Wa laa tankihoo maa nakaha aabaaa`ukum minan nisaaa`i illaa maa qad salaf; inahoo kaana faahishatanw wa maqtanw wa saaa`a sabeelaa
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور جن عورتوں سے تمہارے باپ نے نکاح کیا ہو ان نکاح مت کرنا (مگر جاہلیت میں) جو ہوچکا (سوہوچکا) یہ نہایت بےحیائی اور (خدا کی) ناخوشی کی بات تھی۔ اور بہت برا دستور تھا
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
با زنانى كه پدرانتان به عقد خويش درآوردهاند زناشويى مكنيد، مگر آنكه پيش از اين چنان كرده باشيد. زيرا اين كار، زنا و مورد خشم خدا است و شيوهاى است ناپسند.
اور جن عورتوں سے تمہارے باپ نے نکاح کیا ہو ان نکاح مت کرنا (مگر جاہلیت میں) جو ہوچکا (سوہوچکا) یہ نہایت بےحیائی اور (خدا کی) ناخوشی کی بات تھی۔ اور بہت برا دستور تھا
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
نکاح: عقد نکاح، شادی کرنا۔
ما نکح آباؤکم: جن عورتوں سے تمہارے باپ دادا نے نکاح کیا ہو۔
سلف: گزر چکا، پہلے ہو چکا (یعنی جاہلیت کے زمانے میں)۔
فاحشہ: بہت بڑا قبیح کام، بے حیائی اور برائی۔
مقت: شدید غضب اور نفرت، اللہ کی ناراضگی۔
ساء سبیلاً: بہت برا راستہ، انتہائی بری روش۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اس آیت میں ایک انتہائی اہم حکم بیان فرما رہے ہیں جو اسلام کی پاکیزہ تعلیمات کا حصہ ہے۔ فرمایا: "اور تم ان عورتوں سے نکاح نہ کرو جن سے تمہارے باپ دادا نے نکاح کیا ہو، سوائے اس کے جو پہلے گزر چکا ہے۔" یعنی جاہلیت کے زمانے میں جو کچھ ہو چکا تھا، اس پر مواخذہ نہیں، لیکن اب اسلام کے بعد یہ عمل قطعی حرام ہے۔
یہ حکم اس لیے دیا گیا کہ باپ کی بیوی سے نکاح کرنا انتہائی قبیح اور گھناؤنا فعل ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے "فاحشہ" قرار دیتے ہیں، یعنی یہ بڑی بے حیائی اور برائی ہے، اور "مقت" یعنی یہ ایسا کام ہے جو اللہ کے غضب اور نفرت کا باعث بنتا ہے۔ اس لیے کہ باپ کی عزت اور اس کا احترام مسلمانوں پر فرض ہے، اور اس کی بیوی اس کے لیے عزت اور حرمت کا مقام رکھتی ہے۔
یہ حکم دراصل اسلامی معاشرے کی پاکیزگی اور خاندانی نظام کی مضبوطی کے لیے ہے۔ اسلام چاہتا ہے کہ معاشرے میں حیا، عزت اور احترام کا ماحول ہو، اور ایسے تمام اعمال سے بچا جائے جو اللہ کی ناراضگی کا سبب بنیں۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اسلام ہر اس چیز سے روکتا ہے جو انسان کے لیے ذلت اور بربادی کا باعث ہو، اور ہر اس چیز کی طرف رہنمائی کرتا ہے جو عزت اور کامیابی کا ذریعہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر شفقت کرتے ہوئے ایسے تمام راستے بند کیے جو فطرتِ سلیم کے خلاف ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ کے احکام کو خوشی سے قبول کریں، کیونکہ انہی میں ہماری دنیا اور آخرت کی بھلائی ہے۔ جو شخص اللہ کے حکموں پر عمل کرتا ہے، وہ دنیا میں عزت پاتا ہے اور آخرت میں جنت کی نعمتوں سے ہمکنار ہوتا ہے۔ اللہ ہمیں اپنے احکام پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
اور اگر تم ایک عورت کو چھوڑ کر دوسری عورت کرنی چاہو۔ اور پہلی عورت کو بہت سال مال دے چکے ہو تو اس میں سے کچھ مت لینا۔ بھلا تم ناجائز طور پر اور صریح ظلم سے اپنا مال اس سے واپس لے لوگے؟
اور جن عورتوں سے تمہارے باپ نے نکاح کیا ہو ان نکاح مت کرنا (مگر جاہلیت میں) جو ہوچکا (سوہوچکا) یہ نہایت بےحیائی اور (خدا کی) ناخوشی کی بات تھی۔ اور بہت برا دستور تھا
تم پر تمہاری مائیں اور بیٹیاں اور بہنیں اور پھوپھیاں اور خالائیں اور بھتیجیاں اور بھانجیاں اور وہ مائیں جنہوں نے تم کو دودھ پلایا ہو اور رضاعی بہنیں اور ساسیں حرام کر دی گئی ہیں اور جن عورتوں سے تم مباشرت کر چکے ہو ان کی لڑکیاں جنہیں تم پرورش کرتے (ہو وہ بھی تم پر حرام ہیں) ہاں اگر ان کے ساتھ تم نے مباشرت نہ کی ہو تو (ان کی لڑکیوں کے ساتھ نکاح کر لینے میں) تم پر کچھ گناہ نہیں اور تمہارے صلبی بیٹوں کی عورتیں بھی اور دو بہنوں کا اکٹھا کرنا بھی (حرام ہے) مگر جو ہو چکا (سو ہو چکا) بے شک خدا بخشنے والا (اور) رحم کرنے والا ہے
اور شوہر والی عورتیں بھی (تم پر حرام ہیں) مگر وہ جو (اسیر ہو کر لونڈیوں کے طور پر) تمہارے قبضے میں آجائیں (یہ حکم) خدا نے تم کو لکھ دیا ہے اور ان (محرمات) کے سوا اور عورتیں تم کو حلال ہیں اس طرح سے کہ مال خرچ کر کے ان سے نکاح کرلو بشرطیکہ (نکاح سے) مقصود عفت قائم رکھنا ہو نہ شہوت رانی تو جن عورتوں سے تم فائدہ حاصل کرو ان کا مہر جو مقرر کیا ہو ادا کردو اور اگر مقرر کرنے کے بعد آپس کی رضامندی سے مہر میں کمی بیشی کرلو تو تم پر کچھ گناہ نہیں بےشک خدا سب کچھ جاننے والا (اور) حکمت والا ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔