آل عمران · 117/200
ترجمہ تلفظ — آل عمران
مَثَلُ مَا يُنفِقُونَ فِي هَٰذِهِ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا كَمَثَلِ رِيحٍ فِيهَا صِرٌّ أَصَابَتْ حَرْثَ قَوْمٍ ظَلَمُوا أَنفُسَهُمْ فَأَهْلَكَتْهُ ۚ وَمَا ظَلَمَهُمُ اللَّهُ وَلَٰكِنْ أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ ۝١١٧
Masalu maa yunfiqoona fee haazihil hayaatid dunyaa kamasali reehin feehaa sirrun as aabat harsa qawmin zalamooo anfusahum fa ahlakath; wa maa zalamahumul laahu wa laakin anfusahum yazlimoon
📖 اردو ترجمہ
یہ جو مال دنیا کی زندگی میں خرچ کرتے ہیں اس کی مثال ہوا کی سی ہے جس میں سخت سردی ہو اور وہ ایسے لوگوں کی کھیتی پر جو اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے چلے اور اسے تباہ کر دے اور خدا نے ان پر کچھ ظلم نہیں کیا بلکہ یہ خود اپنے اوپر ظلم کر رہے ہیں
📜

ترجمہ — Tafsir

پہلا حصہ: اہم الفاظ کے معانی

  • صِرٌّ: شدید سردی، ٹھنڈی اور تیز آندھی۔
  • حَرْث: کھیتی، فصل، زراعت۔
  • ظَلَمُوا أَنفُسَهُمْ: اپنی جانوں پر ظلم کیا، یعنی کفر اور گناہوں کے ذریعے خود اپنے لیے نقصان کا سامان کیا۔

دوسرا حصہ: تفسیر

اللہ تعالیٰ اس آیت میں کافروں کے اُن اخراجات اور نیک کاموں کی مثال بیان فرماتا ہے جو وہ اس دنیاوی زندگی میں کرتے ہیں، جیسے غریبوں کی مدد، رشتہ داری، یا کوئی بھی بھلائی جس پر وہ ثواب کی امید رکھتے ہیں۔ ان سب کی حقیقت ایسی ہے جیسے ایک شدید ٹھنڈی اور تیز آندھی ایک ایسی قوم کی کھیتی پر چلے جس نے اپنے اوپر ظلم کیا ہو (یعنی کفر اور معاصی کا ارتکاب کیا ہو) اور وہ آندھی اس پوری فصل کو تباہ کر ڈالے، یہاں تک کہ اس میں سے کچھ بھی باقی نہ بچے، حالانکہ اس قوم کو اس فصل سے بہت امیدیں تھیں۔

بالکل اسی طرح کافروں کے نیک اعمال اور خرچ، جو وہ دنیا میں کرتے ہیں، ان کے کفر اور شرک کی وجہ سے اللہ کے ہاں بالکل قبول نہیں ہوتے اور آخرت میں انہیں اس کا کوئی ثواب نہیں ملے گا۔ جس طرح وہ آندھی کھیتی کو تباہ کر دیتی ہے، اسی طرح کفر ان کے تمام اعمال کو اکارت کر دیتا ہے۔

پھر اللہ تعالیٰ یہ وضاحت فرماتا ہے کہ اللہ نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا، بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کر رہے ہیں، کیونکہ انہوں نے کفر اور نافرمانی کا راستہ خود چنا اور اللہ کے رسولوں کی تکذیب کی۔ اللہ تو رحیم و کریم ہے، لیکن اس کی رحمت صرف ایمان والوں کے لیے ہے، کفر کی حالت میں کوئی عمل قبول نہیں ہوتا۔

تیسرا حصہ: دعوتی انداز میں پیغام

پیارے مسلمان بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمیں ایک انتہائی اہم حقیقت سے آگاہ کرتی ہے کہ نیکی اور بھلائی کی کوئی بھی صورت اس وقت تک اللہ کے ہاں مقبول نہیں ہو سکتی جب تک انسان کا ایمان صحیح نہ ہو۔ جس طرح ایک کسان اپنی محنت سے لگی فصل کو شدید سردی سے تباہ ہوتا دیکھ کر دل ٹوٹ جاتا ہے، اسی طرح کافر آخرت میں اپنے اعمال کو تباہ پا کر پشیمان ہوں گے۔

اللہ تعالیٰ نے ہم پر بہت بڑا احسان کیا ہے کہ ہمیں ایمان کی دولت عطا فرمائی۔ آؤ ہم اس نعمت کی قدر کریں، اپنے ایمان کو مضبوط کریں، اور اپنے اعمال کو خالص اللہ کے لیے بنائیں۔ یاد رکھیں، جب تک دل میں ایمان کی روشنی ہے، ہر نیکی اللہ کے ہاں قیمتی ہے، لیکن ایمان کے بغیر سب کچھ دھواں ہے۔ اللہ ہمیں سچے ایمان اور خالص اعمال کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 115-119 — آل عمران

115وَمَا يَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ فَلَن يُكْفَرُوهُ ۗ وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِالْمُتَّقِينَ
اور یہ جس طرح کی نیکی کریں گے اس کی ناقدری نہیں کی جائے گی اور خدا پرہیزگاروں کو خوب جانتا ہے
116إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَن تُغْنِيَ عَنْهُمْ أَمْوَالُهُمْ وَلَا أَوْلَادُهُم مِّنَ اللَّهِ شَيْئًا ۖ وَأُولَٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ ۚ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ
جو لوگ کافر ہیں ان کے مال اور اولاد خدا کے غضب کو ہرگز نہیں ٹال سکیں گے اور یہ لوگ اہلِ دوزخ ہیں کہ ہمیشہ اسی میں رہیں گے
117مَثَلُ مَا يُنفِقُونَ فِي هَٰذِهِ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا كَمَثَلِ رِيحٍ فِيهَا صِرٌّ أَصَابَتْ حَرْثَ قَوْمٍ ظَلَمُوا أَنفُسَهُمْ فَأَهْلَكَتْهُ ۚ وَمَا ظَلَمَهُمُ اللَّهُ وَلَٰكِنْ أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ
یہ جو مال دنیا کی زندگی میں خرچ کرتے ہیں اس کی مثال ہوا کی سی ہے جس میں سخت سردی ہو اور وہ ایسے لوگوں کی کھیتی پر جو اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے چلے اور اسے تباہ کر دے اور خدا نے ان پر کچھ ظلم نہیں کیا بلکہ یہ خود اپنے اوپر ظلم کر رہے ہیں
118يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا بِطَانَةً مِّن دُونِكُمْ لَا يَأْلُونَكُمْ خَبَالًا وَدُّوا مَا عَنِتُّمْ قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَاءُ مِنْ أَفْوَاهِهِمْ وَمَا تُخْفِي صُدُورُهُمْ أَكْبَرُ ۚ قَدْ بَيَّنَّا لَكُمُ الْآيَاتِ ۖ إِن كُنتُمْ تَعْقِلُونَ
مومنو! کسی غیر (مذہب کے آدمی) کو اپنا رازداں نہ بنانا یہ لوگ تمہاری خرابی اور (فتنہ انگیزی کرنے) میں کسی طرح کی کوتاہی نہیں کرتے اور چاہتے ہیں کہ (جس طرح ہو) تمہیں تکلیف پہنچے ان کی زبانوں سے تو دشمنی ظاہر ہوہی چکی ہے اور جو (کینے) ان کے سینوں میں مخفی ہیں وہ کہیں زیادہ ہیں اگر تم عقل رکھتے ہو تو ہم نے تم کو اپنی آیتیں کھول کھول کر سنا دی ہیں
119هَا أَنتُمْ أُولَاءِ تُحِبُّونَهُمْ وَلَا يُحِبُّونَكُمْ وَتُؤْمِنُونَ بِالْكِتَابِ كُلِّهِ وَإِذَا لَقُوكُمْ قَالُوا آمَنَّا وَإِذَا خَلَوْا عَضُّوا عَلَيْكُمُ الْأَنَامِلَ مِنَ الْغَيْظِ ۚ قُلْ مُوتُوا بِغَيْظِكُمْ ۗ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ
دیکھو تم ایسے (صاف دل) لوگ ہو کہ ان لوگوں سے دوستی رکھتے ہو حالانکہ وہ تم سے دوستی نہیں رکھتے اور تم سب کتابوں پر ایمان رکھتے ہو (اور وہ تمہاری کتاب کو نہیں مانتے) اور جب تم سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم ایمان لے آئے اور جب الگ ہوتے ہیں تو تم پر غصے کے سبب انگلیاں کاٹ کاٹ کھاتے ہیں (ان سے) کہہ دو کہ (بدبختو) غصے میں مر جاؤ خدا تمہارے دلوں کی باتوں سے خوب واقف ہے
آل عمرانقرآن فہرست
200آیت
مدنیRevelation
117آیت

ترجمہ — آل عمران 117

سورہ آل عمران آیت 117 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : یہ جو مال دنیا کی زندگی میں خرچ کرتے ہیں…

سورہ آیت 117/200 — آل عمران آل عمران (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: آل عمران سنیں, آل عمران ترجمہ, آل عمران mp3, آل عمران pdf. آیت 115–119. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں