ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- أَشِحَّةً: بخیل، کنجوس۔
- تَدُورُ أَعْيُنُهُمْ: ان کی آنکھیں گھومتی ہیں۔
- يُغْشَىٰ عَلَيْهِ مِنَ الْمَوْتِ: جس پر موت کی شدت طاری ہو۔
- سَلَقُوكُم: تمہیں اذیت پہنچاتے ہیں، تم پر زبان درازی کرتے ہیں۔
- حِدَادٍ: تیز، سخت اور تلخ۔
- أَحْبَطَ: برباد کر دیا، اکارت کر دیا۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اس آیت میں منافقوں کے حالات بیان فرما رہے ہیں تاکہ اہل ایمان ان کی حقیقت سے آگاہ ہو جائیں اور ان کے فریب میں نہ آئیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ منافق لوگ تم مسلمانوں کے ساتھ انتہائی بخیل ہیں—نہ اپنے مال سے تمہاری مدد کرتے ہیں، نہ اپنی جان سے تمہارے ساتھ جہاد میں شریک ہوتے ہیں، اور نہ ہی اپنے دل سے تم سے محبت رکھتے ہیں۔ ان کے دلوں میں تمہارے خلاف کینہ اور بغض بھرا ہوا ہے، اور وہ صرف اپنی جان کی حفاظت اور دنیا کی خواہش میں مبتلا ہیں۔
پھر اللہ تعالیٰ ان کی بزدلی کا نقشہ کھینچتا ہے کہ جب جنگ کا وقت آتا ہے اور خوف طاری ہوتا ہے، تو آپ انہیں دیکھیں گے کہ وہ آپ کی طرف اس طرح دیکھ رہے ہیں جیسے ان پر موت کی غشی طاری ہو گئی ہو—ان کی آنکھیں خوف اور گھبراہٹ سے گھومتی ہیں، عقل جاتی رہتی ہے، اور وہ اس شخص کی مانند ہو جاتے ہیں جو موت کے قریب پہنچ چکا ہو۔ یہ منظر ان کی انتہائی بزدلی اور جبن کو ظاہر کرتا ہے۔
لیکن جب خوف کا وقت گزر جاتا ہے اور امن و امان قائم ہو جاتا ہے، تو یہی لوگ تم پر تیز اور تلخ زبانوں سے حملہ آور ہوتے ہیں، تمہیں اذیت دیتے ہیں اور تمہاری عزت پر حملہ کرتے ہیں۔ اور جب مال غنیمت کی تقسیم کا وقت آتا ہے تو وہ انتہائی بخیل اور حریص بن جاتے ہیں، کہتے ہیں کہ ہم بھی جنگ میں شریک تھے، ہمیں بھی حصہ دو۔ حالانکہ جنگ کے وقت وہ سب سے زیادہ بھاگنے والے اور پیچھے رہنے والے ہوتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ان کی حقیقت بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ یہ لوگ حقیقی ایمان نہیں رکھتے، ان کا ایمان صرف زبانی ہے، دلوں میں ایمان کا نور نہیں۔ اس لیے اللہ نے ان کے اعمال کو برباد کر دیا—ان کی نماز، روزہ، اور دوسرے ظاہری اعمال کا کوئی ثواب نہیں، کیونکہ یہ سب ریاکاری اور نفاق پر مبنی ہیں۔ اور اللہ کے لیے ان کے اعمال کو برباد کرنا بالکل آسان ہے، کیونکہ وہ سب کچھ جانتا ہے اور اس کی قدرت کامل ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت سے اسباق ملتے ہیں۔ سب سے پہلے، ہمیں یہ سیکھنا چاہیے کہ ایمان صرف زبان کا دعویٰ نہیں، بلکہ دل کی تصدیق اور عمل کی پابندی ہے۔ جو لوگ صرف زبانی ایمان رکھتے ہیں اور عمل سے جی چراتے ہیں، ان کا انجام برا ہے۔ دوسرے، ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے مال، جان اور وقت سے اپنے دین اور امت کی خدمت کریں، بخل اور کنجوسی سے بچیں، کیونکہ بخل ایمان کی کمزوری کی علامت ہے۔ تیسرے، ہمیں جہاد اور قربانی کے مواقع پر سبقت لے جانا چاہیے، نہ کہ پیچھے رہنا اور بہانے بنانا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سچے ایمان اور خلوص نیت کی توفیق عطا فرمائے، اور ہمیں منافقوں کی صفات سے محفوظ رکھے۔ آمین۔
📜 آیت 17-21 — احزاب
ترجمہ — احزاب 19
سورہ احزاب آیت 19 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : (یہ اس لئے کہ) تمہارے بارے میں بخل کرتے ہیں۔…سورہ آیت 19/73 — احزاب الأحزاب (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: احزاب سنیں, احزاب ترجمہ, احزاب mp3, احزاب pdf. آیت 17–21. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








