ترجمہ — Tafsir
لیس بِأَمَانِیِّکُمْ وَلَا أَمَانِیِّ أَهْلِ الْکِتَابِ ۗ مَن یَعْمَلْ سُوءًا یُجْزَ بِهِ وَلَا یَجِدْ لَهُ مِن دُونِ اللَّهِ وَلِیًّا وَلَا نَصِیرًا
معانی الفاظ:
- أَمَانِیّ: خواہشیں، آرزوئیں، وہ باتیں جن کی صرف تمنّا کی جائے اور اس پر کوئی عمل نہ کیا جائے۔
- سُوءًا: برا کام، گناہ، بدی۔
- یُجْزَ بِهِ: اس کا بدلہ دیا جائے گا، اس کی سزا بھگتنی ہوگی۔
- وَلِیًّا: دوست، مددگار، سرپرست۔
- نَصِیرًا: مدد کرنے والا، بچانے والا۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اس آیتِ کریمہ میں ایک انتہائی اہم حقیقت بیان فرما رہے ہیں کہ نجات اور فضلِ الٰہی کا حصول محض خالی خواہشوں اور جھوٹی آرزؤوں سے ممکن نہیں، نہ تمہاری (اے مسلمانو!) اور نہ اہلِ کتاب (یہود و نصاریٰ) کی۔ یہود و نصاریٰ اپنے نبیوں کی نسبت سے فخر کیا کرتے تھے اور مسلمان بھی اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت پر نازاں تھے، لیکن اللہ تعالیٰ نے واضح فرما دیا کہ صرف نسبت اور تمنّا کسی کو نجات نہیں دلا سکتی، بلکہ اصل چیز ایمانِ صادق اور عملِ صالح ہے۔
یہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اللہ کے ہاں فیصلہ اسی بنیاد پر ہوگا کہ انسان نے کیا عمل کیا ہے، نہ کہ اس بنیاد پر کہ وہ کس گروہ یا قوم سے تعلق رکھتا ہے۔ پھر فرمایا: "جو شخص بھی برا کام کرے گا، اسے اس کا بدلہ دیا جائے گا۔" یہ ایک عام اور جامع حکم ہے جو ہر انسان پر لاگو ہوتا ہے، چاہے وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم۔ کافر کے لیے تو آخرت میں عذابِ جہنم ہے، اور مؤمن کے لیے اس کی غلطیوں کا کفارہ دنیا کی تکلیفوں، پریشانیوں اور مصیبتوں سے دیا جاتا ہے۔
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ آیت تو بہت سخت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اے ابوبکر! کیا تم غمگین نہیں ہوتے؟ کیا تم بیمار نہیں پڑتے؟ کیا تمہیں تکلیفیں اور پریشانیاں نہیں پہنچتیں؟ یہی اس کا بدلہ ہے۔" یعنی مؤمن کو جو بھی تکلیف پہنچتی ہے، وہ اس کے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے۔
پھر فرمایا: "اور وہ اللہ کے سوا اپنا کوئی ولی اور مددگار نہیں پائے گا۔" یعنی اس دن کوئی دوست اسے فائدہ نہیں پہنچا سکے گا، اور کوئی مددگار اسے عذاب سے نہیں بچا سکے گا۔ یہ بات انسان کو اللہ کے سامنے عاجزی اور انکساری سکھاتی ہے کہ وہ صرف اپنے رب پر بھروسہ کرے اور اس کی اطاعت میں اپنی زندگی گزارے۔
یہ آیت ہر مسلمان کے لیے ایک بیداری اور نصیحت ہے کہ وہ محض "مسلمان" کہلانے پر اکتفا نہ کرے، بلکہ اپنے ایمان کو عمل سے مضبوط کرے۔ جو شخص بھی برائی سے بچے گا اور نیکی کرے گا، اللہ اسے ضرور اجر دے گا۔ اور جو برائی کرے گا، اسے اس کا نتیجہ بھگتنا ہوگا۔ یہی اللہ کا عادلانہ نظام ہے، اور اس میں کسی قسم کی رعایت یا تعصب نہیں۔
لہٰذا اے مسلمان! اپنے رب سے محبت کا دعویٰ زبان سے نہ کرو، بلکہ اسے اپنے اعمال سے ثابت کرو۔ یاد رکھو، تمہاری نجات تمہارے اعمال پر منحصر ہے، نہ کہ صرف تمہاری خواہشوں پر۔ اللہ تعالیٰ ہمیں عملِ صالح کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں ان لوگوں میں شامل کرے جو اپنے رب کے سامنے جھک کر اس کی رضا حاصل کرتے ہیں۔ آمین۔
📜 آیت 121-125 — نساء
ترجمہ — نساء 123
سورہ نساء آیت 123 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : (نجات) نہ تو تمہاری آرزوؤں پر ہے اور نہ اہل…سورہ آیت 123/176 — نساء النساء (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: نساء سنیں, نساء ترجمہ, نساء mp3, نساء pdf. آیت 121–125. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








