ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- عِبَادَ اللہِ: اللہ کے بندے
- الْمُخْلَصِینَ: جنہیں خالص کر دیا گیا ہو، یعنی وہ لوگ جنہوں نے اپنے دین اور عبادت کو صرف اللہ کے لیے خالص کر لیا ہو
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے حبیب اور نبی حضرت الیاس علیہ السلام کی قوم کے انجام کا ذکر فرما رہے ہیں۔ جب ان کی قوم نے انہیں جھٹلایا اور حق کو قبول کرنے سے انکار کیا، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ سب لوگ قیامت کے دن حساب اور عذاب کے لیے جمع کیے جائیں گے۔ مگر اس عام سزا سے مستثنیٰ ہیں اللہ کے وہ بندے جنہوں نے اپنے ایمان اور عمل کو خالص اللہ کے لیے کر لیا تھا۔ یہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے نبی کی دعوت پر لبیک کہا، ایمان لائے اور اپنی زندگیاں اللہ کی اطاعت میں گزاریں۔ ان کے لیے نجات اور کامیابی ہے، اور وہ اس عذاب سے محفوظ رہیں گے جو ان کے جھٹلانے والوں پر نازل ہوگا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں ایک انتہائی اہم سبق ملتا ہے کہ نجات کا دارومدار صرف اور صرف اخلاص پر ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں وہی عمل قبول ہے جو خالص اس کی رضا کے لیے کیا جائے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنی عبادات، اخلاق اور معاملات سب کو خالص اللہ کے لیے بنائیں۔ جب دل میں اخلاص پیدا ہو جائے تو اللہ کی حفاظت اور نصرت ہمارے شامل حال ہو جاتی ہے۔ یہ آیت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ اگر ہم اپنے ایمان کو خالص رکھیں گے تو ہم بھی ان مخلص بندوں میں شامل ہوں گے جو قیامت کے دن اللہ کے عذاب سے محفوظ رہیں گے اور جنت کی نعمتوں سے سرفراز ہوں گے۔ آئیے ہم اپنے دلوں کو شرک، ریا اور نفاق سے پاک کریں اور اپنی زندگیوں کو خالص اللہ کے لیے وقف کر دیں۔
📜 آیت 126-130 — صافات
ترجمہ — صافات 128
سورہ صافات آیت 128 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : ہاں خدا کے بندگان خاص (مبتلائے عذاب نہیں) ہوں گےسورہ آیت 128/182 — صافات الصافات (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: صافات سنیں, صافات ترجمہ, صافات mp3, صافات pdf. آیت 126–130. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








