ص · 4/88
ترجمہ تلفظ — ص
وَعَجِبُوا أَن جَاءَهُم مُّنذِرٌ مِّنْهُمْ ۖ وَقَالَ الْكَافِرُونَ هَٰذَا سَاحِرٌ كَذَّابٌ ۝٤
Wa `ajibooo an jaaa`a hum munzirum minhum wa qaalal kaafiroona haazaa saahirun kazzaab
📖 اردو ترجمہ
اور انہوں نے تعجب کیا کہ ان کے پاس ان ہی میں سے ہدایت کرنے والا آیا اور کافر کہنے لگے کہ یہ تو جادوگر ہے جھوٹا
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • مُنذِرٌ: ڈرانے والا، خبردار کرنے والا۔
  • ساحِرٌ: جادوگر، شعبدہ باز۔
  • کَذّابٌ: بہت جھوٹا۔

تفسیر آیت:

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے کفارِ مکہ کی اس تعجب انگیز روش کا ذکر فرمایا ہے جب ان کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حق اور ہدایت لے کر تشریف لائے۔ وہ اس بات پر حیران ہوئے کہ اللہ تعالیٰ نے انہی میں سے ایک انسان کو کیوں منتخب فرمایا؟ انہیں یہ بات عجیب لگی کہ کوئی بشر ان کے درمیان اٹھ کر اللہ کا پیغام سنائے اور انہیں عذابِ الٰہی سے ڈرائے۔ حالانکہ یہ اللہ کا مستقل قانون رہا ہے کہ وہ فرشتوں کو نہیں بلکہ انسانوں ہی میں سے رسول منتخب فرماتا ہے، تاکہ وہ لوگوں کی فہم اور زبان کے مطابق انہیں سمجھا سکیں۔

لیکن کفار نے اس حقیقت کو سمجھنے کے بجائے اپنی ہٹ دھرمی اور عناد کی بنا پر یہ کہنا شروع کر دیا کہ یہ شخص ساحر ہے اور جھوٹا ہے۔ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوتِ توحید کو جادو کا اثر قرار دیا، کیونکہ آپ کی فصیح و بلیغ گفتگو اور دلائل کی پختگی لوگوں کے دلوں پر گہرا اثر چھوڑ رہی تھی۔ انہوں نے آپ کو کذاب بھی کہا، حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم امّی تھے اور آپ کی سچائی اور امانت ان کے درمیان "الصادق الامین" کے لقب سے مشہور تھی۔

یہ تعجب اور یہ الزام دراصل ان کے دلوں کی کجی اور حق سے نفرت کا نتیجہ تھا۔ وہ اس بات سے پریشان تھے کہ اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم سچے ہیں تو پھر ان کے معبود اور ان کے آباء و اجداد کا راستہ غلط تھا۔ چنانچہ انہوں نے حق کو دبانے کے لیے جھوٹے الزامات کا سہارا لیا۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ حق کے داعی کو ہمیشہ مخالفین کی طرف سے الزامات اور تکالیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لیکن اہلِ ایمان کو چاہیے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت سے حوصلہ حاصل کریں اور یہ جان لیں کہ سچائی کی راہ پر قائم رہنے والوں کے ساتھ اللہ کی مدد ہوتی ہے۔ آج بھی جو لوگ لوگوں کو توحید اور سنت کی طرف بلاتے ہیں، انہیں طرح طرح کے الزامات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، مگر اللہ تعالیٰ اپنے مخلص بندوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے ایمان کو مضبوط کریں اور کسی بھی مخالفت سے گھبرائے بغیر حق کا پیغام پہنچاتے رہیں، کیونکہ آخرت میں کامیابی صرف سچے اور صابر لوگوں کے لیے ہے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 2-6 — ص

2بَلِ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي عِزَّةٍ وَشِقَاقٍ
مگر جو لوگ کافر ہیں وہ غرور اور مخالفت میں ہیں
3كَمْ أَهْلَكْنَا مِن قَبْلِهِم مِّن قَرْنٍ فَنَادَوا وَّلَاتَ حِينَ مَنَاصٍ
ہم نے ان سے پہلے بہت سی اُمتوں کو ہلاک کردیا تو وہ (عذاب کے وقت) لگے فریاد کرنے اور وہ رہائی کا وقت نہیں تھا
4وَعَجِبُوا أَن جَاءَهُم مُّنذِرٌ مِّنْهُمْ ۖ وَقَالَ الْكَافِرُونَ هَٰذَا سَاحِرٌ كَذَّابٌ
اور انہوں نے تعجب کیا کہ ان کے پاس ان ہی میں سے ہدایت کرنے والا آیا اور کافر کہنے لگے کہ یہ تو جادوگر ہے جھوٹا
5أَجَعَلَ الْآلِهَةَ إِلَٰهًا وَاحِدًا ۖ إِنَّ هَٰذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ
کیا اس نے اتنے معبودوں کی جگہ ایک ہی معبود بنا دیا۔ یہ تو بڑی عجیب بات ہے
6وَانطَلَقَ الْمَلَأُ مِنْهُمْ أَنِ امْشُوا وَاصْبِرُوا عَلَىٰ آلِهَتِكُمْ ۖ إِنَّ هَٰذَا لَشَيْءٌ يُرَادُ
تو ان میں جو معزز تھے وہ چل کھڑے ہوئے (اور بولے) کہ چلو اور اپنے معبودوں (کی پوجا) پر قائم رہو۔ بےشک یہ ایسی بات ہے جس سے (تم پر شرف وفضلیت) مقصود ہے
صقرآن فہرست
88آیت
مکیRevelation
4آیت

ترجمہ — ص 4

سورہ ص آیت 4 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور انہوں نے تعجب کیا کہ ان کے پاس ان…

سورہ آیت 4/88 — ص ص (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: ص سنیں, ص ترجمہ, ص mp3, ص pdf. آیت 2–6. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں