وَدُّوا مَا عَنِتُّمْ قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَاءُ مِنْ أَفْوَاهِهِمْ وَمَا تُخْفِي صُدُورُهُمْ أَكْبَرُ ۚ قَدْ بَيَّنَّا لَكُمُ الْآيَاتِ ۖ إِن كُنتُمْ تَعْقِلُونَ ۝١١٨
Yaaa ayyuhal lazeena aamanoo laa tattakhizoo bitaanatam min doonikum laa yaaloonakum khabaalanw waddoo maa `anittum qad badatil baghdaaa`u min afwaahihim; wa maa tukhfee sudooruhum akbar; qad baiyannaa lakumul Aayaati in kuntum ta`qiloon
📖 اردو ترجمہ
مومنو! کسی غیر (مذہب کے آدمی) کو اپنا رازداں نہ بنانا یہ لوگ تمہاری خرابی اور (فتنہ انگیزی کرنے) میں کسی طرح کی کوتاہی نہیں کرتے اور چاہتے ہیں کہ (جس طرح ہو) تمہیں تکلیف پہنچے ان کی زبانوں سے تو دشمنی ظاہر ہوہی چکی ہے اور جو (کینے) ان کے سینوں میں مخفی ہیں وہ کہیں زیادہ ہیں اگر تم عقل رکھتے ہو تو ہم نے تم کو اپنی آیتیں کھول کھول کر سنا دی ہیں
🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

اے ایمان والو! اپنے علاوہ (یعنی غیر مومنین) کو اپنا رازدار اور خاص دوست نہ بناؤ۔ وہ تمہیں نقصان پہنچانے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھتے، وہ چاہتے ہیں کہ تم مصیبت اور تکلیف میں مبتلا رہو۔ ان کی دشمنی ان کے منہ سے ظاہر ہو چکی ہے، اور جو کچھ ان کے سینے چھپائے ہوئے ہیں وہ اس سے بھی بڑھ کر ہے۔ ہم نے تمہارے لیے نشانیاں واضح کر دی ہیں، اگر تم عقل سے کام لو۔

معانی الفاظ:

  • بطانة: خاص دوست، رازدار، وہ شخص جس سے آدمی اپنے اندرونی معاملات اور راز شریک کرے۔
  • لا یألونکم خبالاً: وہ تمہیں خراب کرنے اور فساد پھیلانے میں کوئی کوتاہی نہیں کرتے، یعنی پوری کوشش کرتے ہیں۔
  • عنت: مشقت، تکلیف، نقصان۔
  • بغضاء: سخت دشمنی اور کینہ۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ اپنے ایمان والے بندوں کو ایک اہم نصیحت فرما رہے ہیں کہ وہ کافروں اور منافقوں کو اپنا رازدار اور خاص دوست نہ بنائیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ ہمیشہ تمہارے خلاف سازشیں کرتے رہتے ہیں اور تمہیں نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ وہ تمہاری تکلیف اور پریشانی پر خوش ہوتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ تم مشکلات میں مبتلا رہو۔

ان کی عداوت اور دشمنی صرف چھپی ہوئی نہیں، بلکہ ان کی زبانوں سے بھی ظاہر ہوتی ہے — وہ تمہارے بارے میں برا کہتے ہیں، تمہارے دین کی تحقیر کرتے ہیں اور تمہارے راز افشا کرتے ہیں۔ لیکن جو کچھ ان کے دلوں میں تمہارے خلاف کینہ اور بغض چھپا ہوا ہے، وہ اس سے بھی زیادہ شدید ہے جو وہ زبان سے ظاہر کرتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر بڑا فضل کیا ہے کہ انہیں یہ واضح ہدایات دیں تاکہ وہ دشمنوں کی فریب کاریوں سے بچ سکیں۔ جو شخص عقل سے کام لیتا ہے وہ ان نشانیوں سے سبق حاصل کرتا ہے اور اپنے دشمنوں سے ہوشیار رہتا ہے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو ایک اہم حفاظتی سبق سکھا رہے ہیں۔ یہ محض ایک تنبیہ نہیں بلکہ مومنین کے لیے ایک رحمت ہے کہ وہ اپنے دین اور اپنی جماعت کی حفاظت کریں۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے معاملات اور راز صرف انہی لوگوں کے ساتھ شیئر کریں جو ہمارے دین اور دنیا دونوں میں ہمارے خیرخواہ ہوں۔ یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ دوستی اور محبت کی بنیاد ایمان اور تقویٰ ہونی چاہیے، نہ کہ صرف دنیاوی مصلحت۔ جو شخص اللہ کی ان ہدایات پر عمل کرتا ہے، وہ دنیا میں بھی محفوظ رہتا ہے اور آخرت میں بھی کامیاب ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر شفقت فرمائی کہ انہیں دشمنوں کی حقیقت پہلے سے بتا دی، تاکہ وہ غفلت میں نہ رہیں اور اپنے ایمان کی حفاظت کریں۔


📜 آیت 116-120 — آل عمران

116إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَن تُغْنِيَ عَنْهُمْ أَمْوَالُهُمْ وَلَا أَوْلَادُهُم مِّنَ اللَّهِ شَيْئًا ۖ وَأُولَٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ ۚ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ
جو لوگ کافر ہیں ان کے مال اور اولاد خدا کے غضب کو ہرگز نہیں ٹال سکیں گے اور یہ لوگ اہلِ دوزخ ہیں کہ ہمیشہ اسی میں رہیں گے
117مَثَلُ مَا يُنفِقُونَ فِي هَٰذِهِ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا كَمَثَلِ رِيحٍ فِيهَا صِرٌّ أَصَابَتْ حَرْثَ قَوْمٍ ظَلَمُوا أَنفُسَهُمْ فَأَهْلَكَتْهُ ۚ وَمَا ظَلَمَهُمُ اللَّهُ وَلَٰكِنْ أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ
یہ جو مال دنیا کی زندگی میں خرچ کرتے ہیں اس کی مثال ہوا کی سی ہے جس میں سخت سردی ہو اور وہ ایسے لوگوں کی کھیتی پر جو اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے چلے اور اسے تباہ کر دے اور خدا نے ان پر کچھ ظلم نہیں کیا بلکہ یہ خود اپنے اوپر ظلم کر رہے ہیں
118يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا بِطَانَةً مِّن دُونِكُمْ لَا يَأْلُونَكُمْ خَبَالًا وَدُّوا مَا عَنِتُّمْ قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَاءُ مِنْ أَفْوَاهِهِمْ وَمَا تُخْفِي صُدُورُهُمْ أَكْبَرُ ۚ قَدْ بَيَّنَّا لَكُمُ الْآيَاتِ ۖ إِن كُنتُمْ تَعْقِلُونَ
مومنو! کسی غیر (مذہب کے آدمی) کو اپنا رازداں نہ بنانا یہ لوگ تمہاری خرابی اور (فتنہ انگیزی کرنے) میں کسی طرح کی کوتاہی نہیں کرتے اور چاہتے ہیں کہ (جس طرح ہو) تمہیں تکلیف پہنچے ان کی زبانوں سے تو دشمنی ظاہر ہوہی چکی ہے اور جو (کینے) ان کے سینوں میں مخفی ہیں وہ کہیں زیادہ ہیں اگر تم عقل رکھتے ہو تو ہم نے تم کو اپنی آیتیں کھول کھول کر سنا دی ہیں
119هَا أَنتُمْ أُولَاءِ تُحِبُّونَهُمْ وَلَا يُحِبُّونَكُمْ وَتُؤْمِنُونَ بِالْكِتَابِ كُلِّهِ وَإِذَا لَقُوكُمْ قَالُوا آمَنَّا وَإِذَا خَلَوْا عَضُّوا عَلَيْكُمُ الْأَنَامِلَ مِنَ الْغَيْظِ ۚ قُلْ مُوتُوا بِغَيْظِكُمْ ۗ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ
دیکھو تم ایسے (صاف دل) لوگ ہو کہ ان لوگوں سے دوستی رکھتے ہو حالانکہ وہ تم سے دوستی نہیں رکھتے اور تم سب کتابوں پر ایمان رکھتے ہو (اور وہ تمہاری کتاب کو نہیں مانتے) اور جب تم سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم ایمان لے آئے اور جب الگ ہوتے ہیں تو تم پر غصے کے سبب انگلیاں کاٹ کاٹ کھاتے ہیں (ان سے) کہہ دو کہ (بدبختو) غصے میں مر جاؤ خدا تمہارے دلوں کی باتوں سے خوب واقف ہے
120إِن تَمْسَسْكُمْ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ وَإِن تُصِبْكُمْ سَيِّئَةٌ يَفْرَحُوا بِهَا ۖ وَإِن تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا لَا يَضُرُّكُمْ كَيْدُهُمْ شَيْئًا ۗ إِنَّ اللَّهَ بِمَا يَعْمَلُونَ مُحِيطٌ
اگر تمہیں آسودگی حاصل ہو تو ان کو بری لگتی ہے اور اگر رنج پہنچے تو خوش ہوتے ہیں اور اگر تم تکلیفوں کی برداشت اور (ان سے) کنارہ کشی کرتے رہو گے تو ان کا فریب تمھیں کچھ بھی نقصان نہ پہنچا سکے گا یہ جو کچھ کرتے ہیں خدا اس پر احاطہ کیے ہوئے ہے
آل عمرانقرآن فہرست
200آیت
مدنیRevelation
118آیت

ترجمہ — آل عمران 118

سورہ آل عمران آیت 118 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : مومنو! کسی غیر (مذہب کے آدمی) کو اپنا رازداں نہ…

سورہ آیت 118/200 — آل عمران آل عمران (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: آل عمران سنیں, آل عمران ترجمہ, آل عمران mp3, آل عمران pdf. آیت 116–120. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں