اور تم دیا ہوا مال کیونکر واپس لے سکتے ہو جب کہ تم ایک دوسرے کے ساتھ صحبت کرچکے ہو۔ اور وہ تم سے عہد واثق بھی لے چکی ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
أَفْضَىٰ بَعْضُكُمْ إِلَىٰ بَعْضٍ: ایک دوسرے سے قریب ہونا، مجامعت کا کنایہ، ازدواجی تعلق اور خلوت۔
مِيثَاقًا غَلِيظًا: پختہ اور مضبوط عہد، جو نکاح کے موقع پر اللہ کے نام پر لیا جاتا ہے۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ بیوی کو طلاق دینے کے بعد اس کا مہر واپس لینے کے بارے میں سخت نکیر فرماتا ہے۔ سوال کے انداز میں استفہام انکاری ہے، یعنی یہ کیسے ممکن ہے کہ تم وہ مہر واپس لو جو تم نے اپنی بیوی کو دیا تھا، حالانکہ تمہارے درمیان ازدواجی تعلق قائم ہو چکا ہے، تم ایک دوسرے کے قریب ہوئے، محبت اور الفت کا رشتہ استوار ہوا، اور تم نے ایک دوسرے کے اسرار و رموز سے آگاہی حاصل کی۔ یہ کوئی معمولی معاملہ نہیں کہ اس کے بعد تم ان کے مال پر دست درازی کرو۔
مزید برآں، اللہ تعالیٰ یاد دلاتا ہے کہ عورتوں نے تم سے ایک پختہ اور مضبوط عہد لیا ہے — نکاح کا عہد، جو اللہ کے نام پر ہوتا ہے۔ یہ عہد صرف ایک رسمی معاہدہ نہیں، بلکہ ایک مقدس بندھن ہے جس میں شوہر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی بیوی کو عزت اور احترام کے ساتھ رکھے، یا اگر علیحدگی ہی کرنی ہو تو حسن سلوک کے ساتھ رخصت کرے۔ اس عہد کی پاسداری کا تقاضا ہے کہ مہر واپس لینے کا تصور بھی نہ کیا جائے، کیونکہ یہ ظلم، بے انصافی اور اللہ کے نام پر لیے گئے عہد کی خلاف ورزی ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ ہمیں سکھاتا ہے کہ ازدواجی زندگی محبت، اعتماد اور باہمی احترام پر قائم ہوتی ہے۔ یہ کوئی تجارتی لین دین نہیں کہ جب چاہا واپس لے لیا۔ اسلام عورت کو عزت دیتا ہے اور اس کے حقوق کی حفاظت کرتا ہے۔ اللہ کا یہ حکم دراصل معاشرے میں انصاف اور رحمت کا نظام قائم کرنے کے لیے ہے۔ جب ہم اس تعلیم پر عمل کریں گے تو گھر میں محبت اور سکون ہوگا، اور معاشرہ ظلم و زیادتی سے پاک ہوگا۔ یہی اسلام کا خوبصورت پیغام ہے — عورت کے ساتھ حسن سلوک اور اس کے حقوق کا تحفظ۔
مومنو! تم کو جائز نہیں کہ زبردستی عورتوں کے وارث بن جاؤ۔ اور (دیکھنا) اس نیت سے کہ جو کچھ تم نے ان کو دیا ہے اس میں سے کچھ لے لو انہیں (گھروں میں) میں مت روک رکھنا ہاں اگر وہ کھلے طور پر بدکاری کی مرتکب ہوں (تو روکنا مناسب نہیں) اور ان کے ساتھ اچھی طرح رہو سہو اگر وہ تم کو ناپسند ہوں تو عجب نہیں کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرو اور خدا اس میں بہت سی بھلائی پیدا کردے
اور اگر تم ایک عورت کو چھوڑ کر دوسری عورت کرنی چاہو۔ اور پہلی عورت کو بہت سال مال دے چکے ہو تو اس میں سے کچھ مت لینا۔ بھلا تم ناجائز طور پر اور صریح ظلم سے اپنا مال اس سے واپس لے لوگے؟
اور جن عورتوں سے تمہارے باپ نے نکاح کیا ہو ان نکاح مت کرنا (مگر جاہلیت میں) جو ہوچکا (سوہوچکا) یہ نہایت بےحیائی اور (خدا کی) ناخوشی کی بات تھی۔ اور بہت برا دستور تھا
تم پر تمہاری مائیں اور بیٹیاں اور بہنیں اور پھوپھیاں اور خالائیں اور بھتیجیاں اور بھانجیاں اور وہ مائیں جنہوں نے تم کو دودھ پلایا ہو اور رضاعی بہنیں اور ساسیں حرام کر دی گئی ہیں اور جن عورتوں سے تم مباشرت کر چکے ہو ان کی لڑکیاں جنہیں تم پرورش کرتے (ہو وہ بھی تم پر حرام ہیں) ہاں اگر ان کے ساتھ تم نے مباشرت نہ کی ہو تو (ان کی لڑکیوں کے ساتھ نکاح کر لینے میں) تم پر کچھ گناہ نہیں اور تمہارے صلبی بیٹوں کی عورتیں بھی اور دو بہنوں کا اکٹھا کرنا بھی (حرام ہے) مگر جو ہو چکا (سو ہو چکا) بے شک خدا بخشنے والا (اور) رحم کرنے والا ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔