ترجمہ — Tafsir
﴿وَمَا كَانَ لِنَفْسٍ أَن تَمُوتَ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ كِتَابًا مُّؤَجَّلًا﴾
معانی الفاظ:
- کِتَابًا مُّؤَجَّلًا: یعنی موت کا وقت اللہ کے ہاں لکھا ہوا ہے، جو مقررہ مدت تک مؤخر ہے۔
- ثَوَابَ الدُّنْيَا: دنیا کا بدلہ اور فائدہ۔
- ثَوَابَ الْآخِرَةِ: آخرت کا اجر اور ثواب۔
- الشَّاكِرِينَ: وہ لوگ جو اللہ کی نعمتوں پر شکر کرتے ہیں اور اس کی اطاعت کرتے ہیں۔
تفسیر:
اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ایک اہم حقیقت سے آگاہ فرما رہے ہیں کہ کسی بھی جان کا موت آنا اللہ کے اذن اور اس کی مشیت کے بغیر ممکن نہیں۔ اللہ نے ہر انسان کی موت کا وقت اپنے علمِ ازلی میں لکھ رکھا ہے، جو نہ آگے بڑھ سکتا ہے اور نہ پیچھے ہٹ سکتا ہے۔ چنانچہ جب مقررہ وقت آ جاتا ہے تو وہ شخص مر جاتا ہے، خواہ وہ کسی بھی حالت میں ہو۔
یہ بات اس لیے بیان کی گئی ہے تاکہ مسلمانوں کو جہاد اور میدانِ جنگ میں ثابت قدم رہنے کی ترغیب دی جائے۔ غزوۂ احد کے موقع پر بعض مسلمانوں نے اپنی جگہ چھوڑ دی تھی کیونکہ انہیں ڈر تھا کہ کہیں وہ مالِ غنیمت سے محروم نہ رہ جائیں، یا انہوں نے یہ سمجھا کہ میدانِ جنگ میں ٹھہرنے سے موت آ سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں سمجھایا کہ موت کا وقت اللہ کے ہاں مقرر ہے، نہ تمہارے بھاگنے سے موت ٹل سکتی ہے اور نہ تمہارے لڑنے سے وہ جلدی آ سکتی ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جو شخص اپنے عمل سے صرف دنیا کا بدلہ اور فائدہ چاہتا ہے، ہم اسے دنیا میں سے اتنا دے دیتے ہیں جتنا اس کے مقدر میں لکھا ہے، لیکن آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہوگا۔ اور جو شخص اپنے عمل سے آخرت کا ثواب چاہتا ہے، ہم اسے آخرت کا اجر عطا فرمائیں گے، اور ساتھ ہی دنیا کا رزق بھی اسے ملے گا جو اللہ نے اس کے لیے مقدر کیا ہے۔
یہاں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا کہ ہم شکر کرنے والوں کو ضرور جزا دیں گے۔ شکر کرنے والے وہ لوگ ہیں جو اللہ کی اطاعت کرتے ہیں، اس کے حکموں پر عمل کرتے ہیں اور نعمتوں کو اللہ کی راہ میں استعمال کرتے ہیں۔ انہیں اللہ تعالیٰ بہترین جزا عطا فرمائیں گے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت سے اسباق ملتے ہیں۔ سب سے پہلے یہ کہ ہمیں موت سے ڈر کر نیکی کے کاموں سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے۔ موت کا وقت اللہ کے ہاں مقرر ہے، اس لیے ہمیں اللہ کی راہ میں خرچ کرنے، نیکی کرنے اور جہاد کرنے سے گریز نہیں کرنا چاہیے۔ دوسرا یہ کہ ہمیں اپنے اعمال کی نیت کو درست کرنا چاہیے۔ اگر ہم صرف دنیا کے لیے کام کریں گے تو دنیا ہی ملے گی، لیکن اگر ہم آخرت کے لیے کام کریں گے تو اللہ ہمیں دونوں جہان کی بھلائیاں عطا فرمائے گا۔ تیسرا یہ کہ ہمیں اللہ کا شکر گزار بندہ بننا چاہیے، کیونکہ شکر کرنے والوں سے اللہ محبت کرتا ہے اور انہیں بہترین جزا دیتا ہے۔
آئیے ہم اپنی نیتوں کو درست کریں، اپنے اعمال کو اللہ کی رضا کے لیے کریں، اور اللہ کے شکر گزار بندے بنیں تاکہ ہم دنیا اور آخرت دونوں میں کامیاب ہو سکیں۔ اللہ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
📜 آیت 143-147 — آل عمران
ترجمہ — آل عمران 145
سورہ آل عمران آیت 145 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور کسی شخص میں طاقت نہیں کہ خدا کے حکم…سورہ آیت 145/200 — آل عمران آل عمران (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: آل عمران سنیں, آل عمران ترجمہ, آل عمران mp3, آل عمران pdf. آیت 143–147. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








