روم · 29/60
ترجمہ تلفظ — روم
بَلِ اتَّبَعَ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَهْوَاءَهُم بِغَيْرِ عِلْمٍ ۖ فَمَن يَهْدِي مَنْ أَضَلَّ اللَّهُ ۖ وَمَا لَهُم مِّن نَّاصِرِينَ ۝٢٩
Balit taba`al lazeena zalamooo ahwaaa`ahum bighairi `ilmin famai yahdee man adallal laahu wa maa lahum min naasireen
📖 اردو ترجمہ
مگر جو ظالم ہیں بےسمجھے اپنی خواہشوں کے پیچھے چلتے ہیں تو جس کو خدا گمراہ کرے اُسے کون ہدایت دے سکتا ہے؟ اور ان کا کوئی مددگار نہیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • أَهْوَاءَهُم: اپنی خواہشات و نفسانی خواہشات کو۔
  • بِغَيْرِ عِلْمٍ: بغیر کسی علم اور دلیل کے۔
  • أَضَلَّ: گمراہ کیا۔
  • نَاصِرِينَ: مددگار، حفاظت کرنے والے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ اس آیت میں مشرکین اور کافروں کے اس رویے کی حقیقت بیان فرما رہے ہیں کہ ان کا کفر اور شرک کسی علمی دلیل یا برہان کی بنا پر نہیں ہے، بلکہ محض اپنی خواہشاتِ نفسانی کی پیروی ہے۔ وہ اپنے آباء و اجداد کی تقلید کرتے ہیں اور بغیر کسی علم کے اپنے بڑوں کے راستے پر چل پڑتے ہیں، حالانکہ حق ان کے سامنے واضح کر دیا گیا تھا اور دلائل پیش کر دیے گئے تھے۔

یہ لوگ ظالم ہیں کیونکہ انہوں نے اپنے نفس پر ظلم کیا، اپنے آپ کو جہالت اور اندھی تقلید کے حوالے کر دیا۔ ان کی گمراہی کسی دلیل کی کمی کی وجہ سے نہیں، بلکہ ان کے اپنے ہٹ دھرمی اور ضد کی وجہ سے ہے۔ جب انسان حق کو دیکھ کر بھی اسے قبول نہ کرے اور اپنی خواہشات کو آگے رکھے تو اللہ اسے گمراہی میں چھوڑ دیتا ہے۔

پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جسے اللہ نے گمراہ کر دیا، اسے کون ہدایت دے سکتا ہے؟ کوئی نہیں۔ کیونکہ ہدایت دینا صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے، اور جب بندہ خود حق سے منہ موڑ لے تو اللہ اسے اس کی ضد اور سرکشی کی سزا میں گمراہی پر چھوڑ دیتا ہے۔ یہ اللہ کی سنت ہے کہ جو شخص حق کو جان بوجھ کر رد کر دے، اس کا دل مہر کر دیا جاتا ہے۔

آخر میں فرمایا کہ ایسے لوگوں کا کوئی مددگار اور ناصر نہیں جو انہیں اللہ کے عذاب سے بچا سکے۔ نہ ان کے معبود، نہ ان کے آباء و اجداد، نہ ان کی اولاد اور مال، کچھ بھی انہیں اللہ کے عذاب سے نہیں بچا سکے گا۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ ہمیں اپنے دین اور عقیدے کو علم اور دلیل کی بنیاد پر رکھنا چاہیے، نہ کہ محض تقلید اور اندھی پیروی پر۔ ہمارے آباء و اجداد کا راستہ اگر حق پر ہو تو اسے اپنانا باعثِ برکت ہے، لیکن اگر وہ غلط ہو تو حق کو قبول کرنا ہی ہماری ذمہ داری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں عقل اور سمجھ دی ہے تاکہ ہم حق کو پہچانیں اور اس پر عمل کریں۔

یاد رکھیں! ہدایت اللہ کے ہاتھ میں ہے، لیکن اللہ اس شخص کو ہدایت دیتا ہے جو حق طلب کرنے والا ہو، جو سچائی کی تلاش میں رہے۔ جو شخص اپنی خواہشات کو چھوڑ کر اللہ کی رضا کو تلاش کرتا ہے، اللہ اسے کبھی گمراہ نہیں کرتا۔ آئیے ہم اپنے دین کو سمجھ کر اپنائیں، علم حاصل کریں، اور اپنی خواہشات کو شریعت کے تابع کریں تاکہ ہم اللہ کی رحمت اور ہدایت کے مستحق بن سکیں۔

🎧 سنیں

📜 آیت 27-31 — روم

27وَهُوَ الَّذِي يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ ۚ وَلَهُ الْمَثَلُ الْأَعْلَىٰ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ
اور وہی تو ہے جو خلقت کو پہلی دفعہ پیدا کرتا ہے پھر اُسے دوبارہ پیدا کرے گا۔ اور یہ اس کو بہت آسان ہے۔ اور آسمانوں اور زمین میں اس کی شان بہت بلند ہے۔ اور وہ غالب حکمت والا ہے
28ضَرَبَ لَكُم مَّثَلًا مِّنْ أَنفُسِكُمْ ۖ هَل لَّكُم مِّن مَّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُم مِّن شُرَكَاءَ فِي مَا رَزَقْنَاكُمْ فَأَنتُمْ فِيهِ سَوَاءٌ تَخَافُونَهُمْ كَخِيفَتِكُمْ أَنفُسَكُمْ ۚ كَذَٰلِكَ نُفَصِّلُ الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ
وہ تمہارے لئے تمہارے ہی حال کی ایک مثال بیان فرماتا ہے کہ بھلا جن (لونڈی غلاموں) کے تم مالک ہو وہ اس (مال) میں جو ہم نے تم کو عطا فرمایا ہے تمہارے شریک ہیں، اور (کیا) تم اس میں (اُن کو اپنے) برابر (مالک سمجھتے) ہو (اور کیا) تم اُن سے اس طرح ڈرتے ہو جس طرح اپنوں سے ڈرتے ہو، اسی طرح عقل والوں کے لئے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کرتے ہیں
29بَلِ اتَّبَعَ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَهْوَاءَهُم بِغَيْرِ عِلْمٍ ۖ فَمَن يَهْدِي مَنْ أَضَلَّ اللَّهُ ۖ وَمَا لَهُم مِّن نَّاصِرِينَ
مگر جو ظالم ہیں بےسمجھے اپنی خواہشوں کے پیچھے چلتے ہیں تو جس کو خدا گمراہ کرے اُسے کون ہدایت دے سکتا ہے؟ اور ان کا کوئی مددگار نہیں
30فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا ۚ فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا ۚ لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ ۚ ذَٰلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ
تو تم ایک طرف کے ہوکر دین (خدا کے رستے) پر سیدھا منہ کئے چلے جاؤ (اور) خدا کی فطرت کو جس پر اُس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے (اختیار کئے رہو) خدا کی بنائی ہوئی (فطرت) میں تغیر وتبدل نہیں ہو سکتا۔ یہی سیدھا دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے
31۞ مُنِيبِينَ إِلَيْهِ وَاتَّقُوهُ وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَلَا تَكُونُوا مِنَ الْمُشْرِكِينَ
(مومنو) اُسی (خدا) کی طرف رجوع کئے رہو اور اس سے ڈرتے رہو اور نماز پڑھتے رہو اور مشرکوں میں نہ ہونا
رومقرآن فہرست
60آیت
مکیRevelation
29آیت

ترجمہ — روم 29

سورہ روم آیت 29 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : مگر جو ظالم ہیں بےسمجھے اپنی خواہشوں کے پیچھے چلتے…

سورہ آیت 29/60 — روم الروم (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: روم سنیں, روم ترجمہ, روم mp3, روم pdf. آیت 27–31. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں