ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- وَابْتَلُوا: آزمائش کرو، جانچو۔
- الْيَتَامَى: یتیموں (جن کے والد وفات پا چکے ہوں)۔
- بَلَغُوا النِّكَاحَ: نکاح کی عمر کو پہنچ جائیں، یعنی بالغ ہو جائیں۔
- آنَسْتُم: تم نے محسوس کیا، دیکھ لیا۔
- رُشْدًا: سمجھ داری، دین و دنیا کی بھلائی، مال کی حفاظت کی اہلیت۔
- إِسْرَافًا: حد سے تجاوز کرتے ہوئے، فضول خرچی سے۔
- وَبِدَارًا: جلدی کرتے ہوئے، جلد بازی سے۔
- أَن يَكْبَرُوا: اس خوف سے کہ وہ بڑے ہو جائیں (اور مال ان کے حوالے کرنا پڑے)۔
- فَلْيَسْتَعْفِفْ: تو اسے چاہیے کہ خود کو بے نیاز رکھے، یعنی مال نہ کھائے۔
- بِالْمَعْرُوفِ: مناسب طریقے سے، ضرورت کے مطابق۔
- فَأَشْهِدُوا: گواہ بناؤ۔
- حَسِيبًا: حساب لینے والا، کافی نگران۔
تفسیر:
اے اولیاء اور سرپرستو! یتیموں کی آزمائش کرو، یعنی انہیں موقع دو کہ وہ اپنی مالی معاملات میں تجربہ حاصل کریں، اور ان کی سمجھ داری اور دیانت داری کو پرکھو۔ یہ آزمائش اس وقت تک جاری رکھو جب تک وہ نکاح کی عمر یعنی بلوغت کو نہ پہنچ جائیں۔ جب وہ بالغ ہو جائیں اور تم ان میں رشد یعنی دین کی سمجھ اور مال کی حفاظت کی اہلیت دیکھ لو، تو ان کے اموال انہیں سونپ دو، بغیر کسی تاخیر کے۔
خبردار! ان کے مال کو حد سے تجاوز کرتے ہوئے، فضول خرچی سے نہ کھاؤ، اور نہ ہی اس جلد بازی میں کہ وہ بڑے ہو کر مال اپنے ہاتھ میں لے لیں گے، ان کے مال کو ہڑپ کرنے میں جلدی کرو۔ یہ بہت بڑی خیانت ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ اولیاء کو ہدایت دیتا ہے: جو ولی خود مالدار ہے، اسے چاہیے کہ یتیم کے مال سے بے نیازی اختیار کرے اور اسے ہرگز نہ کھائے۔ اور جو ولی فقیر اور محتاج ہے، وہ مناسب طریقے سے یعنی اپنی محنت اور مشقت کے مطابق، یا سخت ضرورت کی صورت میں، صرف بقدرِ حاجت کھا سکتا ہے، لیکن اس میں بھی حد سے تجاوز نہ کرے۔
اور جب تم یتیموں کے بالغ ہونے اور ان میں رشد پا لینے کے بعد ان کے مال انہیں سونپو، تو اس موقع پر گواہ بنا لو، تاکہ حقوق محفوظ رہیں اور کوئی جھگڑا یا انکار پیدا نہ ہو۔ یاد رکھو، اللہ تعالیٰ ہر چیز کا حساب لینے والا ہے، وہ تمہارے اعمال کا نگران اور گواہ ہے، اور وہی کافی ہے۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت کریمہ ہمیں سکھاتی ہے کہ اسلام دینِ رحمت ہے، جو کمزوروں اور یتیموں کے حقوق کی مکمل حفاظت کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یتیم کے مال کو امانت قرار دیا ہے اور اولیاء کو سخت تاکید کی ہے کہ وہ اس میں خیانت نہ کریں۔ یہ وہی تعلیم ہے جو ہمارے نبی کریم ﷺ نے دی، آپ خود یتیم تھے اور آپ نے یتیموں کی کفالت کرنے والے کو جنت میں اپنے ساتھ رہنے کی خوشخبری دی۔ آئیے ہم بھی اس سنت پر عمل کریں، یتیموں کی سرپرستی کریں، ان کے مال کی حفاظت کریں، اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک کریں تاکہ ہم اللہ کی رحمت اور رسول اللہ ﷺ کی قربت کے مستحق بنیں۔ یاد رکھیں، جو شخص یتیم کے مال کی حفاظت کرے گا، اللہ اسے دنیا اور آخرت میں بہترین بدلہ عطا فرمائے گا۔
📜 آیت 4-8 — نساء
ترجمہ — نساء 6
سورہ نساء آیت 6 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور یتمیوں کو بالغ ہونے تک کام کاج میں مصروف…سورہ آیت 6/176 — نساء النساء (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: نساء سنیں, نساء ترجمہ, نساء mp3, نساء pdf. آیت 4–8. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








