ص · 3/88
ترجمہ تلفظ — ص
كَمْ أَهْلَكْنَا مِن قَبْلِهِم مِّن قَرْنٍ فَنَادَوا وَّلَاتَ حِينَ مَنَاصٍ ۝٣
Kam ahlaknaa min qablihim min qarnin fanaadaw wa laata heena manaas
📖 اردو ترجمہ
ہم نے ان سے پہلے بہت سی اُمتوں کو ہلاک کردیا تو وہ (عذاب کے وقت) لگے فریاد کرنے اور وہ رہائی کا وقت نہیں تھا
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • کَم: کتنی ہی زیادہ (کثرت کے لیے استعمال ہوتا ہے
  • قَرْنٍ: امت، قوم، یا زمانہ (یہاں مراد وہ اُمتیں ہیں جو گزر چکی ہیں
  • فَنَادَوا: انہوں نے پکارا (چیخ و پکار کی، فریاد کی
  • وَلاَتَ: یہ "لَیس" کے معنی میں ہے، یعنی نہیں۔
  • حِینَ مَنَاصٍ: بھاگنے اور نجات پانے کا وقت۔ "مَنَاص" کا مادہ "نوص" ہے، جس کا مطلب ہے پیچھے ہٹنا یا فرار ہونا۔

تفسیر:

اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے کفارِ مکہ کو ایک عبرتناک حقیقت یاد دلاتے ہوئے فرمایا کہ اے مشرکو! تم سے پہلے کتنی ہی قومیں گزری ہیں جنہوں نے اپنے انبیاء کو جھٹلایا اور اللہ کی نافرمانی میں سرکشی کی۔ جب ان پر اللہ کا عذاب آیا اور ہلاکت نے انہیں گھیر لیا، تو وہ چیخ پکار کرنے لگے، استغاثہ کیا، فریاد کی، اور توبہ و نجات کی التجا کی۔ لیکن وہ وقت نجات کا وقت نہ تھا، نہ بھاگنے کا موقع تھا، نہ توبہ قبول ہونے کا زمانہ تھا۔ عذاب الٰہی جب آجاتا ہے تو پھر کوئی راہِ فرار باقی نہیں رہتی، نہ کوئی مدد گار کام آتا ہے۔

یہ آیت اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ اللہ کی پکڑ جب آتی ہے تو وہ نہ ٹلتی ہے اور نہ اس میں تاخیر ہوتی ہے۔ ماضی کی قومیں جب عذاب کے وقت پشیمان ہوئیں اور رونا دھونا شروع کیا، تو ان کا رونا دھونا کچھ کام نہ آیا، کیونکہ اللہ کا فیصلہ صادر ہوچکا تھا۔ یہی حال قیامت کے دن ہوگا جب کافر پشیمان ہوں گے اور نجات کی التجا کریں گے، لیکن وہاں بھی کوئی پناہ نہ ہوگی۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ اللہ کی رحمت کا دروازہ توبہ کے لیے ہمیشہ کھلا رہتا ہے جب تک عذاب نہ آجائے۔ اللہ تعالیٰ بڑا مہربان اور معاف کرنے والا ہے، وہ چاہتا ہے کہ بندے اس کی طرف رجوع کریں اور اپنے گناہوں سے توبہ کریں۔ لیکن جب موت آجائے یا عذاب نازل ہو جائے، تو پھر توبہ کا وقت ختم ہو جاتا ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم زندگی کے اس مہلت کے بھرے لمحات کو غنیمت جانیں، اپنے رب کی طرف پلٹیں، اپنے اعمال سنواریں، اور اس کی رحمت کے طلب گار بنیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں عقل اور سمجھ دی ہے، اور قرآن مجید میں پچھلی قوموں کے انجام بیان فرمائے تاکہ ہم عبرت حاصل کریں اور راہِ راست پر چلیں۔ یاد رکھیں، آج اگر ہم اللہ کی طرف رجوع کریں گے تو وہ ہمیں معاف کر دے گا، لیکن کل وہ وقت نہ ہوگا جب پکارنا بے سود ہوگا۔ اللہ ہمیں توفیق دے کہ ہم اپنی زندگیاں اس کی رضا کے مطابق گزاریں اور اس کے عذاب سے پہلے اس کی رحمت کا سہارا لیں۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 1-5 — ص

1ص ۚ وَالْقُرْآنِ ذِي الذِّكْرِ
ص۔ قسم ہے اس قرآن کی جو نصیحت دینے والا ہے (کہ تم حق پر ہو)
2بَلِ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي عِزَّةٍ وَشِقَاقٍ
مگر جو لوگ کافر ہیں وہ غرور اور مخالفت میں ہیں
3كَمْ أَهْلَكْنَا مِن قَبْلِهِم مِّن قَرْنٍ فَنَادَوا وَّلَاتَ حِينَ مَنَاصٍ
ہم نے ان سے پہلے بہت سی اُمتوں کو ہلاک کردیا تو وہ (عذاب کے وقت) لگے فریاد کرنے اور وہ رہائی کا وقت نہیں تھا
4وَعَجِبُوا أَن جَاءَهُم مُّنذِرٌ مِّنْهُمْ ۖ وَقَالَ الْكَافِرُونَ هَٰذَا سَاحِرٌ كَذَّابٌ
اور انہوں نے تعجب کیا کہ ان کے پاس ان ہی میں سے ہدایت کرنے والا آیا اور کافر کہنے لگے کہ یہ تو جادوگر ہے جھوٹا
5أَجَعَلَ الْآلِهَةَ إِلَٰهًا وَاحِدًا ۖ إِنَّ هَٰذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ
کیا اس نے اتنے معبودوں کی جگہ ایک ہی معبود بنا دیا۔ یہ تو بڑی عجیب بات ہے
صقرآن فہرست
88آیت
مکیRevelation
3آیت

ترجمہ — ص 3

سورہ ص آیت 3 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : ہم نے ان سے پہلے بہت سی اُمتوں کو ہلاک…

سورہ آیت 3/88 — ص ص (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: ص سنیں, ص ترجمہ, ص mp3, ص pdf. آیت 1–5. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں