روم · 9/60
ترجمہ تلفظ — روم
أَوَلَمۡ يَسِيرُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ فَيَنظُرُواْ كَيۡفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِمۡۚ كَانُوٓاْ أَشَدَّ مِنۡهُمۡ قُوَّةً وَأَثَارُواْ ٱلۡأَرۡضَ وَعَمَرُوهَآ أَكۡثَرَ مِمَّا عَمَرُوهَا وَجَآءَتۡهُمۡ رُسُلُهُم بِٱلۡبَيِّنَٰتِۖ فَمَا كَانَ ٱللَّهُ لِيَظۡلِمَهُمۡ وَلَٰكِن كَانُوٓاْ أَنفُسَهُمۡ يَظۡلِمُونَ  ۝٩
Awalm yaseeroo fil ardi fa-yanzuroo kaifa kaana `aaqibatul lazeena min qablihim; kaanooo ashadda minhhum quwwatanw wa asaarul arda wa `amaroohaaa aksara mimmaa `amaroohaa wa jaaa`athum Rusuluhum bil baiyinaati famaa kaanal laahu liyazli mahum wa laakin kaanooo anfusahum yazlimoon
📖 اردو ترجمہ
کیا اُن لوگوں نے ملک میں سیر نہیں کی (سیر کرتے) تو دیکھ لیتے کہ جو لوگ اُن سے پہلے تھے ان کا انجام کیسے ہوا۔ وہ اُن سے زورو قوت میں کہیں زیادہ تھے اور اُنہوں نے زمین کو جوتا اور اس کو اس سے زیادہ آباد کیا تھا جو اُنہوں نے آباد کیا۔ اور اُن کے پاس اُن کے پیغمبر نشانیاں لےکر آتے رہے تو خدا ایسا نہ تھا کہ اُن پر ظلم کرتا۔ بلکہ وہی اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے
📜

ترجمہ — Tafsir

آیت کا ترجمہ:

"کیا یہ لوگ زمین میں چلتے پھرتے نہیں کہ دیکھتے کہ ان لوگوں کا انجام کیسا ہوا جو ان سے پہلے گزرے ہیں؟ وہ ان سے زیادہ طاقت والے تھے اور انہوں نے زمین کو خوب اُبھارا (کاشت کیا) اور اسے ان سے زیادہ آباد کیا، اور ان کے پاس ان کے رسول روشن دلیلیں لے کر آئے۔ پس اللہ ایسا نہیں کہ ان پر ظلم کرے، لیکن وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے۔"

پہلے مشکل الفاظ کے معانی:

  • أَثَارُوا الْأَرْضَ: زمین کو جوت کر کاشت کیا، اسے اُبھارا اور اس سے فائدہ اٹھایا۔
  • عَمَرُوهَا: اسے آباد کیا، تعمیر کی، اور اسے رہنے کے قابل بنایا۔
  • بِالْبَيِّنَاتِ: واضح دلائل، معجزات اور روشن نشانیاں۔
  • عَاقِبَةُ: انجام، نتیجہ۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ اس آیت میں کفارِ مکہ کو دعوتِ فکر دے رہے ہیں کہ کیا وہ زمین میں سیر و سیاحت نہیں کرتے؟ کیا وہ اپنی آنکھوں سے ان تباہ شدہ بستیوں کے آثار نہیں دیکھتے جو ان سے پہلے گزری ہیں؟ عاد، ثمود، قومِ لوط اور فرعون جیسی طاقتور قومیں جنہوں نے اللہ کے رسولوں کو جھٹلایا، ان کا انجام کیا ہوا؟ وہ قومیں ان سے کہیں زیادہ طاقتور تھیں، ان کے جسم زیادہ مضبوط تھے، ان کی آبادیاں زیادہ شاندار تھیں۔ انہوں نے زمین کو جوت کر کاشت کیا، نہریں جاری کیں، باغات لگائے، محلات تعمیر کیے اور زمین کو اس قدر آباد کیا جتنا مکہ والوں نے بھی نہیں کیا۔ وہ لمبی عمریں پاتے تھے اور دنیاوی آسائشوں میں ڈوبے ہوئے تھے، لیکن جب ان کے پاس اللہ کے رسول واضح معجزات اور روشن دلائل لے کر آئے تو انہوں نے تکبر کیا اور ایمان لانے سے انکار کر دیا۔

پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں پکڑ لیا اور ان کی تمام طاقت، آبادی اور شان و شوکت کے باوجود انہیں تباہ کر دیا۔ یہ اللہ کا ظلم نہیں تھا، کیونکہ اللہ کسی پر ظلم نہیں کرتا، بلکہ انہوں نے خود اپنے اوپر ظلم کیا۔ انہوں نے اپنے ہاتھوں سے اپنی تباہی کا سامان کیا، کیونکہ انہوں نے حق کو جھٹلایا، رسولوں کی تکذیب کی اور کفر و شرک پر قائم رہے۔ اللہ نے انہیں بارہا تنبیہ کی، لیکن وہ اپنی سرکشی میں ڈھٹائی سے کام لیتے رہے۔

دعوتی انداز:

اس آیت میں اللہ رب العزت ہمیں تاریخ سے سبق لینے کی تلقین کر رہے ہیں۔ اے کاش! ہم اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں اور ان تہذیبوں کے کھنڈرات کو دیکھیں جو اپنی طاقت اور آبادی پر نازاں تھیں، لیکن آج ان کا نام و نشان تک باقی نہیں۔ یہ سب کچھ اس لیے ہوا کہ انہوں نے اللہ کے رسولوں کو جھٹلایا اور حق سے منہ موڑا۔ آج بھی وہی قانونِ الٰہی جاری ہے، جو قومیں حق کو رد کرتی ہیں اور ظلم و فساد پر قائم رہتی ہیں، ان کا انجام تباہی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ان سے سبق حاصل کریں اور اللہ کی اطاعت کو اپنی زندگی کا نصب العین بنائیں، کیونکہ اللہ کبھی ظلم نہیں کرتا، لیکن انسان خود اپنے اعمال سے اپنی تباہی کا سبب بنتا ہے۔ اللہ ہمیں توفیق دے کہ ہم تاریخ سے عبرت حاصل کریں اور اپنے ایمان و عمل کو درست کریں۔ آمین!

🎧 سنیں

📜 آیت 7-11 — روم

7يَعۡلَمُونَ ظَٰهِرًا مِّنَ ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا وَهُمۡ عَنِ ٱلۡأٓخِرَةِ هُمۡ غَٰفِلُونَ 
یہ تو دنیا کی ظاہری زندگی کو جانتے ہیں۔ اور آخرت (کی طرف) سے غافل ہیں
8أَوَلَمۡ يَتَفَكَّرُواْ فِيٓ أَنفُسِهِمۗ مَّا خَلَقَ ٱللَّهُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ وَمَا بَيۡنَهُمَآ إِلَّا بِٱلۡحَقِّ وَأَجَلٍ مُّسَمًّىۗ وَإِنَّ كَثِيرًا مِّنَ ٱلنَّاسِ بِلِقَآيِٕ رَبِّهِمۡ لَكَٰفِرُونَ 
کیا اُنہوں نے اپنے دل میں غور نہیں کیا۔ کہ خدا نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے اُن کو حکمت سے اور ایک وقت مقرر تک کے لئے پیدا کیا ہے۔ اور بہت سے لوگ اپنے پروردگار سے ملنے کے قائل ہی نہیں
9أَوَلَمۡ يَسِيرُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ فَيَنظُرُواْ كَيۡفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِمۡۚ كَانُوٓاْ أَشَدَّ مِنۡهُمۡ قُوَّةً وَأَثَارُواْ ٱلۡأَرۡضَ وَعَمَرُوهَآ أَكۡثَرَ مِمَّا عَمَرُوهَا وَجَآءَتۡهُمۡ رُسُلُهُم بِٱلۡبَيِّنَٰتِۖ فَمَا كَانَ ٱللَّهُ لِيَظۡلِمَهُمۡ وَلَٰكِن كَانُوٓاْ أَنفُسَهُمۡ يَظۡلِمُونَ 
کیا اُن لوگوں نے ملک میں سیر نہیں کی (سیر کرتے) تو دیکھ لیتے کہ جو لوگ اُن سے پہلے تھے ان کا انجام کیسے ہوا۔ وہ اُن سے زورو قوت میں کہیں زیادہ تھے اور اُنہوں نے زمین کو جوتا اور اس کو اس سے زیادہ آباد کیا تھا جو اُنہوں نے آباد کیا۔ اور اُن کے پاس اُن کے پیغمبر نشانیاں لےکر آتے رہے تو خدا ایسا نہ تھا کہ اُن پر ظلم کرتا۔ بلکہ وہی اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے
10ثُمَّ كَانَ عَٰقِبَةَ ٱلَّذِينَ أَسَٰٓـُٔواْ ٱلسُّوٓأَىٰٓ أَن كَذَّبُواْ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ وَكَانُواْ بِهَا يَسۡتَهۡزِءُونَ 
پھر جن لوگوں نے برائی کی اُن کا انجام بھی برا ہوا اس لیے کہ خدا کی آیتوں کو جھٹلاتے اور اُن کی ہنسی اُڑاتے رہے تھے
11ٱللَّهُ يَبۡدَؤُاْ ٱلۡخَلۡقَ ثُمَّ يُعِيدُهُۥ ثُمَّ إِلَيۡهِ تُرۡجَعُونَ 
خدا ہی خلقت کو پہلی بار پیدا کرتا ہے وہی اس کو پھر پیدا کرے گا پھر تم اُسی کی طرف لوٹ جاؤ گے
رومقرآن فہرست
60آیت
مکیRevelation
9آیت

ترجمہ — روم 9

سورہ آیت 9/60 — روم الروم (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: روم سنیں, روم ترجمہ, روم mp3, روم pdf. آیت 7–11. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں