آل عمران · 119/200
ترجمہ تلفظ — آل عمران
هَٰٓأَنتُمۡ أُوْلَآءِ تُحِبُّونَهُمۡ وَلَا يُحِبُّونَكُمۡ وَتُؤۡمِنُونَ بِٱلۡكِتَٰبِ كُلِّهِۦ وَإِذَا لَقُوكُمۡ قَالُوٓاْ ءَامَنَّا وَإِذَا خَلَوۡاْ عَضُّواْ عَلَيۡكُمُ ٱلۡأَنَامِلَ مِنَ ٱلۡغَيۡظِۚ قُلۡ مُوتُواْ بِغَيۡظِكُمۡۗ إِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمُۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ  ۝١١٩
Haaa antum ulaaa`i tuhibboonahum wa laa yuhibboonakum wa tu`minoona bil kitaabi kullihee wa izaa laqookum qaalooo aamannaa wa izaa khalaw `addoo `alaikumul anaamila minal ghaiz; qul mootoo bighai zikum; innal laaha `aleemum bizaatis sudoor
📖 اردو ترجمہ
دیکھو تم ایسے (صاف دل) لوگ ہو کہ ان لوگوں سے دوستی رکھتے ہو حالانکہ وہ تم سے دوستی نہیں رکھتے اور تم سب کتابوں پر ایمان رکھتے ہو (اور وہ تمہاری کتاب کو نہیں مانتے) اور جب تم سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم ایمان لے آئے اور جب الگ ہوتے ہیں تو تم پر غصے کے سبب انگلیاں کاٹ کاٹ کھاتے ہیں (ان سے) کہہ دو کہ (بدبختو) غصے میں مر جاؤ خدا تمہارے دلوں کی باتوں سے خوب واقف ہے
📜

ترجمہ — Tafsir

ہاں تم ہی وہ لوگ ہو جو ان سے محبت کرتے ہو اور وہ تم سے محبت نہیں کرتے، حالانکہ تم تمام کتابوں پر ایمان رکھتے ہو (اور ان کی کتابوں پر بھی)، اور جب وہ تم سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے، اور جب تنہا ہوتے ہیں تو تم پر غیظ و غضب سے انگلیاں چبانے لگتے ہیں۔ کہہ دو کہ تم اپنے غیظ و غضب میں مر جاؤ، بے شک اللہ دلوں کے رازوں کو خوب جانتا ہے۔

معانی الفاظ:

  • الْأَنَامِلَ: انگلیوں کے سرے (پورے)
  • الْغَيْظِ: شدید غصہ، انتہائی غیظ
  • بِذَاتِ الصُّدُورِ: دلوں کے اندر جو کچھ ہے، چھپی ہوئی باتوں کا علم

تفسیر:

اے ایمان والو! یہ خود تمہاری غلطی کی دلیل ہے کہ تم ان لوگوں سے محبت کرتے ہو اور ان سے بھلائی کی امید رکھتے ہو، حالانکہ وہ تم سے محبت نہیں کرتے، بلکہ تمہارے خلاف عداوت اور بغض رکھتے ہیں۔ تم تمام آسمانی کتابوں پر ایمان رکھتے ہو، ان کی کتابوں پر بھی، مگر وہ تمہاری کتاب (قرآن) پر ایمان نہیں رکھتے۔ پھر تم ان سے محبت کیسے کر سکتے ہو؟ جب وہ تم سے ملتے ہیں تو منافقت سے کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے، لیکن جب تنہا ہوتے ہیں تو تمہارے خلاف شدید غصے سے انگلیاں چبانے لگتے ہیں، کیونکہ وہ دیکھتے ہیں کہ مسلمانوں کا اتحاد اور بھائی چارہ مضبوط ہے، اسلام عزت والا ہے اور وہ ذلت میں ہیں۔

اے نبی! ان سے کہہ دو کہ تم اپنے اس غیظ و غضب میں مر جاؤ، کیونکہ اللہ تعالیٰ دلوں کے اندر چھپی ہر بات کو جانتا ہے، چاہے وہ ایمان ہو یا کفر، خیر ہو یا شر، اور وہ ہر ایک کو اس کے اعمال کا بدلہ دے گا۔

دعوتی پہلو:

یہ آیت مسلمانوں کو سبق دیتی ہے کہ محبت اور دوستی صرف ایمان اور تقویٰ کی بنیاد پر ہونی چاہیے، نہ کہ دنیاوی مفادات یا رشتوں کی بنیاد پر۔ جب کوئی قوم تمہارے دین سے بغض رکھتی ہے اور تمہاری کتاب کا انکار کرتی ہے، تو ان سے محبت رکھنا ایمان کے منافی ہے۔ اللہ تعالیٰ دلوں کے راز جانتا ہے، لہٰذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنے دل کو پاک رکھے، خلوص اور سچائی کو اپنائے، اور دشمنانِ اسلام سے محبت سے بچے۔ یہ آیت مسلمانوں کو اتحاد اور یکجہتی کی تلقین بھی کرتی ہے کہ جب تم متحد رہو گے تو تمہارے دشمن کمزور ہوں گے اور ان کا غیظ و غضب بے سود ہوگا۔ اللہ تعالیٰ اپنے مخلص بندوں کی مدد کرتا ہے اور انہیں کامیابی عطا فرماتا ہے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 117-121 — آل عمران

117مَثَلُ مَا يُنفِقُونَ فِي هَٰذِهِ ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا كَمَثَلِ رِيحٍ فِيهَا صِرٌّ أَصَابَتۡ حَرۡثَ قَوۡمٍ ظَلَمُوٓاْ أَنفُسَهُمۡ فَأَهۡلَكَتۡهُۚ وَمَا ظَلَمَهُمُ ٱللَّهُ وَلَٰكِنۡ أَنفُسَهُمۡ يَظۡلِمُونَ 
یہ جو مال دنیا کی زندگی میں خرچ کرتے ہیں اس کی مثال ہوا کی سی ہے جس میں سخت سردی ہو اور وہ ایسے لوگوں کی کھیتی پر جو اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے چلے اور اسے تباہ کر دے اور خدا نے ان پر کچھ ظلم نہیں کیا بلکہ یہ خود اپنے اوپر ظلم کر رہے ہیں
118يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَتَّخِذُواْ بِطَانَةً مِّن دُونِكُمۡ لَا يَأۡلُونَكُمۡ خَبَالًا وَدُّواْ مَا عَنِتُّمۡ قَدۡ بَدَتِ ٱلۡبَغۡضَآءُ مِنۡ أَفۡوَٰهِهِمۡ وَمَا تُخۡفِي صُدُورُهُمۡ أَكۡبَرُۚ قَدۡ بَيَّنَّا لَكُمُ ٱلۡأٓيَٰتِۖ إِن كُنتُمۡ تَعۡقِلُونَ 
مومنو! کسی غیر (مذہب کے آدمی) کو اپنا رازداں نہ بنانا یہ لوگ تمہاری خرابی اور (فتنہ انگیزی کرنے) میں کسی طرح کی کوتاہی نہیں کرتے اور چاہتے ہیں کہ (جس طرح ہو) تمہیں تکلیف پہنچے ان کی زبانوں سے تو دشمنی ظاہر ہوہی چکی ہے اور جو (کینے) ان کے سینوں میں مخفی ہیں وہ کہیں زیادہ ہیں اگر تم عقل رکھتے ہو تو ہم نے تم کو اپنی آیتیں کھول کھول کر سنا دی ہیں
119هَٰٓأَنتُمۡ أُوْلَآءِ تُحِبُّونَهُمۡ وَلَا يُحِبُّونَكُمۡ وَتُؤۡمِنُونَ بِٱلۡكِتَٰبِ كُلِّهِۦ وَإِذَا لَقُوكُمۡ قَالُوٓاْ ءَامَنَّا وَإِذَا خَلَوۡاْ عَضُّواْ عَلَيۡكُمُ ٱلۡأَنَامِلَ مِنَ ٱلۡغَيۡظِۚ قُلۡ مُوتُواْ بِغَيۡظِكُمۡۗ إِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمُۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ 
دیکھو تم ایسے (صاف دل) لوگ ہو کہ ان لوگوں سے دوستی رکھتے ہو حالانکہ وہ تم سے دوستی نہیں رکھتے اور تم سب کتابوں پر ایمان رکھتے ہو (اور وہ تمہاری کتاب کو نہیں مانتے) اور جب تم سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم ایمان لے آئے اور جب الگ ہوتے ہیں تو تم پر غصے کے سبب انگلیاں کاٹ کاٹ کھاتے ہیں (ان سے) کہہ دو کہ (بدبختو) غصے میں مر جاؤ خدا تمہارے دلوں کی باتوں سے خوب واقف ہے
120إِن تَمۡسَسۡكُمۡ حَسَنَةٌ تَسُؤۡهُمۡ وَإِن تُصِبۡكُمۡ سَيِّئَةٌ يَفۡرَحُواْ بِهَاۖ وَإِن تَصۡبِرُواْ وَتَتَّقُواْ لَا يَضُرُّكُمۡ كَيۡدُهُمۡ شَيۡـًٔاۗ إِنَّ ٱللَّهَ بِمَا يَعۡمَلُونَ مُحِيطٌ 
اگر تمہیں آسودگی حاصل ہو تو ان کو بری لگتی ہے اور اگر رنج پہنچے تو خوش ہوتے ہیں اور اگر تم تکلیفوں کی برداشت اور (ان سے) کنارہ کشی کرتے رہو گے تو ان کا فریب تمھیں کچھ بھی نقصان نہ پہنچا سکے گا یہ جو کچھ کرتے ہیں خدا اس پر احاطہ کیے ہوئے ہے
121وَإِذۡ غَدَوۡتَ مِنۡ أَهۡلِكَ تُبَوِّئُ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ مَقَٰعِدَ لِلۡقِتَالِۗ وَٱللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ 
اور (اس وقت کو یاد کرو) جب تم صبح کو اپنے گھر روانہ ہو کر ایمان والوں کو لڑائی کے لیے مورچوں پر (موقع بہ موقع) متعین کرنے لگے اور خدا سب کچھ سنتا اور جانتا ہے
آل عمرانقرآن فہرست
200آیت
مدنیRevelation
119آیت

ترجمہ — آل عمران 119

سورہ آیت 119/200 — آل عمران آل عمران (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: آل عمران سنیں, آل عمران ترجمہ, آل عمران mp3, آل عمران pdf. آیت 117–121. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں