آل عمران · 145/200
ترجمہ تلفظ — آل عمران
وَمَا كَانَ لِنَفْسٍ أَن تَمُوتَ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ كِتَابًا مُّؤَجَّلًا ۗ وَمَن يُرِدْ ثَوَابَ الدُّنْيَا نُؤْتِهِ مِنْهَا وَمَن يُرِدْ ثَوَابَ الْآخِرَةِ نُؤْتِهِ مِنْهَا ۚ وَسَنَجْزِي الشَّاكِرِينَ ۝١٤٥
Wa maa kaana linafsin an tamoota illaa bi iznillaahi kitaabam mu`ajjalaa; wa mai yurid sawaabad dunyaa nu`tihee minhaa wa mai yurid sawaabal Aakhirati nu`tihee minhaa; wa sanajzish shaakireen
📖 اردو ترجمہ
اور کسی شخص میں طاقت نہیں کہ خدا کے حکم کے بغیر مر جائے (اس نے موت کا) وقت مقرر کر کے لکھ رکھا ہے اور جو شخص دنیا میں (اپنے اعمال کا) بدلہ چاہے اس کو ہم یہیں بدلہ دے دیں گے اور جو آخرت میں طالبِ ثواب ہو اس کو وہاں اجر عطا کریں گے اور ہم شکر گزاروں کو عنقریب (بہت اچھا) صلہ دیں گے
📜

ترجمہ — Tafsir

﴿وَمَا كَانَ لِنَفْسٍ أَن تَمُوتَ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ كِتَابًا مُّؤَجَّلًا﴾

معانی الفاظ:

  • کِتَابًا مُّؤَجَّلًا: یعنی موت کا وقت اللہ کے ہاں لکھا ہوا ہے، جو مقررہ مدت تک مؤخر ہے۔
  • ثَوَابَ الدُّنْيَا: دنیا کا بدلہ اور فائدہ۔
  • ثَوَابَ الْآخِرَةِ: آخرت کا اجر اور ثواب۔
  • الشَّاكِرِينَ: وہ لوگ جو اللہ کی نعمتوں پر شکر کرتے ہیں اور اس کی اطاعت کرتے ہیں۔

تفسیر:

اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ایک اہم حقیقت سے آگاہ فرما رہے ہیں کہ کسی بھی جان کا موت آنا اللہ کے اذن اور اس کی مشیت کے بغیر ممکن نہیں۔ اللہ نے ہر انسان کی موت کا وقت اپنے علمِ ازلی میں لکھ رکھا ہے، جو نہ آگے بڑھ سکتا ہے اور نہ پیچھے ہٹ سکتا ہے۔ چنانچہ جب مقررہ وقت آ جاتا ہے تو وہ شخص مر جاتا ہے، خواہ وہ کسی بھی حالت میں ہو۔

یہ بات اس لیے بیان کی گئی ہے تاکہ مسلمانوں کو جہاد اور میدانِ جنگ میں ثابت قدم رہنے کی ترغیب دی جائے۔ غزوۂ احد کے موقع پر بعض مسلمانوں نے اپنی جگہ چھوڑ دی تھی کیونکہ انہیں ڈر تھا کہ کہیں وہ مالِ غنیمت سے محروم نہ رہ جائیں، یا انہوں نے یہ سمجھا کہ میدانِ جنگ میں ٹھہرنے سے موت آ سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں سمجھایا کہ موت کا وقت اللہ کے ہاں مقرر ہے، نہ تمہارے بھاگنے سے موت ٹل سکتی ہے اور نہ تمہارے لڑنے سے وہ جلدی آ سکتی ہے۔

پھر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جو شخص اپنے عمل سے صرف دنیا کا بدلہ اور فائدہ چاہتا ہے، ہم اسے دنیا میں سے اتنا دے دیتے ہیں جتنا اس کے مقدر میں لکھا ہے، لیکن آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہوگا۔ اور جو شخص اپنے عمل سے آخرت کا ثواب چاہتا ہے، ہم اسے آخرت کا اجر عطا فرمائیں گے، اور ساتھ ہی دنیا کا رزق بھی اسے ملے گا جو اللہ نے اس کے لیے مقدر کیا ہے۔

یہاں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا کہ ہم شکر کرنے والوں کو ضرور جزا دیں گے۔ شکر کرنے والے وہ لوگ ہیں جو اللہ کی اطاعت کرتے ہیں، اس کے حکموں پر عمل کرتے ہیں اور نعمتوں کو اللہ کی راہ میں استعمال کرتے ہیں۔ انہیں اللہ تعالیٰ بہترین جزا عطا فرمائیں گے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں بہت سے اسباق ملتے ہیں۔ سب سے پہلے یہ کہ ہمیں موت سے ڈر کر نیکی کے کاموں سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے۔ موت کا وقت اللہ کے ہاں مقرر ہے، اس لیے ہمیں اللہ کی راہ میں خرچ کرنے، نیکی کرنے اور جہاد کرنے سے گریز نہیں کرنا چاہیے۔ دوسرا یہ کہ ہمیں اپنے اعمال کی نیت کو درست کرنا چاہیے۔ اگر ہم صرف دنیا کے لیے کام کریں گے تو دنیا ہی ملے گی، لیکن اگر ہم آخرت کے لیے کام کریں گے تو اللہ ہمیں دونوں جہان کی بھلائیاں عطا فرمائے گا۔ تیسرا یہ کہ ہمیں اللہ کا شکر گزار بندہ بننا چاہیے، کیونکہ شکر کرنے والوں سے اللہ محبت کرتا ہے اور انہیں بہترین جزا دیتا ہے۔

آئیے ہم اپنی نیتوں کو درست کریں، اپنے اعمال کو اللہ کی رضا کے لیے کریں، اور اللہ کے شکر گزار بندے بنیں تاکہ ہم دنیا اور آخرت دونوں میں کامیاب ہو سکیں۔ اللہ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 143-147 — آل عمران

143وَلَقَدْ كُنتُمْ تَمَنَّوْنَ الْمَوْتَ مِن قَبْلِ أَن تَلْقَوْهُ فَقَدْ رَأَيْتُمُوهُ وَأَنتُمْ تَنظُرُونَ
اور تم موت (شہادت) کے آنے سے پہلے اس کی تمنا کیا کرتے تھے سو تم نے اس کو آنکھوں سے دیکھ لیا
144وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ ۚ أَفَإِن مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انقَلَبْتُمْ عَلَىٰ أَعْقَابِكُمْ ۚ وَمَن يَنقَلِبْ عَلَىٰ عَقِبَيْهِ فَلَن يَضُرَّ اللَّهَ شَيْئًا ۗ وَسَيَجْزِي اللَّهُ الشَّاكِرِينَ
اور محمد (صلی الله علیہ وسلم) تو صرف (خدا کے) پیغمبر ہیں ان سے پہلے بھی بہت سے پیغمبر ہو گزرے ہیں بھلا اگر یہ مر جائیں یا مارے جائیں تو تم الٹے پاؤں پھر جاؤ؟ (یعنی مرتد ہو جاؤ؟) اور جو الٹے پاؤں پھر جائے گا تو خدا کا کچھ نقصان نہ کر سکے گا اور خدا شکر گزاروں کو (بڑا) ثواب دے گا
145وَمَا كَانَ لِنَفْسٍ أَن تَمُوتَ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ كِتَابًا مُّؤَجَّلًا ۗ وَمَن يُرِدْ ثَوَابَ الدُّنْيَا نُؤْتِهِ مِنْهَا وَمَن يُرِدْ ثَوَابَ الْآخِرَةِ نُؤْتِهِ مِنْهَا ۚ وَسَنَجْزِي الشَّاكِرِينَ
اور کسی شخص میں طاقت نہیں کہ خدا کے حکم کے بغیر مر جائے (اس نے موت کا) وقت مقرر کر کے لکھ رکھا ہے اور جو شخص دنیا میں (اپنے اعمال کا) بدلہ چاہے اس کو ہم یہیں بدلہ دے دیں گے اور جو آخرت میں طالبِ ثواب ہو اس کو وہاں اجر عطا کریں گے اور ہم شکر گزاروں کو عنقریب (بہت اچھا) صلہ دیں گے
146وَكَأَيِّن مِّن نَّبِيٍّ قَاتَلَ مَعَهُ رِبِّيُّونَ كَثِيرٌ فَمَا وَهَنُوا لِمَا أَصَابَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَمَا ضَعُفُوا وَمَا اسْتَكَانُوا ۗ وَاللَّهُ يُحِبُّ الصَّابِرِينَ
اور بہت سے نبی ہوئے ہیں جن کے ساتھ ہو کر اکثر اہل الله (خدا کے دشمنوں سے) لڑے ہیں تو جو مصبتیں ان پر راہِ خدا میں واقع ہوئیں ان کے سبب انہوں نے نہ تو ہمت ہاری اور نہ بزدلی کی نہ (کافروں سے) دبے اور خدا استقلال رکھنے والوں کو دوست رکھتا ہے
147وَمَا كَانَ قَوْلَهُمْ إِلَّا أَن قَالُوا رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَإِسْرَافَنَا فِي أَمْرِنَا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَانصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ
اور (اس حالت میں) ان کے منہ سے کوئی بات نکلتی ہے تو یہی کہ اے پروردگار ہمارے گناہ اور زیادتیاں جو ہم اپنے کاموں میں کرتے رہے ہیں معاف فرما اور ہم کو ثابت قدم رکھ اور کافروں پر فتح عنایت فرما
آل عمرانقرآن فہرست
200آیت
مدنیRevelation
145آیت

ترجمہ — آل عمران 145

سورہ آل عمران آیت 145 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور کسی شخص میں طاقت نہیں کہ خدا کے حکم…

سورہ آیت 145/200 — آل عمران آل عمران (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: آل عمران سنیں, آل عمران ترجمہ, آل عمران mp3, آل عمران pdf. آیت 143–147. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں