پھر جن لوگوں نے برائی کی اُن کا انجام بھی برا ہوا اس لیے کہ خدا کی آیتوں کو جھٹلاتے اور اُن کی ہنسی اُڑاتے رہے تھے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
عاقبت: انجام، نتیجہ
السوأى: بدترین، انتہائی برا انجام
أساؤوا: جنہوں نے برے کام کیے (شرک اور گناہ)
یستهزئون: مذاق اڑاتے تھے، ٹھٹھا کرتے تھے
تفسیر آیت:
اللہ تعالیٰ اس آیت میں ان لوگوں کے انجام کو بیان فرما رہے ہیں جنہوں نے دنیا میں برائی کی اور اللہ کی آیات کو جھٹلایا۔ ان کا انجام انتہائی برا اور بدترین تھا، یعنی جہنم کا عذاب۔ یہ سزا انہیں اس لیے ملی کیونکہ انہوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا اور ان کا مذاق اڑایا۔
یہ آیت اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلانے اور ان پر ہنسی اڑانے کا نتیجہ ہمیشہ تباہی اور رسوائی ہوتی ہے۔ جو لوگ حق کو نظر انداز کرتے ہیں اور اسے اہمیت نہیں دیتے، وہ آخرت میں اپنے اس رویے کی سزا بھگتیں گے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں اللہ کی آیات اور اس کے دین کے ساتھ کبھی مذاق نہیں کرنا چاہیے۔ قرآن مجید اور سنت نبوی ﷺ ہمارے لیے رحمت اور ہدایت ہیں، انہیں سنجیدگی سے لینا اور ان پر عمل کرنا ہی ہماری کامیابی کا راستہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں عقل اور سمجھ دی ہے تاکہ ہم اس کی نشانیوں پر غور کریں اور ان سے عبرت حاصل کریں۔ جو لوگ ان آیات کو سنجیدگی سے لیں گے اور ان پر عمل کریں گے، ان کے لیے دنیا اور آخرت دونوں میں بھلائی ہے۔ اللہ ہمیں اپنی آیات کی قدر کرنے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
کیا اُنہوں نے اپنے دل میں غور نہیں کیا۔ کہ خدا نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے اُن کو حکمت سے اور ایک وقت مقرر تک کے لئے پیدا کیا ہے۔ اور بہت سے لوگ اپنے پروردگار سے ملنے کے قائل ہی نہیں
کیا اُن لوگوں نے ملک میں سیر نہیں کی (سیر کرتے) تو دیکھ لیتے کہ جو لوگ اُن سے پہلے تھے ان کا انجام کیسے ہوا۔ وہ اُن سے زورو قوت میں کہیں زیادہ تھے اور اُنہوں نے زمین کو جوتا اور اس کو اس سے زیادہ آباد کیا تھا جو اُنہوں نے آباد کیا۔ اور اُن کے پاس اُن کے پیغمبر نشانیاں لےکر آتے رہے تو خدا ایسا نہ تھا کہ اُن پر ظلم کرتا۔ بلکہ وہی اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔