ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- فَكَذَّبُوهُ: انہوں نے اسے جھٹلایا۔
- لَمُحْضَرُونَ: ضرور حاضر کیے جانے والے، یعنی جمع کیے جانے والے (عذاب کے لیے)۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ حضرت الیاس علیہ السلام کے حالات بیان فرما رہے ہیں۔ ان کی قوم نے ان کی نبوت کو نہ صرف رد کیا بلکہ انہیں جھٹلایا اور ان کی دعوت کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جب انہوں نے اپنے نبی کو جھٹلایا تو وہ یقیناً (قیامت کے دن) حاضر کیے جانے والے ہیں۔ یعنی ان کا انجام یہ ہوگا کہ وہ اللہ کے سامنے پیش ہوں گے اور انہیں حساب و کتاب اور عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔
یہاں "لَمُحْضَرُونَ" کا لفظ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ ان کا حاضر ہونا اللہ کے حضور میں ہوگا، اور یہ حضور عذاب کے لیے ہوگا۔ مگر اس کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا کہ اللہ کے مخلص بندے اس عذاب سے محفوظ رہیں گے، کیونکہ انہوں نے اپنے دین کو خالص اللہ کے لیے کیا تھا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں ایک بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ نبیوں کی تکذیب کا انجام کتنا برا ہوتا ہے۔ جو لوگ حق کو جھٹلاتے ہیں اور اللہ کے رسولوں کی دعوت کو رد کرتے ہیں، وہ آخرت میں ضرور پکڑے جائیں گے اور انہیں اپنے اعمال کا بدلہ بھگتنا ہوگا۔ لیکن اللہ کے مخلص بندے، جو اپنے ایمان اور عمل میں خلوص رکھتے ہیں، وہ اللہ کی رحمت سے نجات پائیں گے۔
آئیے ہم اپنے ایمان کو خالص کریں، اپنے اعمال کو اللہ کے لیے مخصوص کریں، اور رسولوں کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے اس عظیم انجام سے بچیں جو تکذیب کرنے والوں کے لیے مقدر ہے۔ اللہ ہمیں حق قبول کرنے کی توفیق دے اور ہمیں اپنے مخلص بندوں میں شامل فرمائے۔ آمین۔
📜 آیت 125-129 — صافات
ترجمہ — صافات 127
سورہ صافات آیت 127 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : تو ان لوگوں نے ان کو جھٹلا دیا۔ سو وہ…سورہ آیت 127/182 — صافات الصافات (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: صافات سنیں, صافات ترجمہ, صافات mp3, صافات pdf. آیت 125–129. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








