ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- خَلَتْ: گزر گئیں، گذر چکیں۔
- انقَلَبْتُمْ: پلٹ گئے، الٹے پاؤں واپس ہو گئے۔
- عَلَىٰ أَعْقَابِكُمْ: اپنی ایڑیوں پر، یعنی پیچھے کی طرف لوٹ جانا (کفر و ارتداد کی طرف)۔
- عَقِبَيْهِ: اپنی ایڑیوں پر (یعنی دین سے پھر جانا)۔
- الشَّاكِرِينَ: شکر کرنے والے، وہ لوگ جو اللہ کی نعمتِ اسلام پر ثابت قدم رہیں اور اس کا شکر ادا کریں۔
تفسیر:
محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، اور رسول بھی اسی نوعیت کے، جیسے آپ سے پہلے گزرے ہوئے تمام رسول تھے۔ وہ بھی بشر تھے، انہوں نے بھی اپنی اپنی قوموں کو اللہ کا پیغام پہنچایا، اور پھر ان میں سے بعض تو قدرتی موت مرے اور بعض شہید کیے گئے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں کہ کوئی رسول ہمیشہ زندہ رہے۔ چنانچہ اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو جائے یا آپ شہید کر دیے جائیں، جیسا کہ منافقین اور مشرکین نے غزوہ احد کے موقع پر یہ افواہ پھیلا دی تھی کہ آپ شہید ہو گئے ہیں، تو کیا تم لوگ اپنے دین سے پھر جاؤ گے؟ کیا تم اپنی ایڑیوں کے بل الٹے پاؤں واپس چلے جاؤ گے؟ یعنی کیا تم اسلام کو چھوڑ کر کفر کی طرف لوٹ جاؤ گے؟ یہ سوال اس لیے ہے کہ مسلمانوں کو ثابت قدم رکھا جائے اور انہیں بتایا جائے کہ دینِ اسلام کسی شخص کی زندگی یا موت سے وابستہ نہیں، بلکہ یہ اللہ کا دین ہے جو قیامت تک باقی رہے گا۔
یاد رکھو! جو شخص بھی اپنے دین سے پھر جائے گا، وہ اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا۔ اللہ تو غنی اور قادرِ مطلق ہے، اسے کسی کی اطاعت سے کوئی فائدہ نہیں اور نہ کسی کی نافرمانی سے کوئی نقصان۔ درحقیقت جو شخص ارتداد اختیار کرتا ہے، وہ اپنا ہی نقصان کرتا ہے، اپنے آپ کو دنیا اور آخرت دونوں کی خسارت میں ڈالتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے دین کی حفاظت خود فرمائے گا، جیسا کہ اس نے ہمیشہ فرمائی ہے۔
اور جو لوگ اسلام کی نعمت پر شکر کرتے ہیں، یعنی اس پر ثابت قدم رہتے ہیں، اپنے دین پر قائم رہتے ہیں، اللہ کے راستے میں جہاد کرتے ہیں اور اپنے رسول کی اطاعت کرتے ہیں، تو اللہ انہیں یقیناً بہترین جزا دے گا۔ اللہ شکر کرنے والوں کی قدر کرتا ہے اور انہیں دنیا میں عزت اور آخرت میں جنت عطا فرمائے گا۔
دعوتی پہلو:
پیارے مسلمانو! یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ ہمارا دین کسی شخصیت پر منحصر نہیں، بلکہ یہ اللہ کا دین ہے جو ہمیشہ قائم رہنے والا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے ایمان کو مضبوط کریں، اپنے دین پر ثابت قدم رہیں، اور کسی بھی حال میں پریشان نہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کی حفاظت کا وعدہ فرمایا ہے، اور وہ اپنے وعدے کو پورا کرنے والا ہے۔ آج بھی اسلام زندہ ہے، قرآن محفوظ ہے، اور لاکھوں کروڑوں مسلمان اس پر عمل پیرا ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ کے شکر گزار بندے بنیں، اپنے دین پر ڈٹے رہیں، اور اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر چلتے رہیں۔ جو لوگ اس طرح کریں گے، اللہ انہیں کبھی ناکام نہیں کرے گا۔
📜 آیت 142-146 — آل عمران
ترجمہ — آل عمران 144
سورہ آل عمران آیت 144 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور محمد (صلی الله علیہ وسلم) تو صرف (خدا کے)…سورہ آیت 144/200 — آل عمران آل عمران (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: آل عمران سنیں, آل عمران ترجمہ, آل عمران mp3, آل عمران pdf. آیت 142–146. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








